Loading...

"WHALES" کے روح رواں ’وہاج حسین‘ سے خصوصی گفتگو

0

پینل انٹرویو: نجم الحسن عطاء، فاروق انصاری، لیاقت جتوئی، رابعہ شیخ

شہر کراچی میں نجی تعلیمی اداروں کی بات کریں تو گزشتہ چند سال کے دوران ایک نام وہاج حسین کا اُبھر کر سامنے آیا ہے۔ وہاج حسین ویسے تو دو دہائیوں سے اس شہر میں مختلف کرداروں میں تعلیمی خدمات سرانجام دینے کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتے ہیں، تاہم 2011میں جب انھوں نے وہاج حسین ایڈوانسڈ لیول ایجوکیشن سسٹم کا آئیڈیا متعارف کرایا تو یہ نظام کافی منفرد ثابت ہوا۔ یہ نظام تھا ٹیوشن کلچر کے خاتمے کا۔ آج وہاج حسین کے تین کیمپس ہیں۔ او لیول اسکول، اے لیول کالج اور جونیئر اسکول۔ وہاج حسین، اس شہر میں تعلیم کا نظام کیسے بدل رہے ہیں، یہ جاننے کے لیے ہم نے ان کے ساتھ ایک تفصیلی نشست رکھنے کا فیصلہ کیا۔

جنگ :وہاج حسین ایڈوانسڈ لیول ایجوکیشن سسٹم(WHALES) آ پ نے بڑا منفرد نام رکھا ہے اپنے تعلیمی ادارے کا۔ کیا آپ ہمیں بتاسکتے ہیں کہ اپنے نام کی طرح اس تعلیمی ادارے کے ذریعے آپ تعلیمی شعبے میں کوئی تبدیلی لانے میں کامیاب ہوسکے ہیں؟

وہاج حسین: جی بالکل، میں آپ کو بتاؤں گا کہ ہم کراچی شہر میں،تعلیم کے شعبے میں کس طرح بڑی تبدیلی کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔یہ کام ہم صرف اپنے لیے نہیں کررہے، یہ پورے معاشرے میں مثبت تبدیلی لارہا ہے۔ دراصل، ہمارے معاشرے میں کئی طرح کی برائیاں موجود ہیں، جن میں سے کچھ برائیوں کو ہم مانتے ہیں اور کچھ سے انکاری رہتے ہیں۔ ٹیوشن کلچر ہمارے معاشرے کی چند بڑی برائیوں میں سے ایک ہے۔ بدقسمتی سے اس معاشرتی برائی پر بہت کم لوگ بات کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں، پرائیویٹ ایجوکیشن کا ایسا نظام بنادیا گیا ہے، جس میں ٹیوشن کے بغیرطلبا اور والدین کا گزارا ہی نہیں ہوتا۔ کم وبیش ہر طالب علم کو ٹیوشن کا محتاج بنادیا گیا ہے۔ میٹرک، انٹر کے بہت سارے بچے اسکول، کالج نہیں جاتے،بلکہ ٹیوشن سینٹر پر تیاری کرتے ہیں۔کئی پرائیویٹ اسکولز کے اکثر بچے شام میں ٹیوشن کے بغیر آگے نہیں بڑھ پاتے۔اس کا نقصان یہ ہورہا ہے کہ والدین کی ماہانہ آمدنی کا ایک خاص حصہ اسکول کو جاتا ہے،جب کہ ایک قابل ذکر رقم ٹیوشن میں بھی دینی پڑتی ہے۔ اس طرح متوسط طبقے کے والدین کے پاس بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے بعدگھر کے دیگر اخراجات برداشت کرنے اور معاملات چلانے کے لیے رقم ہی نہیں بچتی۔

