Loading...

جب حضرت جبرئیل ؑ نے ‘برّاق’ کو شرمندہ کیا

0

واقعہ معراج سے تو تقریباً سبھی مسلمان آگاہ ہیں، لیکن ان میں سے زیادہ تر اس مبارک واقعہ کے حالات سے مکمل طور پر آگاہ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب آسمان پر اللہ کے حضور پیش ہوئے تو اس سے پہلے کیا ہوا تھا۔سرکارِ دوعالم ﷺ کو معراج تک لے جانے کے حوالے سے ‘براق’ سے متعلق متعدد مستند احادیث موجود ہیں کہ یہ سواری اللہ

سبحانہُ وتعالیٰ نے اپنے محبوب کو لانے کے لئے بھیجی تھی ۔مسلم شریف کی ایک حدیث مبارکہ میں واقعہ معراج کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے کہ حضرت انس

بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ‘میرے پاس براق لایا گیا، وہ ایک لمبے قد اور سفید رنگ کا چوپایہ تھا۔ گدھے سے بڑا اور خچر سے کم تھا۔ اس کا قدم نظر کی انتہاء پر پڑتا تھا۔ میں اس پر سوار ہو کر بیت المقدس تک پہنچا اور جس جگہ انبیاء علیہم السلام اپنی سواریوں کو باندھتے تھے، وہاں میں نے اس کو باندھ دیا۔

پھر میں مسجد میں داخل ہوا اور اس میں دو رکعات پڑھ کر باہر آیا۔ جبرئیلؑ میرے پاس ایک برتن میں شراب اور دوسرے میں دودھ لے کر آئے، میں نے دودھ لے لیا، جبرئیل نے کہا کہ آپ نے فطرت کو اختیار کیا، پھر مجھے آسمان پر لے جایا گیا اور جبرائیل نے آسمان کا دروازہ کھٹکھٹایا، پوچھا تم کون ہو؟ کہا جبرئیل، پوچھا تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہا محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔ پوچھا کیا انہیں بلایا گیا ہے، کہا ‘ہاں انہیں بلایا گیا ہے’۔ حضور نے فرمایا ‘پھر ہمارے لیے آسمان کا دروازہ کھول دیا گیا۔

’واقعہ معراج کے حوالہ سے ترمذی شریف میں بھی ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ جب حضرت جبرئیلؑ براق کو لے کر آئے تو وہ رقص کرنے لگا تھا۔اس حدیث کی رو سے حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں شب معراج براق لایا گیا جس پر زین کسی ہوئی تھی اور لگام ڈالی ہوئی تھی۔

(حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سواری بننے کی خوشی میں) اس براق کے رقص کی وجہ سے آپ ﷺ کا اس پر سوار ہونا مشکل ہو گیا، تو حضرت جبرئیلؑ نے اسے کہا ‘کیا تو حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اس طرح کررہا ہے؟ حالانکہ آج تک تجھ پر کوئی ایسا شخص سوار نہیں ہوا جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ ﷺ جیسا معزز و محترم ہو۔ یہ سن کر وہ براق شرم سے پسینہ پسینہ ہو گیاتھا۔’

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...