Loading...

اپنی گاڑیوں کی طرح گھٹنوں میں بھی شاک اَبزرور لگوائیں

0

جوڑوں کے درد کا عارضہ یا اَرتھرایٹس ایک ایسی بیماری جو کسی ایک ملک تک محدود نہیں۔ ترقی یافتہ ملک ہوں یا ترقی پزیر ملک، ہر جگہ اس بیماری میں مبتلا افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ جہاں مناسب طبّی سہولتیں میسر نہیں وہاں لوگوں کی زندگیاں اسی معذوری کے ساتھ گذر جاتی ہے۔ اس تکلیف سے نجات حاصل کرنے کا اس وقت جو طریقہ مروج ہے، وہ ہے گھٹنوں کی تبدیلی، مگر یہ خاصا مہنگا علاج ہے۔

امریکہ میں بھی جوڑوں کے درد کا عارضہ بڑھتا جا رہا ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق سن دو ہزار تیس تک گھٹنوں کی تبدیلی کی سرجری کروانے والوں کی تعداد میں چھ سو گنا اضافہ ہو جائے گا۔

اس مرض میں ہوتا یہ ہے کہ عمر کے ساتھ ساتھ گھٹنے کی ہڈیوں کے درمیان لچک دار مادّہ خستہ اور کمزور ہو جاتا ہے۔ عام بول چال میں اس لچک دار مادّے کو کرکری ہڈّی کہا جاتا ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب یہ ہڈّی بالکل ناکارہ ہو جاتی ہے۔ شدید تکلیف کے علاوہ مریض چلنے پھرنے سے بھی معذور ہو جاتا ہے۔

امریکہ کی ریاست اوہایئو کے ویکزنر میڈیکل سینٹر کے تحقیق کاروں نے اب ایک متبادل طریقہ دریافت کیا ہے۔ انہوں نے ایسا آلہ یجاد کیا ہے جو گھٹنے پر پڑنے والے دباو کو گھٹنے کے اندرونی حصے پر پڑنے سے بچاتا ہے۔ اس میڈیکل سینٹر کے محقق ڈاکٹر ڈیوڈ فلےنی گان کہتے ہیں کہ یہ ایک طرح سے شاک اَبزرور ہے، تقریباً ویسا ہی جیسا کہ گاڑیوں میں نصب ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے آپ کو جھٹکے محسوس نہیں ہوتے۔ یہ آلہ گھٹنے کے جوڑ کے اند پڑنے والے بوجھ کو اٹھا کر گھٹنے کے بیرونی حصے کو منتقل کر دیتا ہے۔ اس سے نہ صرف درد میں کمی آتی ہے بلکہ ارتھائٹس کے بڑھنے کی رفتار بھی سست ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر ڈیوڈ فلےنی گان کا کہنا ہے اگر اس میں مزید کامیابی حاصل ہو گئی تو پھر گھٹنے تبدیل کرنے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی آجائے گی، جو روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔

اس جدید طریقے کو کلیپسو نی سسٹم (Calypso knee system) کا نام دیا گیا ہے۔

اس وقت امریکہ میں ہر سال تقریباً چھ لاکھ گھٹنوں کی تبدیلی کے اَپریشن کیے جاتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال پوری دنیا میں دس سے پندرہ فی صد افراد کسی نہ کسی عمر میں آرتھرائٹس کا شکار ہو رہے ہیں۔

اس نئے طریقے کو تجرباتی مراحل سے نکل کر اَزمودہ ہونے میں پانچ سے دس سال لگ سکتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...