امریکا کی تجارتی جنگ کے بعد چین کی ریاستی املاک کے شعبے پرازسرنو توجہ مرکوز

0

بیجنگ : لوسی ہورنبے

امریکا کے ساتھ تجارتی جنگ اور ملکی ترقی میں تیزی سے کمی بیجنگ کو اہم ریاستی اداروں پر مزید انحصار بڑھانے پر مجبور کردیا، حتیٰ کہ لبرلزنے معیشت کو آزاد رکھنے کے سلسلتے کو جاری اور مزید مارکیٹ دوست اصلاحات پر زور دیا ہے۔

چین کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی جنگ، جس میں دیکھا گیا کہ واشنگٹن نے چین سے امریکا کو درآمدات کے تقریبا نصف پر ٹیرف عائد کردیا ہے،غذائی اشیا اور ٹیکنالوجی میں خودانحصاری پر تجدید نو پر زور کو متحرک کیا ہے، جو ماؤ زے تنگ دور کا عام موضوع تھا ۔ گزشتہ ہفتے شمالی صوبے ہیلانگانگ میں ریاستی فارموں، جو چین کے اناج کی فراہمی کا غیر معمولی حصہ پیدا کرتا ہیں، کے دورے کے دوران چینی صدر شی جنگ پنگ نے کہا کہ یہ بری بات نہیں ہے۔

صدر شی جنگ پنگ کا مقام کا انتخاب حادثاتی نہیں تھا۔ چین کی قومی پیٹرولیم کارپوریشن کے ماتحت لیا یامگ ریفائنگ کمپلیکس جو روس سے آنے والے خام تیل کو پروسیس کرتا ہے کے ساتھ ساتھ ریاستی فارموں کی چین کے سرکاری ملکیت اداروں کی اہمیت کی نمائندگی کرتی ہے،سیاسی طور پر قابل اعتماد ادارے جو سپلائی کی سلامتی کا یقین دلاتے ہیں، یہاں تک کہ اگر تجارتی طور پر مسابقتی آپریشنز کی قیمت پر آئے۔

واشنگٹن کی جانب سے چینی ٹیلی کام گروپ ذیڈ ٹی ای کے امریکی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے پر سات سال کی پابندی کے اقدام نے امریکی کاروباری اداروں کی جانب سے ڈیزائن کردہ چپس پر کمپنی کے انحصار کے انکشاف نے بیجنگ کو متاثر کیا۔ چین کو اس شعبہ میں اس کی اپنی مہارت کو پیدا کرنے کیلئے تجدید نو تحریک کو متحرک کیا۔

صدر شی جنگ پنگ کے تحت سابق ریاستی منصوبہ بندی کی بیوروکریسی جیسا کہ نیشنل ڈیولپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن نے اثر رسوخ حاصل کیا ہے۔ وہ بیروکریسیاں نجی شعبے کو شک کے ساتھ دیکھتے ہیں اور اوپر کی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں جو انہیں پیسے کے براہ راست بہاؤ اور ٹھیکوں کی منظوریوں کے قابل بناتا ہے۔ان کی نگرانی کے تحت،ریاست نے اصلاحات کے دور کے دوران نجی کمپنیوں کی جانب سے غابہ رکھنے والے شعبوں میں بے جا مداخلت کی ہے۔

کتاب ریڈ کیپٹلزم کے مصنف فریسر ہوائی نے کہا کہ تجارتی جنگ نے چین میں تنہائی کے احساس کو نمایاں کیا تھا۔ یہ تصور کیلئے کردار ادا کرتا ہے کہ ہم یعنی چین دشمنوں سے گھراہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ہمارے مخلاف ہوگیا ہے ، لہٰذا تمام وسائل کو ریاست کے زیر انتظام رکھنا ضروری ہے۔

گزشتہ ماہ ٹیکنالوجی منتظم وو شیو پنگ کی جانب سے آن لائن مضمون نے چین میں ملکی معشیت کو پھیل جانے کیلئے راستہ دینے کیلئے نجی شعبے کیلئے وقت آگیا تھا پر بحث کی تھی۔ کچھ لوگوں کا ماننا تھا کہ مصنف نے طنز کررہا تھا۔دیگر نے یہ اور پارٹی کی جانب سے یکساں تبصرہ کو ریاست کے حق میں مکمل تبدیلی کیلئے رائے جاننے کیلئے آزمائشی بیان کے طور پر دیکھا، چین کی چار دہائیوں کی مخلوط ریاستی نجی معیشت کی نفی کرتی ہے۔

مسٹر ہوئی نے کہا کہ اہم چیز جو یہاں بھول گئے ہیں کہ تمام نجی اقتصادی سرگرمیاں ریاست کی صوابدید پر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...