Loading...

بچوں کو حفاظتی ٹیکے ذمہ داری سے لگوائیں!

0

ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کو 90 فیصد حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان ممالک میں بچوں کی اموات کی شرح انتہائی کم ہےجبکہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ایک سے 5سال کی عمر کے ساڑھے 3لاکھ بچے مختلف امراض میں مبتلا ہوکر جاں بحق ہورہے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگواکر ان کا بنیادی حق فراہم کریں تاکہ بچے کم عمری میں مختلف امراض سے محفوظ رہ سکیں۔ بصورت دیگر حفاظتی ٹیکے نہ لگوانے سے بچے کم عمری میں ہی خسرہ، ڈائریا، نمونیہ سمیت دیگر امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں، جس کا ا ثر ان کی تعلیم پربھی پڑتا ہے۔

بچے کی پیدائش کے دوسرے یا تیسرے دن دو ٹیکے (ویکسین) لگائے جاتے ہیں، جن میں پولیو اور بی سی جی شامل ہیں۔ پولیو کی ویکسین بچے کو پولیو سے بچاتی ہے۔ بی سی جی کا ٹیکہ بچے کو ٹی بی (تپ دق) سے لڑنے کی قوت مدافعت دیتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے چھٹے ہفتے میں ایک بار پھر پولیو سے بچاؤ کے لئے پولیو کے دو قطرے پلائے جاتے ہیں۔ پولیو ویکسین کے علاوہ ہیپاٹائٹس ون (ڈی پی ٹی، ایچ بی، ایچ آئی بی) کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔ ان ٹیکوں کا کورس نومولود بچے کو نمونیا، ہیپاٹائٹس، کالی کھانسی اور گردن توڑ بخار سے محفوظ رکھتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے دس ہفتے بعد ایک بار پھر پولیو سے بچاؤ کے لئے دو قطرے پلائے جاتے ہیں اور ہیپاٹائٹس ٹو (ڈی پی ٹی، ایچ بی، ایچ آئی بی) کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔ چودہ ہفتے کے بعد بچے کو پولیو سے بچاؤ کے لئے دو قطرے اور ہیپاٹائٹس تھری (ڈی پی ٹی، ایچ بی، ایچ آئی بی) کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔ بچے کو نومہینے کی عمر میں خسرہ سے بچاؤ کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے اور پھر اس کا دوسرا ٹیکہ ڈیڑھ سال کی عمر میں لگایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچے کو دیگر وبائی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے کچھ دیگر ٹیکے بھی لگائے جاتے ہیں۔ ٹیکوں کا کورس مکمل کرنے کے بعد بچہ ایک صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔

بچوں کی صحت مند زندگی آپ کے ہاتھ میں ہے!

بچوں کو وقت پر ٹیکے لگوائے جانے چاہئیں تاکہ پانچ سال کی عمر تک کے بچوں کی شرح اموات کم ہو سکے۔ یہ ٹیکے سرکاری ہسپتالوں میں مفت لگائے جاتے ہیں۔ جو لوگ ٹیکوں کے بارے میں آگاہی رکھتے ہیں، انہیں چاہئے کہ وہ اپنے گلی محلے میں دوسرے افراد کو اس کی معلومات دیں ۔ ماہرین طب کے مطابق کم عمری میں مختلف امراض میں مبتلا رہنے اور بار بار کسی نہ کسی مرض کا شکار رہنے والے بچوں میں احساس محرومی پیدا ہوجاتا ہے، جو ان کی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

ویکسین کیسے کام کرتی ہے؟

جب کوئی پیتھوجین آپ کے جسم میں داخل ہوتا ہے تو آپ کا مدافعتی نظام اس سے لڑنے کی کوشش کرنے کے لئے اینٹی باڈیز پیدا کرتا ہے۔ آپ کا بیمار ہونا یا نہ ہونا اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کے مدافعتی ردعمل کی طاقت کتنی ہے اور کس مؤثر طریقہ سے اینٹی باڈیز پیتھوجین سے لڑتی ہیں۔ اگر آپ بیمار پڑ جاتے ہیں تو پیدا ہونے والی کچھ اینٹی باڈیز آپ کے جسم میں آپ کے تندرست ہو جانے پر ایک محافظ کے طور پر قائم رہیں گی۔ اگر آپ مستقبل میں اسی پیتھوجین کی زد میں آ جاتے ہیں تو، اینٹی باڈیز اس کی ’’شناخت‘‘ کر لیں گی اور اسے مار بھگائیں گی۔ ویکسین اسی قوت مدافعت کی وجہ سے کام کرتے ہیں۔ انہیں ایک کمزور یا پیتھوجین کے جزوی ورژن سے بنایا جاتا ہے۔ جب آپ کوئی ویکسین لگواتے ہیں تو یہ پیتھوجین کے جس ورژن پر بھی مشتمل ہو، اس میں آپ کو بیمار کرنے کی طاقت یا بھرپور تعداد موجود نہیں ہوتی لیکن یہ اپنے خلاف آپ کی قوت مدافعت کے ذریعہ اینٹی باڈیز پیدا کروانے کے لئے کافی ہوتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں، آپ بیمار ہوئے بغیر بیماری کے خلاف مستقبل کی مامونیت حاصل کر لیتے ہیں۔

بیکٹیریا کے خلاف بنائی جانے والی کچھ ویکسین، بیکٹیریا کی ہی ایک شکل کے ساتھ بنائی جاتی ہیں۔ دوسری صورتوں میں، انہیں بیکٹیریا کے ذریعہ پیدا ہونےوالے ٹاکسن کی ایک ترمیم شدہ شکل کے ساتھ بنایا جا سکتا ہے۔ کچھ بیکٹیریل ویکسین، ٹاکسن کے کمزور یا غیر فعال ورژن کے ساتھ بنائی جاتی ہیں، جو دراصل بیماری کی علامات پیدا کرتی ہیں۔ اس کمزور یا غیر فعال ٹاکسن کو ٹاکسائیڈ کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک تشنج کی مامونیت کو، ٹیٹنس اسپیسیمن ٹاکسائیڈ کے ساتھ بنایا جاتا ہے۔

WHO کے مشورے

پیدائش سے لے کر چھ سال کی عمر تک کے تمام بچوں کے لئے عالمی ادارہ برائے صحت (WHO) کی جانب سے ویکسینیشن کے مشوروں میں11مختلف بیماریوں کے لئے حفاظتی ٹیکے شامل ہیں۔ ہر بیماری جس کے لیے ویکسین کا مشورہ دیا جاتا ہے، شدید بیماری یا موت کا سبب بن سکتی ہے اور ویکسینیشن کی شرح کم ہو جانے پر فوری طور پروہی بیماری دوبارہ ظاہر ہونا شروع ہو سکتی ہے۔ پاکستان، افغانستان، مشرقی وسطیٰ کے کچھ ممالک اور افریقی ممالک میں مذہبی، ثقافتی اور سیاسی عوامل ویکسینیشن کی شرح میں کمی کا سبب بنے ہیں، جس کے بعد پولیو اور خسرہ پھیلنے کے واقعات نمودار ہوئے ہیں۔ ان بیماریوں نے کچھ لوگوں کو زندگی بھر کے لئے جسمانی طور پر معذور بھی بنا دیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...