جاسوسی کا شبہ، ’ہواوئی‘ ٹیکنالوجیز کا ملازم اور پولینڈ کا ایک شہری گرفتار

0

پولینڈ نے جاسوسی کے الزامات پر ’ہواوئی‘ کے ایک چینی ملازم اور پولش سکیورٹی کے ایک سابق اہلکار کو گرفتار کیا ہے۔ یہ بات حکام اور ذرائع نے رائٹرز کو بتائی ہے، جس اقدام کے نتیجے میں مغربی ملکوں کی جانب سے ٹیلی کوم آلات تیار کرنے والے اس ادارے کے بارے میں تشویش پیدا ہو سکتی ہے۔

تاہم، پولینڈ کی سکیورٹی سروسز نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ یہ الزامات انفرادی اقدامات سے تعلق رکھتے ہیں، اور یہ کہ اِن کا براہ راست ’ہواوئی ٹیکنالوجیز لمیٹڈ‘ سے واسطہ نہیں ہے۔

ہواوئی مواصلاتی آلات تیار کرنے کا دنیا کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ چینی حکومت کے ساتھ اُس کے تعلقات کے معاملے پر مغرب میں اُسے سخت نگرانی کا سامنا ہے۔ امریکہ کی جانب سے یہ الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ چین ادارے کے آلات کے ذریعے جاسوسی کر سکتا ہے۔

اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا اور ادارہ ایسے دعووں کی بارہا تردید کرتا رہا ہے۔ لیکن، ان الزامات کے نتیجے میں کئی مغربی ملکوں نے ہواوئی کی اپنی منڈیوں تک رسائی محدود کر دی ہے۔

پولینڈ کے سکیورٹی ادارے کے ایک ترجمان، ستانسلو زارین نے کہا ہے کہ ملک کی داخلی سکیورٹی ایجنسی نےجاسوسی کے الزامات پر آٹھ جنوری کو ایک چینی شہری اور پولینڈ کے ایک سابق سکیورٹی اہلکار کو حراست میں لیا ہے۔ اُنھوں نے کہا ہےکہ دونوں افراد کو الزامات سے آگاہ کیا گیا ہے، اور اُنھیں تین ماہ تک قید میں رکھا جائے گا۔

چینی شخص کے بارے میں زارین نے کہا ہے کہ ’’معاملے کا تعلق اُن کے اقدامات سے ہے، اس کا اُن کے ادارے سے کوئی تعلق نہیں جس کے لیے وہ کام کرتے ہیں‘‘۔

وائجنگ کو گرفتار کیا گیا ہے، لیکن اُن پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔

وانگ کے ’لِنکڈ اِن‘ پروفائل سے پتا چلتا ہے کہ وہ 2011ء سے پولینڈ میں قائم ہواوائی کے دفتر میں کام کرتے رہے ہیں۔ اس سے قبل 2006سے 2011ء تک وہ گدانسک میں چین کے قونصل جنرل کے دفتر میں اطاشی کے عہدے پر کام کرتے رہے تھے۔ سماجی میڈیا سائٹ کی جانب سے بیان دینے کی درخواست کا وانگ نے فوری طور پر کوئی جواب میں دیا۔

پولینڈ کے عوامی ٹیلی ویژن چینل ’پی ٹی پی‘ نے کہا ہے کہ پولینڈ سے تعلق رکھنے والا شخص، پولینڈ کے سکیورٹی ادارے کا ایک اہلکار رہ چکا ہے؛ اور یہ کہ سکیورٹی کے حکام نے اُن کے موجودہ ادارے، ’اورنج پولسکا‘ ؛اور ہواوئی کے مقامی دفتروں کی تلاشی لی ہے۔

چین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ یہ رپورٹیں ’’انتہائی تشویش ناک‘‘ ہیں، اور پولینڈ پر زور دیا ہے کہ اس معاملے کا ’’انصاف کے ساتھ‘‘ جائزہ لیا جائے۔

ایک بیان میں ہواوئی نے کہا ہے کہ وہ صورت حال سے آگاہ ہے، لیکن فوری طور پر کوئی بیان نہیں دیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ہواوئی کا ادارہ، جہاں کہیں بھی وہ کام کرتا ہے وہاں کے مروجہ قوانین اور ضوابط کی پاسداری کی جاتی ہے، اور ہمارے ہر ایک ملازم کے لیے جن ملکوں میں کام کرتے ہیں، اُن پر اُن کے قوانین اور ضابطوں کی پابندی لازم ہے‘‘۔

یاد رہے کہ سات دسمبر کو ’’ایران کے خلاف عائد امریکی تعزیرات کی انحرافی کی پاداش میں‘‘، چینی ٹیلی کوم انڈسٹری کے بڑے ادارے، ’ہواوئی ٹیکنالوجیز‘ کے مالی امور کی نگران یعنی سی ایف او کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ادارے پر عالمی بینکنگ نظام کے قوانین کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...