Loading...

مکان کے دروازوں اورداخلی راستے پر قرآنی آیات لکھنا کیسا ہے؟

0

تفہیم المسائل

سوال :مکان کے دروازوں اورداخلی راستے پر قرآنی آیات لکھنا کیسا ہے ؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیے،(محمد احسا ن ، کراچی )

جواب : قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا مقدس کلام ہے اور اس سے اصل مقصود اس کے احکام کو سمجھ کر ان پر عمل کرنا ہے،اس کی تلاوت بھی بہت بڑی سعادت اورحصولِ ثواب کا ذریعہ ہے۔قرآن کا احترام واجب ہے۔ قرآن باعث برکت اور اعتقادی اور عملی اصلاح کا ذریعہ ہے۔یہ تمام ظاہری وباطنی عوارض کے لیے شفاہے ۔حصول برکت کے لیے آیات ِمبارکہ کو دیوار پر لکھناجائز ہے ‘ بشرطیکہ پاک رنگ ‘ چونے یا ایسے مواد کے ساتھ لکھی جائیں ، جوبارش وغیرہ سے اکھڑ کربہہ نہ جائے یا تانبے ، لوہے یا پلاسٹک کی شیٹ پر لکھ کر اسکرو سے دیوار پر ٹائٹ کر دیا جائے۔ اگرکسی رنگ سے دیوار پر لکھی گئی ہوںاور دوبارہ اس جگہ پر رنگ کرنے کے لئے کھر چناپڑے، توان ذرّات کو کسی پاک جگہ دفن کردیاجائے۔ وہ جگہ بلندی پر اور قابل ِ احترام ہو ‘ اس پر کوئی ناپاک چیز لگنے کا خدشہ نہ ہو۔

علامہ نظام الدین لکھتے ہیں :ترجمہ :’’اگر قرآن مجید کی آیات دیواروں پر لکھی جائیں، تو بعض فقہاء نے اس کے جواز کا قول کیا ہے اور بعض فقہاء نے اس اندیشے کے پیشِ نظر مکروہ قرار دیا ہے کہ اس کے ذرّات (یعنی چونے یا رنگ کے ذرّات ) لوگوں کے پائوں میں گریں گے (اور بے ادبی ہوگی)، فتاویٰ قاضی خان میں اسی طرح ہے ، ( فتاویٰ عالمگیری ، جلد :5 ،ص : 323 ) ‘‘۔پس اگر اس امر کا اہتمام کرلیاجائے کہ اس کے ذرّات نیچے نہ گریں تو کراہت اٹھ جائے گی، نیز اگر کبھی دوبارہ رنگ کرنا ہو تو اسے کھرچ کر کسی محفوظ جگہ دفن کردیاجائے اور جہاں آیتیں لکھی ہو ں ،وہاں بے وضو ہاتھ نہ لگائیں ۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ترجمہ :’’ اسے نہ چھوا کریں ‘ مگر پاک لوگ !‘‘ ( الواقعہ : آیت : 79) ‘‘۔بعض مکانوں کا رخ گندی گلی کی طرف ہوتاہے لہٰذا اس طرف آٖیات کا لکھنا بھی خلاف اد ب ہو گا کہ وہ مقام محترم نہیں سمجھا جاتا ۔ اسی طرح مساجد کے استنجاخانوں کی طرف بھی نہ لکھی جائیں ۔ اگر وضوخانہ استنجا خانے سے الگ ہو تواس کی دیواروں پر مسنون دعائیں لکھی جاسکتی ہیں ‘ تاکہ لوگ متوجہ ہوں او ر پڑھ کر اجر پائیں ۔ یادرہے کہ حصول برکت کے لیے آیات کا لکھنا اگرچہ جائز ہے ،لیکن شریعت کا اصل مقصود مطلوب قرآن مجید کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کرنا اور اس کے احکام پر عمل کی سعادت حاصل کرنا ہے۔مسلمانوں کو چاہئے کہ اسی کو اپنا شِعار بنائیں۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...