Urdu Khabrain
Urdu Khabrain is the world most populated Urdu News website. You can find and read daily Urdu news.

لمبے ناخن رکھنا

0

سوال: میں نے شوقیہ طور پر اپنے بائیں ہاتھ کے ناخن بڑھا رکھے ہیں، کیا ایسا کرنا گناہ ہے۔ ایسے لمبے ناخنوں کی موجودگی میں نماز ہو جاتی ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت کریں؟
جواب: ہمارا دین اسلام، دین فطرت ہے کیونکہ یہ انسان کے فطرتی تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ مونچھیں کترانے، داڑھی بڑھانے، مسواک کرنے، وضو کرتے وقت ناک میں پانی چڑھانے، کلی کرنے، ختنے کرانے، ناخن تراشنے، زیرناف بال مونڈنے، بغلوں کی صفائی کرنے، استنجاء کرنے اور بدن کی مختلف ہڈیوں کے جوڑ دھونے کو اسلام نے امور فطرت میں شمار کیا ہے۔ گویا ان کی صفائی کا اہتمام انسانی طبع کا تقاضا ہے اور ان میں سستی کا مظاہرہ گندگی پھیلانے کا باعث ہے۔ ان امور فطرت مین ناخن کاٹنا بھی شامل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناخن نجاست اور میل کچیل کو جمع رکھنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں، اس لئے انہیں تراشنے اور صاف رکھنے کا حکم ہے۔ ناخن بڑھے ہوئے ہوں تو دیکھنے میں بھی برے لگتے ہیں۔ لمبے ناخن رکھنا، انسانی فطرت سے بغاوت اور انبیاء علیہم السلام کی سنت سے روگردانی کرنا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی انسان غیر ضروری بالوں کی صفائی کرنا چھوڑ دے، ہاتھ منہ بھی نہ دھوئے۔ ناخن بڑھانا انسانی شیوہ نہیں بلکہ حیوانی خصلت ہے، اس لئے شریعت نے اس کی اجازت نہیں دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم گرامی ہے:
’’پانچ چیزیں فطری ہیں: مونچھوں کا کاٹنا، بغلوں کے بال اکھیڑنا، ناخن تراشنا، زیرناف بال صاف کرنا اور ختنہ کرنا۔‘‘ (نسائی، الطہارۃ: ۱۰)
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے، حیوانات کے ساتھ اس کی مشابہت اللہ تعالیٰ کو انتہائی ناپسند ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ بڑے ناخن کسی کو یا اپنے آپ کو زخمی کر سکتے ہیں۔ اس لئے فطرتِ سلیمہ کا تقاضا ہے کہ انہیں بڑھایا نہ جائے بلکہ زائد ناخن تراش دئیے جائیں۔ شریعت نے ان فطری امور کےلیے زیادہ سے زیادہ چالیس دن مقرر فرمائے ہیں۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان فطری امور کی صفائی کےلیے یہ مدت مقرر کی ہے کہ ہم چالیس دن سے زیادہ نہ گزرنے دیں۔(مسلم، الطہارۃ: ۲۵۸)
بدذوقی کی انتہا یہ ہے کہ آج کل بازار سے مصنوعی ناخن لے کر ان پیدائشی ناخنوں کے ساتھ لگا دئیے جاتے ہیں تا کہ دیکھنے میں زیادہ لمبے نظر آئیں۔ بہرحال شریعت نے انہیں کاٹنے کا حکم دیا ہے، اگر صفائی کا خیال رکھا جائے تو لمبے ناخنوں کی موجودگی میں نماز تو ہو جائے گی لیکن ناخن بڑھانے کا گناہ اپنی جگہ پر قائم رہے گا جو ایک مسلمان کے شایان شان نہیں۔ اس سلسلہ میں ایک ویڈیو بھی نیچے ہے مکمل دیکھیں اور شئیر کریں جزاک اللہ

Loading...

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تبصرے