عمران ٹرمپ ملاقات واشنگٹن میں نئے پاکستانی سفیر کی ترجیح ہو گی

0

امریکہ کے لیے پاکستان کے نئے سفیر، جو پیر کے روز واشنگٹن پہنچے ہیں، ان کی اولین ترجیجات میں سے ایک عمران خان اور ٹرمپ کی ملاقات کے امکانات کی تلاش اور دونوں ملکوں کے درمیان ایک بار پھر سے قریبی تعلقات کی بحالی کے کام کرنا ہو گا۔

ڈاکٹر اسد مجید جو امریکہ آنے سے پہلے ٹوکیو میں پاکستان کے سفیر تھے، علی جہانگیر صدیقی کی جگہ لیں گے جنہیں پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت نے تعینات کیا تھا۔ علی جہانگیر 9 مئی سے 25 دسمبر 2018 تک امریکہ کے لیے پاکستان کے سفیر کے طور پر کام کرتے رہے۔

2 جنوری کو صدر ٹرمپ نے افغان امن عمل کی امریکی قیادت کی کوششوں میں تیزی لانے کے لیے وزیر اعظم عمران خان سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کی نئی قیادت سے ملنے کا منتظر ہوں اور ہم یہ ملاقات جلد کریں گے۔

اس ہفتے امریکہ، پاکستان اور بھارتی میڈیا کی رپورٹوں میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ واشنگٹن اور اسلام آباد وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کے ساتھ عمران خان کی ملاقات کے امکانات پر کام کر رہے ہیں۔

واشنگٹن میں سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بھی ملاقات تب ہی ممکن ہو سکتی ہے اگر طالبان اور امریکہ کے درمیان بات چیت آگے بڑھتی ہے۔

طالبان اور امریکہ کے درمیان کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور اس کا اگلا دور اس مہینے کے آخر میں سعودی عرب میں ہونا تھا جس سے طالبان نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا ہے کہ وہ صرف امریکہ سے بات کریں گے۔

سفارت کار مجید جو 2015 تک واشنگٹن میں پاکستان کے نائب سفیر تھے، کا کہنا ہے کہ تجارتی شراکت داری پر توجہ مرکوز کرنے کے نتائج زیادہ دیر پا ہو سکتے ہیں۔

امریکہ میں آباد پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ رابطے دوبارہ بحال کرنے کی کوشش میں پاکستان کے نئے سفیر کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ امریکہ نے اجازت کے بغیر پاکستانی سفارت کاروں پر واشنگٹن کے 25 میل کے دائرے سے باہر جانے پر پابندی لگا رکھی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...