Loading...

کٹے ہوئے ہونٹ اور تالو کے پیدائشی نقص کا بحران

0

کٹے ہوئے ہونٹ اور تالو دنیا بھر میں انتہائی عام پیدائشی نقص ہیں۔ پیدائش سے پہلے ہی یہ ممکن ہے کہ بچوں کے ہونٹ کٹے ہوں یا پھر تالو مناسب طور پر جڑے ہوئے نہ ہوں۔ حمل کے چھٹے سے گیارہویں ہفتے کے دوران عام طور پر ہونٹ اور تالو مناسب طور پر جڑ جاتے ہیں اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر بچے کٹے ہونٹوں یا تالو کے نقص کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر عام طور پر اس کو جوڑ سکتے ہیں لیکن اگر اس کو جوڑا نہ جائے تو پھر بچے کو صحت کے سنگین مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے اور ممکنہ طور پر اس کی زندگی کا دورانیہ بھی کم ہو سکتا ہے۔ وائس آف امریکہ کی کیرل پیرسن نے اس بات کا جائزہ لیا ہے کہ کم آمدن والے ملکوں میں اس نقص کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں پر کس طرح کے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔

امیر ملکوں میں کٹے ہونٹوں اور تالو کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی مناسب دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر البرٹ اوہ بچوں کی پلاسٹک سرجری کرتے ہیں اور واشنگٹن میں چلڈرنز نیشنل میڈیکل سنٹر میں ان بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اور اُن کے ساتھی ہر سال اوسطا ایک سو سے زائد کیسز کی دیکھ بھال کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر ہفتے اُنہیں غالبا ایک سے دو کیسز کو دیکھنا ہوتا ہے۔

امریکہ میں تقریبا ہر 1,500 بچوں میں سے ایک تالو کے نقص کے ساتھ پیدا ہوتا ہے ۔ اس کا دارومدار نسل پر بھی ہوتا ہے۔ افریقی نسل کے بچوں میں اس کا امکان کم ہوتا ہے۔ آپ سمجھئے تقریبا ہر 1,200 بچوں میں سے ایک میں یہ نقص موجود ہوتا ہے۔ یونیورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا کے ڈاکٹر یانگ چائی نے ایک ایسے جینیاتی رابطے کے بارے میں معلوم کیا ہے جو کٹے ہونٹوں میں 30 فیصد تک کا ذمے دار ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایشائی بچوں میں اس نقص کا خطرہ زیادہ ہے۔

ڈاکٹر چائی کہتے ہیں کہ آپ دنیا بھر میں اس پیدائشی نقص کا جا ئزہ لیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ایشین نسل میں اس کی اوسط ہر سات سو میں ایک ہے۔

ان بچوں کو اکثر تعصب کا سامنا ہوتا ہے کیونکہ وہ مختلف دکھائی دیتے ہیں ۔ لیکن کٹے ہونٹ اور تالو کی پیچیدگیاں سرجری کے علاوہ بھی ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ سے بولنے کے ساتھ ساتھ دانتوں کے مسائل اور دیگر مشکلات بھی پیدا ہوتی ہیں۔ تالو کے نقص کے ساتھ پیدا ہونے والے بچے چوسنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ غذائی کمی کی وجہ سے بچوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ اس طرح ممکن ہے کہ آٹھ یا نو سال کی عمر کا بچہ تین یا چار سال کی عمر کا دکھائی دے۔

آپریشن سمائل جیسے فلاحی ادارے اس طرح کے پیدائشی نقائص کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی مدد کرتے ہیں۔ اس ادارے کے بانی ڈاکٹر بل میگی کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم نے اپنے اس مشن کو توسیع دی ہے۔ سکائپ کے ذریعے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تقریبا 1999 تک اُن کے تمام رضاکار امریکہ ہی سے تعلق رکھتے تھے۔ اس وقت اُن کے 80 فیصد رضاکاروں کا تعلق دنیا بھر کے 70 یا 80 ملکوں سے ہے۔ اس لئے ڈاکٹر بل میگی مشن کا غالباً 70 سے 80 فیصد کام مقامی لوگ اپنے ملکوں میں کرتے ہیں اور انہوں نے ڈاکٹر بل سے تربیت حاصل کی ہوتی ہے۔

ہمارے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ فلاحی ادارے ابھی بھی کٹے ہونٹوں اور تالو کی 80 فیصد سے زائد سرجری ویت نام میں کرتے ہیں۔ کم آمدن والے بیشتر ملکوں میں طبی اخراجات کی ادائیگی علاج سے پہلے کرنا ہوتی ہے اور زیادہ تر خاندان سرجری کے اخراجات اٹھانے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ڈاکٹر بل کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سرجری کے لئے انفرا سٹرکچر بہت اہم ہے اور دنیا بھر کے ملکوں میں اس انفرا سٹرکچر کو بہتر بنانا بہت ضروری ہے۔

جینیاتی عوامل کٹے ہونٹوں جیسے نقص میں تقریبا 30 فیصد ذمےدار ہوتے ہیں اور پھر ماں کی صحت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سائنسدان ابھی بھی یہ کوشش کر رہے ہیں کہ اس کے اسباب کا پتہ چلایا جائے اور انھیں امید ہے کہ اس طرح ایک دن ایسا آئے گا جب بچوں میں اس پیدائشی نقص کو روکا جا سکے گا۔

اس سلسلے میں بہجت جیلانی کا پروگرام ’’آپ کی صحت‘‘ سننے کیلئے یہاں کلک کریں:

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...