افغان صدر کے خصوصی نمائندے کا پاکستان کا دورہ، مفاہمتی عمل پر بات چیت

0

افغان صدر اشرف غنی کے نمائندہ خصوصی عمرداؤدزئی پاکستان کے تین روزہ دورہ پر پہنچ گئے ہیں۔

پاکستان آمد پر ان کی ملاقات وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ہوئی ہے جس میں افغان مفاہمتی عمل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے اس دورے میں افغان حکومت مفاہمتی عمل کے دوران مذاكرات میں افغان حکام کو شامل کرنے کے لیے پاکستان سے کردار ادا کرنے کو کہیں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اس ملاقات میں افغان مفاہمتی عمل سمیت اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر عمر داؤدزئی نے کہا کہ افغانستان کے دیرینہ اور سنگین مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے پوری تندہی کے ساتھ، مسئلہ افغانستان کے سیاسی، دیرپا اور پر امن حل کے لیے اپنا بھرپور ادا کیا ہے اور انہی کوششوں کی بدولت آج دنیا ہمارے موقف کی تائید کر رہی ہے۔

تجزیہ کار طاہر خان کہتے ہیں کہ پاکستان نے مفاہمتی عمل کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے لیکن افغان حکومت کی خواہش ہے کہ طالبان سے مذاكرات کے لیے پاکستان کردار ادا کرے۔

افغان نمائندہ خصوصی کا دورہ اس اہم وقت پر ہو رہا ہے جب طالبان نے سعودی عرب میں مذاكرات سے انکار کر دیا ہے۔

طالبان قطر میں مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں افغان حکومت اور کسی دوسرے ملک کے نمائندے شریک نہیں ہوں گے۔

طالبان کے مطابق اس بار وہ صرف امریکی حکام سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ مذاكرات میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا، قیدیوں کے تبادلے اور طالبان راہنماؤں کی نقل و حرکت پر عائد پابندیاں اٹھانے کے معاملات زیرِ غور آ سکتے ہیں۔

تجزیہ کار طاہر خان کہتے ہیں کہ قطر میں ہونے والے مذاكرات میں افغان مسئلہ کے حل کے لیے اہم امور زیر غور آئیں گے۔

افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان بات چیت کا حالیہ دور سعودی عرب میں ہونا تھا لیکن سعودی حکومت کی جانب سے افغان حکومت کو بھی مذاكرات میں شریک کرنے پر اصرار کے بعد طالبان نے مجوزہ مذاكرات منسوخ کر دیے تھے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دوحا قطر میں مجوزہ مذاکرات منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...