Urdu Khabrain
Urdu Khabrain is the world most populated Urdu News website. You can find and read daily Urdu news.

سنہری مواقع کی سرزمین، اِک نئی دنیا کا سفر

0

خواب، رات کے علاوہ دن میں بھی دیکھے جاتے ہیں۔ نیند میں دیکھے جانے والے خوابوں کی تومختلف تاویلیں، تعبیریں بیان کی جاتی ہیں۔کبھی پریشان خیالی اور کم خوابی سے منسوب کیا جاتا ہے، تو کبھی بعض فکری، جسمانی دبائو، میلانات، اعتقادات اور جبلّی خواہشات کو ان کا محرّک گردانا جاتا ہے۔ہم یہاں جن خوابوں کا ذکر کررہے ہیں، وہ دن کے وقت دیکھے جانے والے خواب ہیں۔ ’’دن میں خواب دیکھنا‘‘ دراصل اردو محاورہ ہے، جس کا مطلب ہے، ہوائی قلعے تعمیر کرنا، یعنی ناممکن چیزوں کے حصول کا تصوّر۔ کہا جاتا ہے کہ شاعرِ مشرق، علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا تھااور یہ خواب انہوں نے سوتے میں نہیں دیکھا تھا، بلکہ یہ دن کی روشنی میں سوچا سمجھا ایک تصوّر تھا، جو آگے چل کر حقیقت بنا۔ اس لیے اچھے اچھے خواب دیکھنے چاہئیں اور پھر ان میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے محنت اور جدوجہد بھی کرنی چاہیے۔

دیگر بہت سے افراد کی طرح ہماری بھی عملی زندگی کا ابتدائی دور تنگی ترشی میں گزرا۔ معمولی ملازمت میں ایک چھوٹے کنبے کی کفالت آسان کام نہ تھا۔ پہلے کرائے کے گھر میں رہتے تھے۔ پھر ایک رہایشی اسکیم میں ماہ وار قسط پر ایک پلاٹ الاٹ ہوگیا۔ مکان کی تعمیر کا مرحلہ آیا، تو ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن سے دس ہزار روپے قرض لیا اور کچّی پکّی اینٹوں سے مکان نما ڈھانچا کھڑا کرلیا۔ چھت کی تعمیر کے لیے پیسے ندارد۔ چناں چہ کچھ پکڑ دھکڑ کرکے لوہے کے شہتیر اور لکڑی کے ٹیڑھے میڑھے تیر جنہیں عرفِ عام میں بالے کہا جاتا ہے، لے آئے۔ ان کے اوپر ٹائلز جوڑ کر احتیاطاً لُک بھی ڈال دی تا کہ سوراخ بند ہوجائیں۔ پھر کچھ مٹی ڈال کر لیپائی کردی۔ یوں مرزا اسداللہ خان غالب کے گھر کی چھت کی طرح ہماری بھی چھت تعمیر ہوگئی۔ بقول غالب،’’ مینہ دو گھنٹے برستا، تو چھت چار گھنٹے برستی تھی۔‘‘ ہمارے گھر کی چھت کی کیفیت بھی بعینہ یہی تھی۔ چوں کہ چھت ہم وار نہ تھی اس لیے اس پر بارش کا پانی کھڑا ہو جاتا اور تادیر نیچے ٹپکتا رہتا۔ جب بھی بارش ہوتی، لوگ موسم کا لطف اٹھاتے، ہم بالٹی میں مٹی بھر کرچھت پر چڑھ جاتے اور نیچی جگہوں پر مٹّی ڈالتے۔ بار بار کی یہ بیگار اور اذیت ہماری روح جلاتی اور آنکھوں سے بارش بن کر برستی۔ بہرحال، یہ مشقِ لاحاصل اور قرض کی ادائیگی کا عرصہ کم و بیش دس برس رہا۔ اس دوران ملازمت میں ترقی بھی ہوگئی، لیکن تنگ دستی ختم نہ ہوئی۔ ہمیں یاد ہے، ہم نے پہلی موٹر سائیکل بھی قسطوں پر خریدی۔ ہمارا ایک بھائی امریکا اور دوسرا سعودی عرب میں بہ سلسلہ ملازمت مقیم تھا۔ ان کے کنبے خوش حالی کی زندگی گزار رہے تھے۔ اوربس، یہی وہ حالات تھے، جب ہم نے بھی خواب دیکھنے شروع کیے۔ نیک نیتّی اور محنت سے کام کرنے والے کو ایک دن اپنے خوابوں کی تعبیر ضرور ملتی ہے اور اس کے رزق، عزت اور سکون میں وسعت و کشادگی آہی جاتی ہے۔

