’لولو‘ اور’ نانا‘ کی جینیاتی تبدیلی: خطرے کی گھنٹی بج گئی

0

امریکہ میں اگر آپ کسی طبی مسئلے کے سلسلے میں اپنے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو وہ آپ کی میڈیکل ہسٹری کے بارے میں سوال ضرور پوچھتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر آپ کے خاندان میں آپ کے والدین یا دیگر افراد کو دل، سانس، ذیابیطس یا کسی اور طرح کی بیماری تو لاحق نہیں تھی۔ اگر آپ کا جواب کسی بھی بیماری کے حوالے سے ’ہاں‘ میں ہوتا ہے تو وہ جینیاتی طور پر آپ کے اس بیماری کا شکار ہونے کے امکانات کا تعین کرتا ہے۔ گویا موروثی بیماریوں کے جینیاتی طور پر ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہونے کے خطرات حقیقی ہیں۔

تاہم سوال یہ ہے کہ ایسی جینیاتی تبدیلیاں کرنا ممکن ہے جن سے اس خطرناک وراثت کا خطرہ ٹالا جا سکے؟

چین کے صوبے سین ژین کی یونیورسٹی برائے سائنس اور ٹکنالوجی کے پروفیسر ہی جیان کوئی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جینیاتی تبدیلی کے ساتھ دنیا کی پہلی جڑواں بچیوں کی پیدائش میں مدد دی ہے جن کے ڈی این اے میں تبدیلی کرتے ہوئے انہیں مستقبل میں ایچ آئی وی یا ایڈز سے مکمل طور پر محفوظ بنا دیا گیا ہے۔

پروفیسر ہی جیان کوئی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بچوں کی پیدائش سے متعلق طبی مسائل کے حوالے سے سات جوڑوں کا علاج کیا اور ان میں سے ایک حاملہ خاتون کی کوکھ میں موجود دو بچیوں کے ڈٰی این اے میں ایک خاص آلے کی مدد سے تبدیلی کی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ عمل اب سے کئی ہفتے قبل کیا گیا اور’ لولو‘ اور’ نانا‘ نامی دونوں بچیاں پیدائش کے بعد مکمل طور پر صحت مند ہیں۔

تاہم جس چینی اسپتال میں جینیاتی تبدیلی کی اس سرجری کا دعویٰ کیا گیا ہے، اس کی انتظامیہ نے اس عمل سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے تردید کی ہے کہ اسپتال ڈی این اے میں ردوبدل کے عمل میں کسی بھی طور ملوث رہا ہے۔ اسپتال کے ترجمان نے سی این این کو بتایا ہے، ’’ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ ایسی کوئی رسرچ نہ تو ہمارے اسپتال میں ہوئی ہے اور نہ ہی مذکورہ بچیاں یہاں پیدا ہوئی ہیں۔ ‘‘

اسپتال کے ترجمان نے البتہ اس بات کی تصدیق کی کہ پروفیسر جیان کوئی نے اپنی رپورٹ میں جن دو ڈاکٹروں کا ذکر کیا ہے وہ اسی اسپتال میں کام کرتے ہیں۔ تاہم جینیاتی ردوبدل کے دعوے کے بعد اسپتال نے اندرونی چھان بین شروع کر دی ہے۔

ادھر دنیا بھر سے ماہرین نے جینیاتی تبدیلی کے لئے ایسی ٹیکنالوجی کے استعمال پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ عمل اخلاقی لحاظ سے انتہائی غیر مناسب ہے اور انہیں حیرت ہے کہ اسپتال کی اخلاقی اقدار کی کمیٹی نے اس کی اجازت کیونکر دی۔

ایک امریکی سائنس دان کا کہنا ہے کہ اس نے چین میں ایسی ٹیکنالوجی کے استعمال میں حصہ لیا تھا۔ تاہم امریکہ میں جینیاتی تبدیلی پر مکمل پابندی عائد ہے کیونکہ یہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایسا کرنے سے نہ صرف جنیاتی تبدیلی مستقبل کی نسلوں میں منتقل ہونے کا خدشہ ہے بلکہ اس سے دیگر جینز کے متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جینیاتی ردوبدل کا عمل انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور چین میں کیا جانے والا مبینہ عمل انسان پر طبی تجربات کرنے کے مترادف ہے۔

تاہم مذکورہ چینی ساینس دان کا اصرار ہے کہ وہ جینیاتی کوڈ توڑنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ پروفیسر جیان کوئی کہتے ہیں کہ انہوں نے اس عمل کے لئے CRISPR-cas9 نامی اوزار استعمال کیا ہے جس کے ذریعے کسی مخصوص جین کا اضافہ کیا جا سکتا ہے یا پھر کسی جین کو باہر نکالا جا سکتا ہے۔ ان کی دعویٰ ہے کہ اس عمل کے ذریعے وہ ایسا راستہ بند کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جس سے ایچ آئی وی انسانی جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔

حمل کے دوران جین میں تبدیلی کے عمل کی امریکہ سمیت متعدد ممالک میں مکمل ممانعت ہے اس عمل کو کسی بھی طور محفوظ نہیں سمجھا جاتا اور اس کی بھی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ اس عمل سے گزرنے کے بعد انسان اپنی بعد کی زندگی کے دوران یا اپنی آئندہ نسلوں میں کسی غیر متوقع نتائج سے دوچار نہیں ہوں گے۔

اگر چینی سائنس دان کا دعویٰ درست ہے تو اس نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...