مستحکم عالمی ترقی نے ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی کمزوری کو چھپایا ہوا ہے

0

لندن: کرس گلز

برکنگز انسٹیٹیوٹ تھنک ٹینک اور فنانشل ٹائمز کی جانب سے مرتب کردہ ٹریکنگ انڈیکس کے تازہ ترین اپ ڈیٹس کے مطابق عالمی معیشت کے مسلسل استحکام نے ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی کمزوری اور طاقت کے مؤثر ہونے کی کمی کے ساتھ نمٹنے اور جدید قوموں میں مستقبل کے جھٹکوں کو چھپایا ہوا ہے۔

اگر سال کے آغاز پر جو امید کی جارہی تھی اس سے تھوڑا کمزور ہو،عالمی معیشت میں رفتار کا استحکام جاری ہے، لیکن ارجنٹائن اور ترکی میں پہلے سے ہی شدید کشیدگی دیکھی گئی ہے اور یہ دیگر ابھرتی معیشتوں میں لہر پیدا کررہی ہیں۔

بروکنگ میں سینئر فیلو پروفیسر ایسور پرساد نے کہا کہ جبکہ زیادہ تر ممالک کے لئے روایتی ترقی کے اشارے نسبتا صحت مند نظر آتے ہیں،ان میں سے کئی خاص طور پر بڑی ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں ترقی کے امکانات کیلئے کمزور کاروبار اور صارفین کا اعتماد کمزور ہے۔

ٹائیگر انڈیکس، جو سرکاری معاشی اعداد و شمار، مالیاتی مارکیٹ کی قیمتوں اور اعتماد کے اشاروں کو وسیع حد تک ٹریک کرتا ہے اور بڑی معیشتوں کیلئے ان کی اپنی تاریخی اقدار کے ساتھموازنہ کرتا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ عالمی ترقی کا ابال تھوڑا کم ہے۔

آئی ایم ایف کے مینیجنگ ڈائریکٹر کرسچیئن لیگارڈ نے گزشتہ ہفتے اشارہ کیا کہ انڈونیشیا کے شہر بالی میں اس کے سالانہ اجلاس میں فنڈ کی ترقی کی پیشن گوئی کا اس ہفتے نظر ثانیہ کئے جانے کا امکان تھا۔ جامع ٹایگر انڈیکس اس کی حالیہ بلندی پر یکساں طور پر واقع ہوا ہے،یورپ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں میں تھوڑے کمزور ڈیٹا کی عکاسی کرتا ہے۔

امریکی معیشت کے نمایاں طور پر مضبوط ہونے کے ساتھ تقریبا 50 برس میں بیروزگاری کو کم از کم سطح پرلانے کیلئے کوشاں ہے،اور دیگر جدید معیشتیں طویل المدت مستقل شرح کے مقابلے میں ابھی بھی تیزی سے ترقی کررہی ہیں،عالمی معیشت میں مختصر مدت کی تشویش ابھرتی معیشتوں میں مرکوز ہے۔

ایسور پرساد نے کہا کہ یہ ناہموار عرصے سے متاثر ہوئی ہیں،پیسے کے اخراج سے دوچار ہیں، ان کی کرنسی کی قدر میں کمی اور اس وجہ سے غیر ملکی کرنسی سے منسلک قرض کے بوجھ میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جیسا کہ ماضی میں جب عالمی مالیاتی صورتحال سخت اور امریکی ڈالر مضبوط ہوجاتے توان کے ملکی اور بیرونی قرضے آشکار ہونے کا رجحان رہا۔

انڈونیشیا اور جنوبی افریقہ جیسے دیگر ممالک جو ان میں سے کچھ کمزوریوں میں شامل ہیں وہ بھی سرمایہ کاری کے بہاؤ اور کرنسی کے عدم استحکام کے تحت ہیں۔

جبکہ چین کی معیشت معقول حد تک مضبوط رہی،اس کے پالیسی سازوں نے فیصلہ کرنے میں دشواری کا سامنا کیا کہ آیا خطرات کے ساتھ دھیمے سے رفتار میں کمی کے عمل کے ردعمل میں قرض کی ترقی کو فروغ دینا چاہئے کہ یہ پہلے سے ہی قرض کی خطرناک سطح کو مزید بڑھانے یا کمزور کرنے کے نکتہ نظر کو قبول کرے گا۔

ایسور پرساد نے کہا کہ ابھی تک اقتصادی رفتار پر تجارتی جنگ کے اثرات کے ثبوت دیکھنا مشکل ہے، لیکن اس نے سب سے بڑی ایشیائی معشیت میں محدود ترقی کی طرف سے پالیسی کے تذبذب میں اضافہ کیا ہے۔

بھارت اب دنیا میں تیز ترین نمایاں معیشت ہے، تاہم متعدد اصلاحات کی تاخیر کے نتیجے میں یہ بھی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں اعتماد کے حوالے سے خدشات میں پھنس گیا ہے۔

جدید معیشتوں میں سے زیادہ تر معیشتوں میں بحران سے پہلے کی سطح پر بیروزگاری کو نیچے لانے میں طویل بہتری کو خوش آمدید کیا گیا ہے۔لیکن اس نے بحران کے تمام تر نقصانات کی بحالی نہیں کی ہے اور انہیں ایک نئے جھٹکے کیلئے غیر محفوظ چھوڑ دیا گیا ہے۔

ایسور پرساد نے کہا کہ پالیسی ساز کیلئے ہوسکتا ہے کہ ترقی میں سست روی کیلئے جارحانہ ردعمل کیلئے بہت کم گنجائش چھوڑی جائے جیسا کہ معیشت،تجارت اور جغرافیائی سیاست میں اضافے کی غیریقینی صورتحال کے دوران عالمی کاروباری سائیکل کی توسیع کے مرحلہ میں بتدریج کمی ہورہی ہے۔

آئی ایم ایف اپنے سالانہ اجلاسوں کا ممالک پر زور دینے کیلئے استعمال کرے گا کہ وہ تجارت سے متعلق تنازع کے راستے پر نہ جائیں اور پیداواری ترقی کو فروغ دینے کے لئے اصلاحات کو لاگو کرنے پر توجہ دیں تاکہ توسیع آیا بتدریج گھٹنے یا زیادہ سے زیادہ افراط زر پیدا کرنے کیلئے شروع کیے بغیر جاری رکھ سکیں ۔

گزشتہ سال کے تحفظ پسندانہ اقدامات کیلئے مس لیگارڈ کی تنقید کے ساتھ اور انہوں نے اسے پالیسی اصلاحات میں بہاؤ کہا، بالی نیں اجلاسوں کے موضوعات اعتماد کی بحالی ، تعاون اور عالمی معیشت میں معروف کھلاڑیوں کے درمیان نیاکی ساز ادانہ تجارت کا نظریے کیلئے حوصلہ افزائی کی کوشش ہوں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...