جنگ: آپ خود بھی تو ٹیوشن سینٹر چلاتے رہے ہیں۔ نہیں؟

وہاج حسین: جی بالکل درست بات ہے یہ۔ وہاج حسین Aptitude Testسینٹر کے نام سے2003میں ہم نے ایک کیمپس کھولا۔ ہماری سوچ یہ تھی کہ تعلیم کے اس میدان میں کام کیا جائے، جہاں واقعی ضرورت تھی۔ اسی بات کو محسوس کرتے ہوئے ہم نے LUMS، آئی بی اے، ڈاؤ میڈیکل اور این ای ڈی کے Aptitude ٹیسٹ کی تیاری کے لیے پہلا بیچ شروع کیا۔ میں نے لمز اور آئی بی اے کا Aptitude ٹیسٹ پاس کرنے کے لئے کتاب بھی لکھی تھی۔ وہ کتاب پڑھنے کے بعد کسی بھی Aptitude ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرنا بہت آسان بن جاتا تھا۔

جنگ: آپ کا آئیڈیا تو بڑا اچھا تھا۔ تاہم بعد میں آپ او/اے لیول اسکول کی طرف آگئے۔ کیوں؟

وہاج حسین:یہ 2011کی بات ہے، جب میں نے دیکھا کہ پرائیویٹ ٹیوشن کا رجحان ہمارے نظام تعلیم میں پوری طرح جڑیں پکڑچکا ہے۔زیادہ تر بچے اسکول اور کالج میں وقت برباد کرتے ہیں اور شام میں ٹیوشن پڑھتے ہیں۔یہی وقت تھا، جب میں نے صبح میں اسکولنگ کا ایک ایسا نظام متعارف کرانے کے بارے میں سوچا، جو بیک وقت اسکول اور ٹیوشن کی خصوصیات لیے ہوئے ہو۔ اسکول کی کچھ اچھی چیزیں ہوتی ہیں۔ سوشلائزنگ ، ٹیسٹ سسٹم اور ایگزامنیشن سسٹم۔ ٹیوشن کی اچھی چیزیں یہ ہوتی ہیں کہ ٹیوٹر انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں بہت ہی ایمانداری سے ہر بچے پر مساوی توجہ دیتا ہے اور ہر بچے کا مسئلہ حل کراتا ہے ، جس کے نتیجے میں بچے امتحان باآسانی کلیئر کرجاتے ہیں۔ ٹیوشن سینٹرمیں ڈریس کوڈ کی پابندی بھی نہیں ہوتی۔ اسی سوچ کے ساتھ، میں نے 2011میں گلستان جوہر میں او/اے لیول کا ہائبرڈ سسٹم متعارف کرایا ۔ بنیادی طور پر، میں نے یہ پروگرام ان بچوں کے لیے بنایا تھا جو پرائیویٹ تعلیم حاصل کررہے تھے اور اسکول نہیں جانا چاہتے تھے۔ تھوڑے ہی عرصے میں یہ ہونے لگا کہ وہ بچے جو بڑے بڑے نامی گرامی اسکولز میں زیر تعلیم تھے، انھوں نے ان اسکولز کو چھوڑ کر ہمارے پاس داخلہ لینا شروع کردیا۔ برٹش کونسل میں اس بات پر مجھے بڑے ناموں والے اسکولز کی انتظامیہ سےمخالفت کا سامنابھی کرنا پڑا کہ ایک کوچنگ سینٹر کو کیمبرج تعلیم کے لیے رجسٹریشن کیوںدیا گیا ہے۔ہم نے ان اسکولز کی مخالفت کو غلط ثابت کردکھایااورآج کیمبرج والے ہماری کوششوں کے معترف ہیں۔

سوال: ایسی کیا خاص بات تھی اور ہے آپ کے ہاں کہ طلبا بڑے نامی گرامی تعلیمی اداروں کو چھوڑ کر آپ کے پاس تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے لگے؟

وہاج حسین: میں آپ کو بڑے فخریہ انداز میں بتارہا ہوں کہ وہاج حسین ایجوکیشن سسٹم میں ہم نے ٹیوشن کوتقر بیاً ختم کردیا ہے۔ ہم نے اسکول اور ٹیوشن کی خصوصیات کو یکجا کر کے ایسا نظام وضع کیا ہے کہ ہمارے طلبا کو شام میں ٹیو شن کی ضرورت ہی محسوس نہیںہوتی ۔ ہمارے یہاں پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا کوئی بچہ ٹیوشن نہیں پڑھے گا۔ ہم ہر ایک بچے پر اسکول میں اتنی توجہ دیتے ہیں، جتنی اسے شاید ٹیوشن سینٹر میں بھی نہیں ملے گی۔ ہم ٹیوشن ختم کرکے، والدین کی ہر ماہ کئی ہزار روپے کی بچت کررہے ہیں۔

