Loading...

پاکستان سیاحت کے لئے دنیا کے 10بہترین ممالک میں شامل

0

’نئے سال 2019 کا آج پہلا دن ہے ۔ اگر اس سال آپ قدرتی نظاروں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تو پاکستان کی سیر سے اچھا خیال بھلا اور کیا ہوسکتا ہے۔ ‘

یہ مشورہ امریکی میگزین ’فوربز‘ نے ان تمام لوگوں کو دیا ہے جو سیاحت کے شوقین ہیں اور 2019 میں آنے والی تعطیلات میں گھومنے پھرنے کی منصوبہ کر رہے ہیں۔

روایتی لباس میں ملبوس ایک کیلاشی خاتون

فوربز نے 2019 کے لئے جن 10 بہترین سیاحتی ملکوں کی فہرست جاری کی ہے ان میں پاکستان کا نام بھی شامل ہے، جبکہ پرتگال کا علاقہ ایزورس، مشرقی بھوٹان، میکسیکو کا لاس کابوس، کولمبیا، ایتھوپیا، مڈغاسکر، منگولیا، روانڈا اور ترکی کی ساحلی تفریح گاہیں بھی اس فہرست کا حصہ ہیں۔

یہ فہرست ٹریول بلاگراین ایبل نے دنیا کے مشہور ٹریول ایجنٹس سے گفتگو کے بعد تیار کی ہے۔

ایک ماہر سارہ باربری کے مطابق’ قدرتی نظاروں اور خوبصورت وادیوں کا لطف اٹھانا ہے تو ’قراقرم ہائی وے‘ کے ذریعے پاکستان کی وادی ہنزہ کا رخ کریں۔ شگر اور خپلو جائیں اور ہوش اڑا دینے والے قدرتی حسن کا نظارہ کریں۔‘

سارہ کے بقول’ پاکستان کے شمال مشرقی علاقوں میں کم لوگ جاتے ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں کے مناظر اتنے مسحورکن ہیں کہ آپ اپنی گاڑی کے شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے پلک بھی اس خوف سے نہ جھپکائیں کہ کہیں کوئی منظر یا شاندار لینڈ اسکیپ مس نہ ہو جائے۔۔۔برف کے ٹکڑوں سے بھرے دریاؤں اور ان پرجھولتے پلوں کی خوبصورتی ناقابل بیان ہے۔‘

قدرتی طور پر وجود میں آنے والی عطا آباد جھیل

قدرتی طور پر وجود میں آنے والی عطا آباد جھیل

باربری کا یہ بھی کہنا ہے کہ’ گرم جوشی سے خیرمقدم کرتے لوگ، گلیشیر کے نیلے پانی سے بنی عطا آباد جھیل، ہریالی اور صدیوں پرانے خوبانی کے باغات میں پیدل گھومنا اور برف سے ڈھکی شاندار راکا پوشی کی چوٹی۔۔ یہ سب دیکھنا اور محسوس کرنا پوری زندگی کا ایک ناقابل فراموش تجربہ ہے۔‘

اس حوالے سے وائس آف امریکہ نے پاکستانی سیاحت کے ایک ماہر، کئی درجن کتابوں کے مصنف اور استاد صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر سے بات کی تو ان کا کہنا تھا’ واقعی پاکستان قدرتی نظاروں سے بھرا پڑا ہے خاص کر شمالی و مشرقی علاقے۔ انہیں دیکھ کر بے اختیار منہ سے یہی نکلتا ہے کہ اگر اس زمین پر کہیں جنت ہے تو وہ یہیں ہے، یہیں ہے، یہیں ہے۔‘

انہوں نے وی او اے کو مزید بتایا ’گلگت جائیں یا چترال، سیف الملوک جائیں یا کمراٹ آسمان کو چھوتے دیو ہیکل پہاڑ گویا دیو ہیں جو ان خوبصورت وادیوں میں لہکتی اور مہکتی پریوں اور فرشتوں جیسی معصوم نیلی اور سبز آنکھوں والے بچوں کی دلفریب اور روح کو تازہ کر دینے والی مسکراہٹ کی حفاظت پر مامور نظر آتے ہیں۔‘

سیاحت کی شوقین اور پاکستان کے چپے چپے کو دیکھنے کا دعویٰ کرنے والی آمنہ نے وی او اے کو بتایا ’شمالی اور مشرقی پاکستان کے بل کھاتے دریاؤں کا شفاف میٹھا اور ٹھنڈا پانی، سنگلاخ چٹانوں میں گھری ایسی وادیاں جن میں گویا کھلتے سبز رنگ کی خوشبو دار فصل اگی ہو، جو ٹھنڈی اور معطر ہواؤں سے ہمیں ایک انجانی سی طلسماتی دنیا میں لے جاتی ہے، انہیں دیکھ کر دل چاہتا ہے کہ وقت یہیں تھم جائے اور ہم کئی صدیوں سے ٹھہرے ان خاموش لمحوں میں کھو جائیں جو ہزاروں سال کی تاریخ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔‘

قراقرم ہائی وے پر واقع ایک مقام

قراقرم ہائی وے پر واقع ایک مقام

آمنہ بتاتی ہیں’ ان وادیوں کو اداس کر دینے والے پہلو پر بھی ہماری نظر ہونی چاہئے کیوں کہ مسحور کر دینے والے یونانی حسن، وینس ڈی میلو کے چلتے پھرتے، ہنستے، مسکراتے، کھلکھلاتے، لہراتے اور بل کھاتے مرمریں مجسمے، معصوم فرشتے جن کی آنکھوں میں جیسے کئی صدیاں ٹھہر سی گئی ہوں، یہ حیرت اور معصومیت سے جب ہمیں دیکھتے ہیں تو ان کی غربت ایک حسرت بن کر گویا ہم سے سوال کرتی کہ یہ غربت، یہ افلاس یہ بے بسی ہمارا ہی مقدر کیوں ہے؟ وادی کیلاش بلاشبہ پاکستان ہی نہیں بلکہ روئے زمین کے چند حسین ترین علاقوں میں سے ایک ہے لیکن یہاں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ‘

گلگت کا نظارہ اور ایک مقامی شخص روایتی ٹوپی پہنے ہوئے ہے

گلگت کا نظارہ اور ایک مقامی شخص روایتی ٹوپی پہنے ہوئے ہے

اس مسئلے کا حل پیش کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ بار ٹورازم کمیٹی کے سیکرٹری فیصل باسط جہانگیر وی او اے کو بتاتے ہوئے کہتے ہیں’ گزشتہ حکومتوں نے ان علاقوں کے انفرااسٹرکچر پرخاصا کام کیا ہے لیکن اب بھی بہت کام ہونا باقی ہے۔ اگر یہ انفرااسٹرکچر ایک دفعہ بن جائے تو پاکستان کو ہر سال اربوں روپے کا منافع ہو گا۔ اس میں کچھ رقم اس علاقے کے لوگوں کی غربت دور کرنے اور بے روزگاری ختم کرنے پر خرچ کی جائے تو اس سے نہ صرف دنیا بھر میں پاکستان کا امیج مثبت بنانے میں بھی مدد ملے گی بلکہ یہاں کے لوگوں کا رہن سہن بھی بہتر ہو گا۔ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اس کے بعد پاکستانیوں کو سوئٹزر لینڈ جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ سوئٹزر لینڈ اور دنیا بھر کے سیاح پاکستان آئیں گے اور ان مٹ یادیں لے کر اپنے اپنے وطن لوٹیں گے۔‘

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...