بچھو، کن کھجورے اور گینڈے کے سینگوں سے بنی چین کی مقبول دوائیں

0

شنگھائی کے ایک اسپتال کے سامنے اس وقت لوگوں کی ایک لمبی قطار لگ گئی جب اسپتال نے ایک خاص دوا فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے جو جڑی بوٹیوں، بچھو اور خشک کیے گئے کن کھجورے کے اجزا سے بنائی گئی ہیں۔

شنگھائی کے اس اسپتال کا نام یویانگ ہے، جو اپنی دوائیں خود تیار کرتا ہے۔ اسپتال کے ساتھ ایک بڑے رقبے پر قیمتی اور کم یاب جڑی بوٹیوں کا ایک منفرد باغ ہے۔ اسپتال کی فارمیسی میں جڑی بوٹیوں اور جانوروں کے اجزا کے آمیزے سے دوائیں بنائی جاتی ہیں۔

اسپتال سے باہر نکلنے والے لوگوں کے پاس یا تو گولیوں سے بھرے ڈبے ہوتے ہیں یا پلاسٹک کی شیشیاں ہیں جن میں جڑی بوٹیوں سے بنائے گئے شربت بھرے ہوتے ہیں۔

چین میں روایتی دواؤں کی ایک فارمیسی پر خریداروں کا ہجوم

اگرچہ چین دنیا بھر کو جدید ترین ٹیکنالوجی کی اشیا برآمد کرتا ہے لیکن جب کوئی چینی بیمار پڑتا ہے تو وہ اپنے علاج کے لیے دور حاضر کی مغربی دواؤں کی بجائے لگ بھگ ڈھائی ہزار سال پرانے نسخوں کی جڑی بوٹیوں اور جانوروں کے اجزا سے بنی دواؤں کو ترجیح دیتا ہے۔

دوائیں خرید کر باہر نکلنے والوں میں 76 سالہ ریٹائرڈ لن ہونگو بھی شامل ہے۔ اس نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس نے دل کی دھڑکن درست کرنے والی دوا خریدی ہے جسے چائے کے ساتھ ابال کر پیا جاتا ہے۔

ہونگو کا کہنا ہے کہ میں مغربی دواؤں کی بجائے مقامی جڑی بوٹیاں استعمال کرتا ہوں۔ ایک تو اس لیے کہ یہ بہت سستی ہوتی ہیں اور دوسرا یہ کہ یہ بیماری پر جلد قابو پا لیتی ہیں۔

چین کے ایک اسپتال میں موٹاپے کا روایتی طریقے سے علاج کیا جا رہا ہے۔

چین کے ایک اسپتال میں موٹاپے کا روایتی طریقے سے علاج کیا جا رہا ہے۔

ایک اور مریضہ 51 سالہ وانگ ڈیون نے بتایا کہ دو مہینے پہلے ایک انگریزی دوا کھانے سے میری جلد پر الرجی ہو گئی تھی۔ مجھے دو مہینے تک اسپتال میں داخل رہنا پڑا۔ انہوں نے مجھے چہرے اور جلد پر لگانے کے لیے جڑی بوٹیوں کا عرق دیا تھا۔ اس سے مجھے آفاقہ ہوا اور اب میں ٹھیک ہوں۔

جڑی بوٹیوں سے بننے والی دوائیں، انگریزی دواؤں کے مقابلے میں اس لیے سستی ہیں کیونکہ حکومت انہیں سبسیڈی دیتی ہے۔

جڑی بوٹیوں پر چینیوں کا اتنا بھروسا ہے کہ ملک کی لگ بھگ ایک چوتھائی تعداد انہیں استعمال کرتی ہے۔

شنگھائی میں روایتی دواؤں کے ایک سٹور میں جڑی بوٹیوں اور دیگر اجزا سے دوا تیار کی جا رہی ہے۔ فائل فوٹو

شنگھائی میں روایتی دواؤں کے ایک سٹور میں جڑی بوٹیوں اور دیگر اجزا سے دوا تیار کی جا رہی ہے۔ فائل فوٹو

