Loading...

مچھروں کی افزائش روکنے کے چارطریقے

0

مچھر دنیا میں انسانوں کا سب سے بڑا قاتل ہے۔ سالانہ اس سے متاثرہ افراد کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچتی ہے اور ایک اندازے کے مطابق ہر سال 20 لاکھ لوگ اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں ڈینگی بخار،پیلا بخار اور ملیریا سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جن میں زیادہ تعداد افریقی اور ایشائی لوگوں کی ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ مچھروں کی افزائش روکی جائے۔مچھروں کے سیزن میں ان سے بچنے کے لیے سخت احتیاط کرنی پڑتی ہے۔ خاص طور پر اگر گھر میں چھوٹے بچے موجود ہیں تو انہیں مچھروں سے بچانا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔

پاکستان کی آب و ہوا میں مچھروں کی افزائش زیادہ ہے۔اس لئے ایسے اقدامات کئے جائیں کہ ان کی افزائش کم ہو ۔کچھ باتوں پر عمل کرکے مچھروں کی افزائش روکی جا سکتی ہے:

پانی ٹھہرا نہ رہنے دیں

مچھر ٹھہرے ہوئے پانی میں نشونما پاتے ہیں، گھر میں کسی بھی صورت ،کہیں بھی، کسی بھی کونے میں پانی جمع نہ رہنے دیں۔ یہاں تک کہ گھر کے باتھ رومز میں بالٹیوں میں صاف اور میٹھا پانی بھیذخیرہ کر کے نہ رکھا جائے کیونکہ یہی ڈینگی مچھر کی افزائش کا ذریعہ ہو تا ہے۔اگر کسی جگہ میٹھا پانی ذخیرہ کرنا ہو تو اسے ڈھک کر رکھیں۔

برسات میں بارش کے باعث کھڑے ہونے والے پانی میں اگر تھوڑا تیل گرا دیا جائے تو وہ بھی مچھر کی افزائش میں رکا وٹ بن جاتا ہے۔روم کولرز سوئمنگ پولز اور فواروں میں سے بھی پانی نکال دیں۔

گھر کے باہر اور اندر کچرا جمع نہ رکھیں

مچھروں سے بچاؤ کے لئےگھر کے اردگرد کے ماحول کو صاف رکھیں۔گھر کے اندر اور باہر گندگی نہ رکھیں، کوڑے دان کو روزانہ خالی کیا جائے، گھر کے باہر اور قریب کوڑا جمع ہوتا دیکھیں تو اسے فوراً صاف کروائیں۔گھر کے باہر لگی کیاری میں بھی صفائی کا خیال رکھا جائے۔اسٹور کی صفائی رکھی جائے فالتو سامان اور پرانے ٹائروں کو تلف کردیا جائے۔

مچھر مار دوا کا استعمال

مچھر بھگانے کے کسی مناسب ریپلنٹ کا استعمال کیا جائے تاکہ مچھروں کو قریب آنے سے روکا جا سکے۔ مخصوص دوائیں بچوں کے لئے الرجی کا باعث بنتی ہیں لہذا غیر مضر صحت دوا استعمال کی جائے،گھر میں مچھروں کو بھگانے کا اسپرے کریں۔رات کے وقت کوائیل کا استعمال کریں۔

بیرونی رکاوٹیں

شام ہوتے ہی مچھرآپ کے گھر میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں، مچھروں کو گھر میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے دروازے اور کھڑکیوں پرمچھر دانی لگانا ایک مؤثر طریقہ ہے ۔مچھروں سے بچاؤ کی جالیوں کی فروخت میں اضافہ ہو گیا ہے اور یومیہ بنیادوں پر سینکڑوں جالیاں فروخت ہو رہی ہیں۔رات کو جالی یا نیٹ کے اندر سوئیں ۔

مچھر سے پھیلنے والےمرض سے بچنے کے لئے کوئی ویکسین موجود نہیں اس لئے احتیاط ہی کرکے ہم بیماریوں سے بچ سکتے ہیں ۔ مندرجہ بالا باتوں پر عمل کر کے خود کو مچھر کے کاٹنے سے محفوظ رکھیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...