Loading...

بھارت 2021 میں اپنا پہلا انسان بردار راکٹ خلا میں بھیجے گا

0

ویب ڈیسک: بھارتی خلائی ادارے کے سربراہ کے سیوان نے کہا ہے کہ ان کا ادارہ دسمبر 2020 اور جولائی 2021 کے درمیان خلائی مہمات روانہ کرے گا۔ جس کے بعد ان کا ہدف دسمبر 2021 تک خلا میں انسانی مشن بھیجنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت ممکن ہے کہ خلا میں بھیجے جانے والے بھارت کے پہلے مشن میں ایک خاتون خلانورد بھی شامل ہو۔

خلائی ادارے کے سربراہ نے خبررساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ خلابازوں کی ابتدائی تربیت بھارت میں جب کہ ایڈوانس ٹریننگ روس میں ہو گی۔

پچھلے سال بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی تقریر میں یہ اعلان کیا تھا کہ بھارت 2022 میں اپنے 75 ویں یوم آزادی موقع پر خلا میں جو راکٹ بھیجے گا اس میں بھارت کا ایک بیٹا اور بیٹی بھی سوار ہو گی جو اس سفر میں قومی جھنڈا لے کر جائیں گے۔

بھارت کے اخبار ہندوستان ٹائمز اور انڈیا نیوز کے مطابق خلا میں انسان لے جانے والے راکٹ گگیان کا انسانی عملہ تین افراد پر مشتمل ہو گا اور وہ 7 دن تک خلا میں رہیں گے۔ اس خلائی مشن پر لاگت کا اندازہ دس ارب بھارتی روپے لگایا گیا ہے۔

تاہم خلا میں جانے والے یہ پہلے بھارتی خلاباز نہیں ہوں گے کیونکہ پہلا بھارتی خلاباز انڈین ایئر فورس کا پائلٹ راکیش شرما تھا جو 1984 میں ایک روسی مشن کے ذریعے خلا میں گیا تھا۔

روس، امریکہ اور چین کے بعد بھارت خلا میں انسان بھیجنے والا چوتھا ملک بن سکتا ہے۔ ڈنمارک بھی سن 2022 میں انسان بردار مشن خلا میں بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

چین نے اپنا پہلا انسان بردار خلائی راکٹ 2003 میں بھیجا تھا جس پر 2 ارب 30 کروڑ ڈالر لاگت آئی تھی۔

چینل نیوز ایشیا کے مطابق بھارت کے خلائی ادارے نے 2019 سے اپنے 32 خلائی مشن ترتیب دیے ہیں جن پر لگ بھگ سوا 4 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔

اس سے پہلے بھارت اکتوبر 2008 میں چاند اور ستمبر 2014 میں مریخ کے مدار میں اپنے خلائی مشن بھیج چکا ہے۔ جن کے بعد خلا میں انسان بھیجنے کا مشن ایک اہم سائنسی پیش رفت ہے جس کی مرکزی کابینہ پہلے ہی منظوری دے چکی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...