جنگ: یقیناًٹیوشن والدین پر مالی اور بچوں پر اضافی وقت دینے کے لحاظ سے ایک بڑا بوجھ ہے، جسے ختم ہونا چاہیے لیکن بہتر مستقبل کے لیے والدین اور بچے یہ کڑوا گھونٹ پینے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں آپ نے والدین کو کیسے اس بات پر راضی کیا کہ وہ آپ کے ہاں بچوں کو داخل کریں، جہاں ٹیوشن کی بھی اجازت نہیں ہے؟

وہاج حسین: آپ نے بالکل ٹھیک سوال اُٹھایا ہے کہ والدین اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر کڑوا گھونٹ پینے پر مجبور ہیں۔ ہم نے یہ مائنڈسیٹ بدلنے کا بیڑا اُٹھایا ہے،جس میں ہم کامیاب بھی ہورہے ہیں۔ مائنڈ سیٹ کے خلاف ہماری یہ جنگ اب بھی جاری ہے۔ جیساکہ پہلے عرض کیا، ہم نے اپنے نصاب کو اس طرح سے ترتیب دیا ہے کہ اس میں اسکول اور ٹیوشن کی دونوں خو بیاں پائی جاتی ہیں، جسے ممکن بنا نے کے لیے ہمارے ٹیچرز بے حد جانفشانی سے کام کر تے ہیں، جس کا منہ بولتا ثبوت ہمارے گزشتہ برسوں کے رزلٹس ہیں، جسے دیکھتے ہوئے والدین ہم پر بھروسہ کرتے ہیں اور ہمارے پاس اپنے بچوں کے داخلے کرواتے ہیں۔

سوال: سچ پوچھیں تو تھیوری میں آپ کی تعلیمی نظام بدلنے کی بات انتہائی پرکشش معلوم ہوتی ہے لیکن عملاً یہ اتنا آسان نہیں۔ آپ کیسے کررہے ہیں یہ سب؟

وہاج حسین: ہم جو کام کررہے ہیں، وہ کوئی نہیں کررہا۔ ہم نصابی تعلیم کو زیادہ سے زیادہ وقت دیتے ہیں۔دیگر تعلیمی اداروں کے برعکس ہم ، سی آئی ای کا رزلٹ آنے سے پہلی ہی یکم اگست سے تعلیمی سال شروع کردیتے ہیں۔ بچوں نے او/اے لیول تو کرناہی ہے، رزلٹ چاہے بعد میں آئے۔اس کے علاوہ دسمبر کو ہم مکمل طور پر استعمال کرتے ہیں۔اپریل میں Mockلیتے ہیں۔ اس طرح ہم دیگر تعلیمی اداروں کے مقابلے میں اپنے بچوں کو 40%زیادہ پڑھا تے ہیں۔

جنگ:آپ کی کوششیں یقیناً قابل تعریف ہیں۔ ایک بات واضح کردیں۔ آپ نے خود کہا کہ ٹیچرز، بچوں کو شام میں ٹیوشن سینٹر بلالیتے ہیں۔ یہ کام تو آپ کے ٹیچرز بھی کرسکتے ہیں۔ ان پر آپ کیسے نظر رکھتے ہیں؟

وہاج حسین:یہ آپ کا بہت ہی اہم سوال ہے۔ کچھ اسکولوں میں ایک ٹیچر اسکول کے بچوں کا گروپ بناتا ہے اور شام میں ٹیوشن سینٹر بلالیتا ہے۔ میں یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ ہمارے اسکول میں، کوئی ٹیچرایسے کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں خود ٹیچرز کی اسکریننگ کرتا ہوں۔ جو ٹیچرز شام میں ٹیوشن پڑھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں، انھیں کہتا ہوں کہ آئیں ہمارے ٹیوشن سینٹر میں آکر پڑھائیں۔ہمارے اسکول کے ٹیچرز شام میں صرف ہمارے ہی ٹیوشن سینٹر میں پڑھا سکتے ہیں۔ اور ہمارے ٹیوشن سینٹر میں وہ اپنے ا سکول کے بچوں کو نہیں پڑھا سکتے۔تو اس طرح سے ہم نے ٹیوشن کے دروازے بند کروادیے ہیں۔یہ میں نے ایک منفرد بزنس ماڈل تخلیق کیا ہے۔

