Loading...

کیمرے اور ’الارم‘ کی مدد سے گھر یا تنصیبات کی بہتر حفاظت

0

آجکل دنیا بھر میں آپکا گھر ہو یا دفتر یا پھر کوئی گودام۔ کیمرے اور الارم ان کی حفاظت کے لئے نصب کئے جاتے ہیں۔ لیکن، اب آپ ایک ایسے سیکورٹی گارڈ کو بھی دیکھ سکیں گے جو ان مقامات کی حفاظت کرتے ہوئے کسی بھی ایسی چیز پر نظر رکھتا ہے جو معمول سے ہٹ کر ہو۔ ’وائس آف امریکہ‘ کی مشعل کوئن کی ایک رپورٹ کے مطابق، اب یہ سیکورٹی گارڈ چوکس انداز میں کمروں میں گھومتا ہے اور کسی بھی غیر معمولی چیز پر نظر رکھتا ہے۔

کوبالٹ نامی اس روباٹ سیکورٹی گارڈ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو ٹریوس ڈیل (سعید دیال) کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر یہ انتہائی حساس سینسرز اور ایک خود کار گاڑی پر مشتمل ہے۔ گاڑی کی مدد سے یہ اندرونی مقامات پر گھومتا رہتا ہے۔ یہ معمول کی صورتحال کے ساتھ ساتھ غیر معمولی صورتحال کا جائزہ لیتا ہے اور یہ سب کچھ سینسرز کی مدد سے ممکن ہوتا ہے۔

ٹریوس دیال نے کوبالٹ بنایا ہے اور یہ ایک متحرک دفتری فرنیچر کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ اس کی بیرونی نرم کپڑے سے بنی سطح دراصل ایک چلتا پھرتا سیکورٹی نظام ہے جس میں ساٹھ سے زائد سینسرز ہیں اور یہ حدت۔ نمی۔ دھویئں اور لوگوں کا پتا چلا سکتے ہیں۔ اس میں نصب کیمرے ہر چیز پر نظر رکھتے ہیں جبکہ مائکروفونز کی مدد سے غیر معمولی آوازوں کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔

ان کے علاوہ باقی ہر چیز بنیادی طور پر ایک خود کار گاڑی کی طرح ہے۔ کیمروں اور سینسرز کے ساتھ یہ روباٹ کی طرح کا آلہ مختلف رکاوٹوں کا پتا چلا سکتا ہے اور اندرونی جگہوں پر بآسانی حرکت کر سکتا ہے۔

حرکت کرتے ہوئے کوبالٹ اندرونی جگہ کا خاکہ بنا لیتا ہے اور پھر ایسی چیزوں کی تلاش کرتا ہے جو وہاں درست معلوم نہیں ہوتیں اور اس جگہ کے لئے مناسب نہیں لگتیں جیسے کسی جگہ پر کوئی چیز گری ہوئی ہو۔ کوئی کھڑکی یا دروازہ کھلا ہو۔ پھر یہ کاربن مونو آکسائیڈ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا بھی پتا چلا سکتا ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کی وہاں انٹرنیٹ کا نظام کام کر رہا ہے یا نہیں۔ اگر کوبالٹ کو کسی غیر معمولی چیز کا احساس ہو جائے تو اس میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ اس جگہ سے باہر سیکورٹی کے کسی ماہر سے رابطہ کر سکے جو سکرین کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرے گا۔ آج ڈیوٹی پر ماہر سعید بوگ دون ہیں۔

کوبالٹ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو ٹریوس ڈیال کہتے ہیں کہ کسی بھی مسئلے کے حوالے سے رابطہ کرتے ہوئے معاملے کی تہ تک پہنچ جاتے ہیں، کیونکہ روباٹ اس جگہ پر گھومتا پھرتا ہے تو اس رابطے کے دوران یہ سوالوں کا جواب بھی دیتا ہے۔ جیسے یہ سیکورٹی ماہر کو بتائے گا کہ اس کے خیال میں وہاں کوئی شخص موجود ہے جو ممکنہ طور پر اجنبی ہے۔ اور یوں سیکورٹی کا ماہر اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے صورتحال سے آگاہ ہو جاتا ہے۔

یہ عین ممکن ہے کہ مستقبل میں آپ کوبالٹ جیسے سیکورٹی گارڈ دیکھیں جو ایک ایسی مشین ہے جو ان اوقات میں گھروں اور دفتروں کے اندر گھوم کر کسی غیر معمولی صورتحال کا پتا چلانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ لیکن جب اسے کوئی مدد درکار ہو تو اس کا انحصار انسانی ذہانت پر ہو۔

آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئے:

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...