Loading...

بھارت: بوڑھی گائیوں اور بوڑھے افراد کا مشترکہ شیلٹر ہوم

0

بھارتی دارالحکومت دہلی میں بڑی عمر کے افراد اور سڑکوں پر آوارہ گھومنے پھرنے والی گائیوں کے لیے خصوصی مشترکہ شلٹر ہوم بنایا جا رہا ہے، جہاں دونوں اکھٹے رہیں گے اور ایک دوسرے کا دل بہلائیں گے۔

اس کے علاوہ حکومت شہر میں بندروں اور آوارہ کتوں کی تعداد پر کنٹرول کرنے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔

ترقیاتی امور کے وزیر گوپال رائے نے کہا ہے کہ انہوں نے بدھ کے روز سے ان بڑی عمر کی گائیوں اور بوڑھے افراد کے لیے ایک نیا پروگرام شروع کیا ہے، جہنیں معاشرہ نظر انداز کر دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایسا شیلٹر ہوم بنا رہے ہیں جہاں گھروں سے بے دخل کی جانے والی گائیوں اور ان بوڑھے افراد کو رکھا جائے گا جنہیں لوگ اولڈ ایج ہاؤس میں چھوڑ جاتے ہیں۔

وزیر کا کہنا تھا کہ انہیں اکھٹا رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ دونوں کو پناہ بھی ملے اور وہ ایک دوسرے کا خیال رکھ کر اپنا وقت اچھا گزار سکیں۔

مشترکہ شیلٹر ہوم دہلی کے جنوب مشرقی حصے میں قائم کیا جا رہا ہے۔

مقامی میڈیا کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ جب گائے دودھ دینے کی عمر سے گزر جاتی ہے تو لوگ اسے اپنے وسائل پر ایک بھاری بوجھ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور انہیں یا تو گاؤشالا یعنی گائیوں کے شلٹر ہوم میں بھیج دیتے ہیں یا گھر سے نکال کر سڑکوں پر آوارہ پھرنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔

اب کچھ ایسا ہی سلوک انسانوں کے ساتھ ہونا بھی شروع ہو گیا ہے۔ جن بوڑھوں کے پاس جمع پونجی یا جائیداد نہیں ہوتی اور وہ کام کرنے کے بھی قابل نہیں رہتے تو بہت سے خاندان انہیں اپنے پاس نہیں رکھتے اور ’اولڈ ایج ہوم‘ پہنچا دیتے ہیں۔ جہاں ان کا وقت تنہائی اور اداسی میں گزرتا ہے۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں بوڑھے افراد کو اولڈ ایج ہاؤس بھیجنے کا رواج بڑھتا جا رہا ہے اور اب گھاتے پیتے گھرانے بھی اپنے بزرگوں کو اولڈ ایج ہومز بھیج رہے ہیں۔

گوپال رائے کا کہنا تھا کہ بوڑھے لوگوں اور گھروں سے نکال دی جانے والی گائیوں کے لیے مشترکہ شلٹرہوم بنانے کا مقصد یہ ہے کہ بڑی عمر کے افراد کی مصروفیت کا کوئی سبب بن جائے۔ بوڑھے گائیوں کا خیال رکھیں۔ اس سے ان کا دل بھی بہلا رہے گا اور گائیوں کی دیکھ بھال بھی ہوتی رہے گی۔

گائے کی پوجا کی جا رہی ہے۔

ہندو معاشرے میں گائے ایک مقدس جانور ہے، جسے ہلاک نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت میں نریندرمودی کی قیادت میں قدامت پسند ہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے گائے کے تقدس اور مقام و مرتبے میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ بھارت کے مختلف علاقوں میں متعدد افراد مشتعل ہجوم کے ہاتھوں سوشل میڈیا پر گائے ذبحہ کرنے سے متعلق پر پھیلائی جانے والی غلط خبروں یا محض شبہے کی بنا پر ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

سن 2012 میں مویشیوں کی گنتی کے مطابق بھارت میں آوارہ گائیوں کی تعداد 50 لاکھ سے زیادہ تھی جن میں سے صرف دہلی شہر میں 12 ہزار گائیں سڑکوں پر گھوم پھر کر کوڑا کرکٹ کھا رہی تھیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ معمولی ماہانہ فیس کے عوض دودھ نہ دینے والی بوڑھی گائیوں کو نئے شلٹر ہوم میں بھیجا جا سکتا ہے۔ جہاں بزرگ ان کی دیکھ بھال کرنے میں خوشی محسوس کریں گے۔

گائیوں کے علاوہ بھارت کے گلی کوچوں اور شاہراہوں پر آوارہ اور آزاد پھرنے والے بندر اور کتے بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں جن کی وجہ سے ٹریفک کے حادثات ہوتے ہیں اور آوارہ کتوں کے کاٹے سے ہر سال درجنوں افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔

ہندو دھرم میں بندر کو بھی مقدس جانور کا درجہ حاصل ہے جس کی وجہ سے وہ بلا روک ٹوک ملک بھر کے گلی کوچوں اور گھروں میں اچھل کود کرتے نظر آتے ہیں اور چیزیں اٹھا کر، حتی کہ لوگوں کے ہاتھوں سے چھین کر بھاگ جاتے ہیں۔

ترقیاتی امور کے مقامی وزیر گوپال رائے نے میڈیا کو بتایا کہ شہروں اور قصبوں میں گھومنے والے بندروں اور آوارہ کتوں کی تعداد پر کنٹرول کے لیے ان کی خاندانی منصوبہ بندی کا خصوصی پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...