شمالی کوریا کے پاس دیگر آپشنز موجود ہیں، کم جونگ اُن

0

شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن چین کا دورہ مکمل کر کے وطن روانہ ہو گئے ہیں۔ اُن کے دورہ چین کے بارے میں شمالی کوریا اور چین ددنوں نے کوئی تفصیل جاری نہیں کی۔

یہ دورہ کم اور صدر ٹرمپ کے درمیان سربراہ ملاقات کے مجوزہ دوسرے دور کی تیاریوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

یہ ایک سال کے دوران کم جونگ اُن کا چوتھا دورہ چین تھا۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود کم جونگ اُن تنہا نہیں ہیں۔

کم جونگ اُن کے گزشتہ دورہ چین کی طرح یہ دورہ بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مجوزہ سربراہ ملاقات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

ہیری ٹیج فاؤندیشن کے بروس کلینگنر کا کہنا ہے کہ کم جونگ اُن کے خیال میں وہ چین سے یہ یقین دہانی حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اُن کی طرف ہے اور اُنہیں چین کا حمایت حاصل رہے گی۔ یوں جب وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے لئے جائیں تو وہ ایک مضبوط پوزیشن کے ساتھ وہاں جانا چاہتے ہیں۔

کم کی سال نو کی تقریر سے بھی کچھ ایسا ہی تاثر ملتا ہے جس میں کم نے دھمکی دی تھی کہ امریکہ سے مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں آئندہ کا لائحہ عمل مختلف ہو گا۔ چین کے دورے سے شاید کم اس دھمکی کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کارنیگی اینڈاؤمنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے ڈگلس پال بھی بروس کلنگنر سے اتفاق کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کم جونگ اُن کے خیال میں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم تنہا نہیں ہیں اور اُنہیں چین کی سفارتی حمایت حاصل ہے اور وہ تنہا نہیں کئے جا سکتے۔ وہ کہتے ہیں کہ کم جونگ اُن کا بنیادی مقصد یہی تھا۔

گزشتہ برس کم اور صدر ٹرمپ کی پہلی سربراہ ملاقات کے بعد سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ امریکہ اور شمالی کوریا میں تعطل کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ امریکہ مطالبہ کر رہا ہے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیار ترک کر دے جبکہ شمالی کوریا کا اصرار ہے کہ ایسے اقدام سے قبل امریکہ پابندیاں نرم کرے یا پھر کوریائی جنگ کے رسمی طور پر خاتمے کا اعلان کرے۔ تاہم صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بات چیت تسلی بخش انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔

البتہ محکمہ خارجہ کے سابق اہل کار رابرٹ میننگ کی طرح بہت سے تجزیہ کار اچھی اُمید نہیں رکھتے۔ رابرٹ میننگ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’میرے خیال میں ہمارا اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے اور میرا خیال ہے کہ کم کا دورہ چین اس کی ایک مثال ہے۔

کم جونگ اُن چین کے دورے سے دنیا کو یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر امریکہ شمالی کوریا کو وہ سب کچھ دینے کے لئے تیار نہیں بھی ہوتا جس کا وہ مطالبہ کر رہا ہے تو شمالی کوریا کے پاس دیگر آپشنز موجود ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...