عالمی ادارہ صحت اگلے سال اپنی اشاعت کے ایک حصے میں روایتی ادویات کو جگہ دے رہا ہے، جس میں اس بارے میں طبی رجحانات اور صحت کے اعداد و شمار پر مبنی معلومات شامل کی جائیں گی۔

چین کو توقع ہے کہ عالمی ادارہ صحت اس کی روایتی دوائیوں کی اہمیت کو تسلیم کر لے گا اور انہیں برآمد کرنے کی اجازت دے گا۔

لیکن ابھی بیجنگ کو اس سلسلے میں بہت سی رکاوٹوں کا سامنا ہے جس میں سب سے اہم چیز تو یہ ہے کہ روایتی طریقہ علاج میں ہر مریض کی انفرادیت کو پیش نظر رکھا جاتا ہے اور ایک ہی مرض میں مختلف لوگوں کو مختلف ادویات اور مختلف خوراکیں دی جاتی ہیں جب کہ مغربی طریقہ علاج میں کسی ایک مرض کے تمام مریض عموماً ایک ہی دوا استعمال کرتے ہیں۔

بیجنگ کی کیپیٹل میڈیکل یونیورسٹی میں جڑی بوٹیوں اور جانوروں کے اجزا سے روایتی دوائیں تیار کی جا رہی ہیں۔

بیجنگ کی کیپیٹل میڈیکل یونیورسٹی میں جڑی بوٹیوں اور جانوروں کے اجزا سے روایتی دوائیں تیار کی جا رہی ہیں۔

چین کی روایتی دواؤں میں عموماً درجنوں اجزا شامل ہوتے ہیں اس لیے دوا تجویز کرنے والے کے لیے لازم ہے کہ وہ یہ سمجھ بوجھ رکھتا ہو کہ ان تمام اجزا کا مشترکہ اثر کیا ہو گا اور آیا جس مریض کے لیے یہ دوا تجویز کی جا رہی ہے، یہ اس کے لیے مناسب ہو گی۔؟

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ چین کی کئی روایتی دواؤں میں گینڈے کے سینگ اور مارخور کی کھال استعمال کی جاتی ہے۔ ایسی دوائیں بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر شکار کیا جاتا ہے جس سے ان کی نسلیں مٹنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

جنگی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے گروپس کا کہنا ہے کہ روایتی دوائیں بنانے والوں کے پاس ایسا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے جس سے پتا چلتا ہو کہ جانوروں کے اجزا واقعی طبی لحاظ سے فائدہ مند ہیں۔

لیکن چین کی حکومت نے جنگلی حیات کے تحفظ کی تنظیموں کے احتجاج کے باوجود حال ہی میں گینڈے کے سینگوں اور شیر کی ہڈیوں کی تجارت کی اجازت دے دی ہے۔

تاہم اب مغرب میں چینی روایتی دواؤں کے سائنسی تجزے پر کام شروع ہو گیا ہے اور مغرب کی دو ادویات ساز کمپنیاں آرٹیفیشل انٹیلی جینس کی مدد سے دوائیوں میں موجود اجزا کے طبی خواص کا جائزہ لے کر ان کے متبادل ڈھونڈنے پر کام کر رہی ہیں، جس سے انہیں بڑے پیمانے پر تیار کرنے میں مدد مل سکے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی روایتی ادویات میں جس چیز کی کمی ہے وہ سائنس ہے۔ دوا بنانے والے یہ نہیں جانتے کہ ان کی دوا مرض کو کیسے دور کرتی ہے۔ اگر اس پہلو پر سائنسی تحقیق کی جائے تو نہ صرف کم یاب جڑی بوٹیوں اور نایاب جانورں کے اجزا کے مصنوعی متبادل مل جائیں گے بلکہ ان کی تجارتی پیمانے پر تیاری بھی ممکن ہو سکے گی اور روایتی ادویات دنیا بھر میں ڈرگ اسٹوروں کی شیلف پر مغربی ادویات کے ساتھ رکھی ہوئی نظر آئیں گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...