جنگ: یہ تو ہوگئی ٹیچرز کی بات کہ آپ نے ایسا نظام بنادیا کہ آپ کے ٹیچرز اپنے بچوں کو ٹیوشن پڑھانا بھی چاہیں تو نہیں پڑھاسکتے۔ لیکن اگر کسی بچے کو ٹیوشن کی ضرورت محسوس ہوتو وہ کیا کرے؟

وہاج حسین:جی۔ زیادہ تر لوگوں کو نہیں پتہ کہ بچے ٹیوشن کیوں پڑھتے ہیں۔ میں چوں کہ خود ٹیوشن سینٹر چلاتا رہا ہوں تو میں یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں۔ ہوتا یہ ہے کہ، کچھ کیمسٹری کے چیپٹرز ہوتے ہیں، کچھ فزکس کے چیپٹرز ہوتے ہیں، جہاں آکر بچے پھنس جاتے ہیں۔ ہم ان چیپٹرز کی Revisionکا اسکول میں ہی بندوبست کرتے ہیں۔ویک اینڈ کلاس کے نام پر، Revision کلاس کے نام پر، ورکشاپ کے نام پر وغیرہ وغیرہ۔ ان اضافی کلاسز میں ہم ان ہی چیپٹرز کوفوکس کرتے ہیں، جو ان بچوں کو ٹیوشن سینٹر کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس طرح ہم نے بچوں کے ٹیوشن سینٹر جوائن کرنے کی وجہ بھی ختم کردی ہے۔

جنگ: کیا آپ اپنے طلبا کی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے کئے جانے والے اقدامات پر کچھ روشنی ڈالنا چاہیں گے؟

وہاج حسین: اگرچہ ہمارا ادارہ کچھ نیا ہے مگر الحمداللہ تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی ہمارے ادارے کا طرہ ِامتیاز ہے۔ جیسے امسال نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے 50طلبا کو بطور انعام لیپ ٹاپ دیے گئے۔230کے قریب طلبا کو شیلڈز، میڈلز اور سرٹیفکیٹ دیے گئے، قابلیت کی بنیاد پر بڑی خطیر رقم بطور اسکالرشپ دی جاتی ہے۔ کھیل کے میدان میں بھی ہمارے طلبا کسی سے کم نہیں۔ ہمارے پاس ٹیبل ٹینس، فٹ بال، تھروبال اور ہاکی کی ٹرافیاں موجود ہیں۔

جنگ: ٹیوشن کلچر کو ناپسند کرتے ہیں، اپنا ٹیوشن سینٹر بھی چلارہے ہیں۔ یہ تضاد کیوں؟

وہاج حسین:بات بالکل صحیح ہے کہ اسکول کے ساتھ ساتھ ٹیوشن سینٹر ابھی بھی چل رہے ہیں۔ اصل میں اس کی بنیادی وجہ دوسرے اسکو لوں کے وہ بچے ہیں، جنھیںاپنے امتحانات پاس کرنے کے لیے شام میں پڑھائی کی اشد ضرورت ہے۔ جیسے جیسے ہمارا تعلیمی فلسفہ راسخ ہو جائے گا ،شام کے یہ ادارے خودبخود اپنا وجود کھو بیٹھیں گے۔

جنگ: آپ کے پاس سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباکا کیا مستقبل ہے؟

وہاج حسین:ہمارے بہت سارے طلبااس وقت آئی بی اے، نسٹ، فاسٹ، جی آئی کے، این ای ڈی، DUHS اور JSMU جیسے نامور ملکی اداروں کے ساتھ ساتھ کئی نامور غیرملکی یونیورسٹیز میں بھی زیر تعلیم ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...