من موہن سنگھ کی زندگی پر بنی فلم پر بھارت میں تنازع

0

بھارت کے سابق وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کی سوانح حیات پر مبنی فلم ’دی ایکسیڈینٹل پرائم منسٹر‘ (حادثاتی وزیرِ اعظم) کے ٹریلر نے بھارت کے سیاسی افق پر ہلچل مچا دی ہے۔

من موہن سنگھ کے میڈیا ایڈوائز رہنے والے سنجے بارو کے اسی نام سے لکھے گئے ناول پر بنائی گئی فلم پر من موہن سنگھ کی جماعت کانگریس نے اعتراضات اٹھا دیے ہیں جبکہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان اعتراضات کو مسترد کردیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق کانگریس کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ فلم میں حقائق کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔

’مہاراشٹر یوتھ کانگریس‘ نے تو فلم کو ریلیز سے پہلے کانگریس رہنماؤں کو دکھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فلم انہیں نہیں دکھائی گئی تو پورے ملک میں کہیں بھی اسے ریلیز نہیں ہونے دیں گے۔

بی جے پی اور فلم میں من موہن سنگھ کا کردار ادا کرنے والے اداکار انوپم کھیر نے یہ مطالبہ مسترد کردیا ہے۔

انوپم کھیر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ وہ من موہن سنگھ کو پسند کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ من موہن سنگھ کی فلم سب سے پہلے وہ خود دیکھیں۔

لیکن ان کے بقول فلم کی سینما گھروں میں ریلیز سے پہلے خاص کانگریس کے لیے اسکریننگ نہیں کی جائے گی۔

انوپم کھیر کا کہنا تھا کہ سنسر بورڈ نے فلم کو دیکھ کر پاس کیا ہے اور ان کے خیال میں یہ فلم ’گیم چینجر‘ ہے۔

’دی ایکسیڈینٹل پرائم منسٹر‘ کے تین منٹ کے ٹریلر میں گاندھی فیملی کے ارکان سونیا گاندھی، راہول اور پریانکا گاندھی کے شاٹس بھی ہیں۔

کانگریس کی اندرونی سیاست اور کشمکش پر بنائی گئی اس فلم کو 11 جنوری کو نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔

سال 2018کی آخری متنازع فلم؟

’دی ایکسیڈینٹل پرائم منسٹر‘ کو بالی وڈ میں سال کی آخری متنازع فلم بھی کہا جا رہا ہے۔ لیکن آنے والے سال میں ریلیز ہونے والی ایک اور بائیو پک نے بھی ابھی سے تنازع کھڑا کردیا ہے۔

قوم پرست جماعت شیو سینا کے رہنما بال ٹھاکرے کی بائیو پک میں نواز الدین صدیقی نے بال ٹھاکرے کا کردار ادا کیا ہے اور شیوسینا نے اس فلم پر اعتراض کھڑے کردیے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...