ایک دن ہم دفتر میں بیٹھے تھے کہ ایک مراسلے پر نظر پڑی۔ یہ روٹری انٹرنیشنل کلب کی طرف سے مختلف اداروں کو لکھا گیا تھا۔ اس تنظیم کے مختلف ممالک میں کئی تعلیمی و فلاحی پروگرام چل رہے تھے۔ انہیں پاکستان بھر سے پانچ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تلاش تھی، جنہیں امریکا کے مطالعاتی دورے پر بھیجنا مقصود تھا۔ خوش قسمتی سے ہم تعلیم اور عمر کی مطلوبہ شرائط پرپورے اترتے تھے۔ پہلا انٹرویو فیصل آباد میں ہوا۔ دوسرے کے لیے لاہور بلایا گیا۔ کوئی ایک ماہ بعد خوش خبری ملی کہ پانچ افراد کی ٹیم میں ہمیں بھی منتخب کرلیا گیا ہے۔ یہ انتخاب، درحقیقت ہمارے ان خوابوں کی ناقابلِ یقین تعبیر تھی، جو ہم دن میں دیکھا کرتے تھے۔ بہرحال، شدیدمالی بحران درپیش ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے کرم سے ایک ماہ کے اندر پاسپورٹ، ویزا، مطلوبہ کرنسی اور محکمانہ چھٹی کے معاملات طے ہوگئے اور ہم اپنے ساتھیوں اور ٹیم لیڈر کے ساتھ اپریل 1982 ء میں امریکا کے لیے عازمِ سفر ہوئے۔ پہلی بار ہوائی جہاز میں سوار ہوئےتھے۔ جہاز کا ائرکنڈیشنڈ ماحول اور ہلکی ہلکی موسیقی بہت بھلی لگی۔ ہمارے لیے تووہ جہاز اس طلسماتی قالین کی مانند تھا، جو الف لیلوی داستانوں میں شہزادے کو پرستان لے جایا کرتا تھا۔ بہرکیف، کراچی سے آٹھ گھنٹے کے سفر کے بعد ہم پیرس کے چارلس ڈیگال ائرپورٹ پر جا اترے، جو ہماری پہلی منزل تھی۔ پیرس میں ہمارا تفریحی قیام 72گھنٹوں کے لیے تھا۔

