امریکہ کی جنوبی سرحد سے دہشت گردی کا خطرہ کتنا حقیقی ہے؟

0

امریکہ کے انسداد دہشت گردی کے عہدے داروں نے کہا ہے وہ اپنے ان اندازوں پر قائم ہیں کہ داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گرد گروپوں کے کارکن میکسیکو کی سرحد کے راستے امریکہ میں گھسنے کی کوئی فعال کوشش نہیں کر رہے۔ جب کہ وائٹ ہاؤس اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے عہدے داروں کا دعویٰ ہے کہ یہ خطرہ حقیقی ہے۔

انسداد دہشت گردی کے ایک سینییر عہدے دار نے نومبر میں وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ ہمیں آئی ایس آئی ایس یا کسی دوسرے سنی دہشت گرد گروپ کے متعلق ایسے شواہد نہیں ملے کہ وہ ہماری جنوبی سرحد کے راستے گھسنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جب ان سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منگل کے روز ٹیلی وژن خطاب سے قبل ایک بار پھر رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس کوئی ایسے نئے شواہد موجود نہیں ہیں جن کی بنیاد پر وہ اپنے سابقہ اندازے تبدیل کر سکیں۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ جنوبی سرحد پر ایک بحرانی صورت حال ہے۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی کی وزیر کرسٹجن نیلسن نے گزشتہ پیر کو اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ خطرہ حقیقی ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران ہماری جنوبی سرحد پر ان افراد کی تعداد میں اضافہ ہو ا ہے جن کے نام ہماری نگرانی کی فہرست میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ انتہائی حساس ہے۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اوسطاً روزانہ امریکہ میں داخل ہونے والے 10 افراد کو روکتے ہیں جن کے نام نگرانی کی فہرست میں درج ہیں۔ مالی سال 2017 میں 3700 سے زیادہ افراد کو روکا گیا تھا۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر افراد نے فضائی راستے سے امریکہ داخل ہونے کی کوشش کی، لیکن ہمیں اپنے زمینی راستوں پر بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

لیکن یو ایس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے اعداد و شمار ایک مختلف کہانی سناتے ہیں۔ سی این بی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق یکم اکتوبر 2017 سے 31 مارچ 2018 تک انہوں نے میکسیکو کے داخلی راستے پر 41 افراد کو روکا۔ ان میں سے 6 کے سوا تمام امریکہ کے شہری یا مستقل قانونی رہائشی تھے۔ جب کہ اس کے مقابلے میں کینیڈا کے ساتھ شمالی سرحد پر اسی مدت کے دوران 91 افراد کو روکا گیا، جن میں سے 41 امریکہ کے شہری یا مستقل قانونی رہائشی نہیں تھے۔

ہوم لینڈ کے عہدے داروں کا اصرار ہے کہ خطرہ زیادہ بڑا ہے۔ محکمہ خارجہ بھی ان دعوؤں کی تائید کرتا ہے۔

کچھ سابقہ عہدے داروں کا کہنا ہے وائٹ ہاؤس اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کا محکمہ سیاسی مفاد کے لیے جنوبی سرحد پر دہشت گردی کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔ انسداد دہشت گردی کے قومی مرکز کے سابق ڈائریکٹر نکولس راسموسن نے ایک آن لائن فورم ’ جسٹ سیکیورٹی‘پر منگل کے روز لکھا کہ دہشت گردوں کی کوئی لہر زمینی راستے سے امریکہ میں داخل ہونے کا انتظار نہیں کر رہی۔ سیدھی بات یہ ہے کہ اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔

راسموسن دسمبر 2014 سے دسمبر 2017 تک این سی ٹی سی کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی بھی اپنے اختیارات کو اس دلیل کے ساتھ جنوبی سرحد کے ساتھ دیوار یا کوئی اور رکاوٹ کھڑی کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے تو زیادہ امکان یہ ہے کہ وہ خوف پھیلانے اور جان بوجھ کر امریکی عوام کو گمراہ کرنے کا قصور وار ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...