Urdu Khabrain
Urdu Khabrain is the world most populated Urdu News website. You can find and read daily Urdu news.

دس سوال

0

وہ کبھی نہیں پوچھے گا کہ تمہارے کتنے دوست تھے۔ وہ تم سے پوچھے گا کہ تم نے کس کس سے دوستی نبھائی؟ وہ تم سے کبھی نہیں پوچھے گا کہ تمہارے پاس کونسی گاڑی تھی مگر وہ پوچھے گا کہ کتنے بغیر سواری کے مسافروں کو اپنی سواری سے ان کی منزل پر پہنچایا؟ خدا تم سے تمہارے مکان کا رقبہ نہیں پوچھے اس پوسٹ کے بعد یہ والی پوسٹ ہے. گا مگر وہ پوچھا گا کہ کتنے بے سہارا لوگوں کو اس میں پناہ دی تھی؟

وہ تمہاری الماری میں لٹکے سو سوٹوں کی سوٹوں کی تعداد نہیں پوچھا گا مگر پوچھے گا کہ کتنے لوگوں کے تن کو ڈھانپا؟ خدا تم سے یہ نہیں پوچھے گا کہ تمہاری آمدنی کتنی تھی لیکن وہ پوچھے گا کہ حرام کمایا یا حلال؟ وہ تم سے تمہارا عہدہ نہیں پوچھے گا مگر سوال کرے گا کہ پوری محنت اور جاناور جان لگائی تھی یا نہیں؟ خدا تم سے یہ نہیں پوچھا گا کہ کونسے با اثر محلے میں رہا ئش پزیر تھے لیکن وہ پوچھے گا کہ تمہارے پڑوسی کون تھے اور تم نے ان کا کیا بھلا کیا؟ خدا تم سے یہ نہیں پوچھے گا کہ تم گورے تھے یا کالے، اسے فرق نہیں پڑتا، وہ پوچھے گا کہ تمہارا کردار کیسا تھا؟

اگر خوبصورت تھے تو اپنے حسن کو بد کرداری کے فروغ اور فتنہ فساد پھیلانے کے لیے تو استعمال نہیں کیا؟خدا تم سے یہ ہرگز نہیں پوچھے گا کہ توبہ کرنے میں اتنی دیر کیوں کر دی بلکہ وہ تمہیں جہنم کے گیٹ سے بچا کر جنت کے دہانے پر لے جائے گا اور بولے گا کہ جاؤ تمہیں معاف کیا، یہ شاندار جنت تمہاری ہوئی۔ خدا تم سے یہ نہیں پوچھے گا کہ تم نے کتنے لوگوں کے ساتھ یہ کہانی نیک نیتی سے شےئر کی بلکہ وہ تو پہلی ہی جانتا ہے۔ خدا کے بارے میں ہم سب واقف ہیں کہ وہ ہر شے سے بے نیاز ہے، وہ بہت عظیم ہے اور اس کی شان اور قدرت کی جتنی حمد و ثنا ء کی جائے وہ کم ہے۔ ہم سب پہلے ہی اس کی قوت ، اس کی بڑائی کے آگے بالکل بے بس ہیں۔ لیکن خدا اچھائی، بھلائی اور انسانیت کو مقدس تصور کرتا ہے

اس کے لیے ہماری دنیاوی اور مادی اشیاء کی معمولی سی بھی قدرو قیمت نہیں ہے۔ ہم کتنے عالی شان گھر بنا لیں۔ گاڑیوں کی قطاریں لگا لیں، سب سے اچھے محلے میں رہائش پزیر ہوں یا سب سے اونچے عہدے پر فائز ہو جائیں ، خدا کو ان سب چیزوں سے کوئی غرض نہیں، ایک فقیر جو سب کا خیال رکھتا ہو اور ملنسار ہو، خدا کے نزدیک ان سارے امیر لوگوں سے مقرب ہوتا ہے۔ فقیری انسان کی فطرت سے ہوتی ہے اس میں انسان کی امیری غریبی کے ساتھ اس کا منسلک ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس بات کا یہ مطلب ہے کہ ایک کروڑ پتی انسان بھی اگر فطرتاً فقیر ہے تو وہ اللہ کو بہت مقرب ہو سکتا ہے۔ اگر وہ دولت کے انبار لگائے بیٹھا ہے مگر وہ سادہ طبع ہے۔ اپنا گھر اور سامان سادہ پسند کرتا ہے۔ اللہ کی راہ پر چلتا ہے، لوگوں کو سادگی اور سچائی کی ترغیب دیتا ہے تو اس کا پیسہ اس کی سزا نہیں بلکہ اور لوگوں کے لیے ایک رحمت بن جاتا ہے۔ جو انسان امیر ہو مگر دوسروں کی کھلے دل سے مدد کرتا ہو، وہ اللہ کو پسند ہوتا ہے۔ اللہ نے جو دیا، وہ دے کر بھی آزمایا اور جو نہیں دیا، وہ نہ دے کر بھی انسان کو آزمایا ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تبصرے