ائرپورٹ سے باہر نکلے، تو صبح کی خوش گوار دھوپ پھیلی ہوئی تھی اور درجہ حرارت بیس درجے سینٹی گریڈ سے بھی کچھ کم تھا۔ ہمارا ایک دن کا قیام ائرفرانس کے ذمّے تھا، اس لیے ائرلائن کی گاڑی ہمیں شہر کے اندر ایک ہوٹل میں لے آئی۔ سب نے کچھ دیر آرام کیا، شام کو شہر دیکھنے نکلے۔ کچھ مٹر گشت کے بعد ایک سنیما نظر آیا، چوں کہ ہم فرانسیسی زبان سے نابلد تھے، لہٰذا محض فلم کے نام سے کہانی کے بارے میں کچھ اندازہ نہ ہوا، بس ٹکٹ لے کر ایک ہال میں گھس گئے۔ اندر کسی کے چیخنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ فلم کا کوئی باقاعدہ آغاز اور انجام نہیں تھا۔ اس لیے ایک گھنٹے بعد ہی باہر آگئے۔ مزید کسی مہم جوئی کے بغیر ایک جگہ کھانا کھایا اور ہوٹل واپس ہولیے۔ اگلے دو دن کے لیے سب کو انفرادی قیام کرنا تھا، چناں چہ ہم ٹیکسی لے کر ایک دوست کے پاس پہنچ گئے، جس نے دو روز ہمیں پیرس کی خوب سیر کروائی۔ صاف ستھرا خوب صورت شہر، جگہ جگہ پھولوں کے تختے اور ہریالی۔ دریائے سین کے کنارے مشہورِ زمانہ ایفل ٹاور دیکھا۔ اس وقت ٹاور سیّاحوں کے لیے بند تھا۔ سو، اس کے سامنے محض تصاویر لینے پر اکتفا کیا، پھر شان دار سی کشتی میں بیٹھ کر دریا کی سیر کی۔ دریا کے ساتھ ساتھ معروف اور تاریخی عمارتیں اِستادہ ہیں۔ پیرس کی زمین دوز میٹرو ٹرین میں کئی بار سفر کیا۔ قیام کے تیسرے دن ہم نے شہر پر الوداعی نظر ڈالی اور ساتھیوں سمیت نیویار ک جانے والی پرواز پکڑلی۔

بحرِاوقیانوس کے اوپر آٹھ گھنٹے کی پرواز کے بعد نیویارک کے جے ایف کینیڈی ائرپورٹ اترے اور تھوڑی ہی دیر میں ریاست میسا چوسٹس کے دا رالخلافہ، بوسٹن جانے والی پرواز میں سوار ہوگئے۔ بوسٹن ائرپورٹ پر روٹری ڈسٹرکٹ 791 کے صدر اور دیگر روٹیرین استقبال کے لیے موجود تھے۔ ہمارے کوائف پہلے ہی ان کے پاس پہنچ چکے تھے اور وہ یہ فیصلہ کرکے آئے تھے کہ کون کسے اپنے گھر لے جائے گا۔ یہ پروگرام کا حسن انتظام تھا کہ ٹیم کے ارکان کو کبھی کسی جگہ اکٹھے نہیں ٹھہرایا گیا، بلکہ سب کو الگ الگ میزبانوں کے ہاں قیام کا موقع دیا گیا۔ اسی طرح کسی کلب ڈنر میں بھی ایک میز پر بٹھانے کی بجائے الگ الگ میزوں پر بٹھایاجاتا، تاکہ سب کا ربط و ضبط زیادہ سے زیادہ مقامی افراد کے ساتھ ممکن بنایا جاسکے اور اجتماعی ملاقاتوں کے ساتھ انفرادی میل جول اور دوستی کو فروغ ملے۔ پھر ہمارا میسا چوسٹس ریاست میں روٹری ڈسٹرکٹ 791 کا چھے ہفتے کا دورہ شروع ہوا۔ ہم نے آگٹن، گرے ٹن، لٹل ٹن، فرینکلن، سائوتھ برج، فچ برگ، نیوٹن، ویسٹ وڈ اور ڈیڈہم سمیت دیگربہت سے روٹری کلبز کے دورے کیے۔ ہر جگہ عزت و احترام کے ساتھ ہماری پزیرائی اور مہمان نوازی کی گئی۔ میزبان کلب کے روٹیرین ہمارے ذاتی میزبان ہوتے تھے، جو قیام، خوراک وغیرہ کی ذمّے داری نبھاتے۔کلب کے اجلاسوں میں ہم اپنے تعارف کے ساتھ بہ طورِخاص پاکستان کا تعارف کرواتے اور ایک سفیر کے طور پر اپنے ملک کی نمائندگی کرتے۔ کسی بھی جگہ عموماً ہمارا قیام دو تین دن سے زیادہ نہیں ہوتا تھا۔ دوسرے یا تیسرے روز ہمارے میزبان ہمیں کسی دوسرے روٹری کلب کے حوالے کردیتے۔ اس طرح ہاتھوں ہاتھ منتقل ہوتے ہم نے چھے ہفتےگزار دیئے۔ اس دوران ہمارے میزبانوں نے بہت سے اہم مقامات اور اداروں کی مطالعاتی سیر کروائی۔ اپنے قیام کے دوران ہمیں درجنوں اسکولز، کالجز، اسپتالز، عجائب گھر، ریسرچ سینٹرز، پریس براڈ کاسٹنگ ایجنسیز، صنعتی اداروں اور تفریحی مقامات دیکھنے، خصوصاً امریکی تہذیب و ترقی کا بہ چشم خود مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ ہم جہاں بھی گئے، وہاں کلب ممبرز کے علاوہ ممتاز مقامی افراد بھی ہم سے ملنے آتے یا ہمیں اپنے ہاں آنے کی دعوت دیتے۔ نیز،ہر جگہ مقامی اخبارات ہمارے دورے کی خبریں اور تصاویر شہ سرخیوں کے ساتھ شایع کرتے۔

