Loading...

انسانی فضلے سے فیول تیار کرنے کا منصوبہ

0

شہروں میں وسعت اور آبادی میں اضافے کے ساتھ فضلے کو تلف کرنا ایک بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے جس کے لیے کثیر رقم اور پیچیدہ تکنیک کی ضرورت ہے۔

تاہم برطانیہ میں اس فضلے کو ٹریٹ کر کے گاڑیاں چلانے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔

محدود پیمانے پر کیے جانے والے اس ابتدائی تجربے میں فیٹ برگ (کیچڑ) یعنی انسانی فضلے اور فیکٹریوں سے خارج ہونے والے چکنے ٹھوس مواد کو قابل استعمال بنانے پر کام کیا گیا۔

یہ کیچڑ سخت ہو کر نکاسی کی لائنوں کو بند کرنے کا سبب بنتا ہے جس سے شہروں میں کچرے اور آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ علاوہ ازیں یہ فراہمی آب کی لائنوں میں داخل ہو کر پانی کو آلودہ اور آبادی کی بڑی تعداد کو جان لیوا بیماریوں میں مبتلا کرسکتا ہے۔

اس کیچڑ کو پروسیسنگ پلانٹ میں ٹریٹ کیا گیا جس کے ذریعے اس میں سے مائع اور ٹھوس کو علیحدہ کیا گیا۔ اس کے بعد اسے صاف کر کے، گرم کرنے کے بعد ایسے کیمیکل کی آمیزش کی گئی جس سے یہ بائیو ڈیزل میں تبدیل ہوگیا۔

فی الحال اس ڈیزل کو عوامی بسوں میں بطور ایندھن استعمال کرنے کا سوچا جارہا ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق برطانیہ میں ہر ہفتے سیوریج سسٹم سے 30 ٹن فضلے اور چکنائی پر مشتمل کیچڑ اکٹھا کیا جاتا ہے جبکہ برطانیہ ہر سال 10 ہزار ٹن فیٹ برگ پیدا کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجربہ کامیاب ہوگیا تو مستقبل میں انسانی فضلہ اور فیکٹریوں کا زہریلا ٹھوس مواد شہروں کو توانائی فراہم کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

Waste products. Read more: https://t.co/NcHvSOz34o pic.twitter.com/FsM3lQCWAo

— World Economic Forum (@wef) July 18, 2017

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...