ہمارے میزبان ہمیں ’’جنرل موٹرز اسمبلی پلانٹ‘‘ بھی دکھانے لے گئے، جہاں ہم نے ایک بہت وسیع ہال میں گاڑیاں تیار ہوتے دیکھیں۔ یہاں روبوٹس کو بھی کام کرتے دیکھا۔ ایک اسپتال میں پہلی مرتبہ میڈیکل ٹیکنالوجی میں لیزر شعائوں کا استعمال ہوتے دیکھا اور کرسچین سائنس مانیٹر نیوز ایجینسی کا دورہ بھی کیا۔ تیس فٹ قطر کا دنیا کا گلوب نظر آیا، تو ہم چلتے ہوئے اس کے اندر چلے گئے۔ اس پر تمام ممالک کے نقشے بنے ہوئے تھے۔ ہم اِسے حیرت سے دیکھ رہے تھے اور نگاہیں اپنے ملک، پاکستان کو تلاش رہی تھیں، لیکن ہمیں پنجاب، سندھ، بلوچستان تو مل گیا، مگرپورے پاکستان کا نقشہ کہیں نظر نہیںآیا، تو ہم نے نگران خاتون سے احتجاج کیا کہ اس پر پاکستان کا نقشہ کیوں پینٹ نہیں کیا گیا، تو انہوں نے وضاحت کی کہ شاید یہ گلوب پاکستان کے قیام سے پہلے تیار کیا گیا تھا، یا پھر سہواً چھوٹ گیا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اس غلطی کی نشان دہی ذمّے دار افراد سے ضرور کریں گی۔ بعدازاں، ملحقہ ریاست رہوڈ آئی لینڈ (ساحل سمندر) پرکچھ وقت گزارنے کے بعدہمارے میزبان ہمیں ایک قدیم تاریخی گائوں کی سیر کے لیے لے گئے، جہاں دو سو سال کی امریکی تہذیب محفوظ ہے۔ پرانی طرز کے مکانات اور کچی گلیاں، کنویں سے پانی نکالنے والا رہٹ، پن چکّی، لوہار کی بھٹی، سوت کاتتی اور ہاتھوں سے سلائی کڑھائی کرتی خواتین اور پرسکون ماحول۔ یہاں کی خاص بات ایک لکڑی کا یکّہ تھا، جسے ایک بہت ہی موٹا تازہ گھوڑا کھینچ رہا تھا۔ گھوڑا جسامت میں بغیر سونڈ کے ہاتھی کے مانند لگ رہا تھا۔ ہمیںاس قدیم یکّے پر بٹھا کر گائوں کی سیر بھی کروائی گئی۔ جس کے بعدیہ دل چسپ، ہنگامہ خیز اور کام یاب دورہ،بوسٹن میں اختتام پزیر ہوا۔ اس موقعے پر میزبانوں نے ہمیں الوداع کہا اور ٹیم کے ارکان اپنے اپنے انفرادی پروگرام کے مطابق منتشر ہوگئے۔ جس کے بعد ہم بوسٹن سے بذریعہ بس، نیویارک پہنچے، وہاں وائی ایم سی اے ہاسٹل میں قیام و طعام کا بندوبست کیا گیا تھا۔

نیویارک شہر میں ہمارا ایک دیرینہ دوست مقیم تھا،جس کا پتا بھی پاس موجودتھا،فوری طور پر اس کی تلاش میں نکلے اور زیرِ زمین گاڑی یعنی Subway میںسوار ہو گئے۔ میٹرو پیرس کی طرح یہ ٹرین بھی کسی عجوبے سے کم نہیں۔ اسٹیشن پر دو ٹریک آنے اور دو جانے والی گاڑیوں کے لیے تعمیر کیے گئے ہیں، جن میں ایک ٹریک ایکسپریس اور دوسرا عام پیسنجر ٹرین کے لیے مختص ہے۔ مرکزی اسٹیشن پر دو منزلہ ٹریک گزرتے ہیں۔ نیچے گاڑیاں شرقاً غرباً گزرتی ہیں اور اوپر شمالاً جنوباً۔ مزید یہ کہ نیویارک شہر کو نیوجرسی سے ملانے کے لیے دریائے ہڈسن کے نیچے(جو سمندر ہی کی ایک شاخ ہے) سرنگ کھود کر دہرا سب وے ٹریک بھی تعمیر کیا گیا ہے۔ غرض یہ کہ فنِ تعمیر کا یہ ایک ایسا محیّرالعقول کارنامہ ہے، جو واقعی دیکھنے کے قابل ہے۔

مطلوبہ اسٹیشن پر سب وے سے باہر آتے ہی چوبیس منزلہ عمارت سامنے تھی، جس کی اٹھارہویں منزل پر ہمارا دوست رہایش پزیر تھا۔ ملاقات ہوئی اور دیر تک گپ شپ رہی۔ اس کے بعد ہم واپس ہاسٹل آگئے۔ایک دو روز ہاسٹل میں رہایش رہی، اس کے بعد شہر کے اہم ترین علاقے مین ہیٹن میں ایک اپارٹمنٹ لے لیا۔ امریکا میں مفت رہایش کا کوئی تصوّر نہیں۔ والدین بھی اپنے بالغ بچّوں کو گھر میں مفت نہیں رہنے دیتے۔ بہرحال، مین ہیٹن کے اپارٹمنٹ میں ہم نے تین ماہ قیام کیا اوراس عرصے میں علاقے کو خوب اچھی طرح گھوم پِھر کر دیکھا۔ نیویارک کی مشہور اور تاریخی عمارات، بہ شمول ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ، ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور اقوام متحدہ کی بلڈنگ اندر باہر سے دیکھیں۔ سینٹرل پارک مین ہیٹن میں American Museum of Natural History کی سیربھی یادگار رہی۔ یہ عجائب گھر اتنا وسیع و عریض ہے کہ اس کے مختلف شعبہ جات اور ان میں موجود جنّاتی جسامت کی قدیم مخلوقات (ہاتھی، ڈائنوسار وغیرہ) کے ڈھانچے دیکھنے کے لیے ایک ہفتہ بھی کم ہے۔ اور پھر نیویارک کی بندرگاہ میں لبرٹی آئی لینڈ پر ’’مس لبرٹی‘‘ کا عظیم الشان مجسمہ بھی، جس کے ہاتھ میں آزادی کی شمع ہے، شان و شوکت کے ساتھ یہیں اِستادہ ہے۔ مین ہیٹن کے دوسرے حصّے، ہارلم میں ’’نیویارک کولمبیا یونی ورسٹی‘‘ واقع ہے، یہ علاقہ سیاہ فام امریکیوں کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں سنسان جگہوں پر یا اندھیرے میں لوٹ مار کے واقعات عام تھے۔

امریکا میں قیام کو تین ماہ گزر چکے تھے، ایک روز اسی آوارہ گردی کے دوران ہم نے سوشل سیکیوریٹی کارڈ کے لیے درخواست جمع کروادی اور ایک ماہ کے اندرکارڈ ملتے ہی ملازمت کی بھی پیش کش ہوگئی۔ ایک بھارتی اسٹیشنری اسٹور پر، بہ حیثیت منیجر ڈیڑھ سال آزادی اور کام یابی سے اسٹور کے معاملات سنبھالے۔ مناسب تن خواہ میں بھی اچھی خاصی بچت ہوجاتی تھی۔ اسٹور کے عقب میں رہایش کے لیے کمرا اور چھوٹا سا کچن بھی مل گیا تھا۔ ہم نے گھر پیسے بھیجنے شروع کیے، تو گھر کی حالت بھی بہتر ہوگئی۔ ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن اور موٹر سائیکل کے قرضے اتر گئے۔ گھر میں فریج، واشنگ مشین اور ٹی وی آگئے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکا سنہرے مواقع کی سرزمین ہے، اسی لیے یہاں دنیا بھر سے عشّاق کھنچے چلے آتے ہیں اور جو ایک دفعہ آجاتا ہے، واپس جانے کا نام نہیں لیتا۔ ہمارا وقت بھی یہاں اچھا گزر رہا تھا اور باقاعدہ امیگریشن کی قوی امید بھی پیدا ہوچکی تھی، لیکن’’تدبیر کند بندہ، تقدیر زَند خندہ‘‘ یعنی انسان تدبیر کیا کرتا ہے اور تقدیر اُس پر ہنستی رہتی ہے۔ ایک دن پاکستان میں ہمارے گھر چور گھس آیا اور قیمتی چیزوں پر ہاتھ صاف کرگیا۔ اگرچہ اتنا نقصان نہیں ہواتھا، تاہم، بیوی بچّوں میں خوف و ہراس اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوگیا۔ بیوی نے باقاعدہ احتجاج شروع کردیا اور ہماری واپسی کا مطالبہ داغ دیا۔ چناں چہ بالآخردو سال بعد ہمیں وطن واپس آنا پڑا۔ واپسی کے سفر میں سعودی عرب گئے اور اپنی زندگی کا پہلا عمرہ ادا کیا۔بے شمار دعائیں مانگیںاور گھر واپس آکر پہلا کام یہ کیا کہ والدین کوپہلے عمرے اورپھر حج پر روانہ کیا۔اپنا کچّا پکّا مکان گرا کر دوبارہ تعمیر کروایا۔ الحمدللہ، امریکا میں قیام کا ایک ضمنی فائدہ یہ ہوا کہ ہماری ٹوٹی پھوٹی انگریزی خاصی بہتر ہوگئی۔

عالم یہ تھا کہ واپس آنے کے کئی سال بعد تک احباب اور شناسا آکر ملتے اورہم سے امریکا جانے کا طریقہ دریافت کرتے۔حد تو یہ ہے کہ ایک دوست کی وساطت سے ایک مسجد کے امام صاحب بھی آئے اور امریکا جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ کہنے لگے، ’’سنا ہے، وہاں کی بوڑھی بیوہ عورتوں کو شوہروں کی بہت ضرورت ہوتی ہے اور وہ ان کے مالی تقاضے بھی پورے کردیتی ہیں۔‘‘ ہم نے انہیں دلی مراد پوری ہونے کی دعا دی اور نیک خواہشات کے ساتھ رخصت کردیا۔

Loading...

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تبصرے
Loading...