Loading...

انڈس بلیو کے لئے بھارت میں ایوارڈز لیکن پاکستان میں مسائل ؟

0

پاکستانی دستاویزی فلم ’انڈس بلیو‘ بھارت میں 2 ایوارڈز حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ بھارتی ریاست راجستھان کی ’پنک سٹی‘ جے پور میں 18 سے 22 جنوری تک جاری رہنے والے 11 ویں انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں اسے ’بہترین دستاویزی فیچر‘ اور ’بہترین سینما فوٹوگرافی ‘ ایوارڈز سے نوازا گیا ہے۔

چونکہ بھارت فلموں کی ایک بڑی مارکیٹ اور دنیا کی سب سے زیادہ فلمیں پروڈیوز کرنے والی فلم انڈسٹریز میں سے ایک ہے نیز بھارت اور پاکستان کے سیاسی تعلقات میں بھی اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے لہذا وہاں کسی پاکستانی فلم کو 2 ایوارڈ مل جانا اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ پاکستان پہلے سے زیادہ اچھی فلمیں پروڈیوز کرنے لگا ہے ۔

فلم کی تیاری کے وقت کا ایک منظر

’انڈس بلیو‘ کا ایوارڈ لینا یوں بھی اہم ہے کہ رواں سال اس فیسٹیول کے لئے 89 ممالک سے 1800 سے زائد فلمیں بھیجی گئی تھیں۔ ان تمام فلموں میں سے پاکستانی فلم کا انتخاب فلم کے بہترین ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

لیکن ’انڈس بلیو ‘ کے نوجوان ڈائریکٹر جواد شریف کا کہنا ہے کہ ’جو فلم بھارت میں ایوارڈ لینے میں کامیاب رہی اسے اندرون ملک ریلیز کے لئے کئی ماہ کا انتظار کرنا پڑے گا۔ وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں وہ اس کی وجہ مالی وسائل کو قرار دیتے ہیں۔

فلم کے ڈائریکٹر جواد شریف

فلم کے ڈائریکٹر جواد شریف

جواد شریف نے وی او اے کو بتایا ’ ایوارڈ ملنے پر میں بہت خوش ہوں ۔ بھارت ہمارا پڑوسی اور ایک بڑی فلم انڈسٹریز کا ’مالک ‘ہے ایسے میں وہاں سے پذیرائی ملے ہو تو اور زیادہ خوشی ہوتی ہے ۔ فلم کی تیاریوں کے وقت ہمیں بہت سے سخت حالات اورانگنت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اب فلم تیار ہے اور دنیا کے آٹھ ممالک میں اس کی اسکریننگ ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود فلم کی ریلیز میں ہمیں بے پناہ مسائل کا سامنا ہے ۔ ‘

ان کے بقول ’انڈس بلیو‘ نان کمرشل فلم ہے ۔ غیر تجارتی فلم کی تیاری کے وقت بہت سے لوگ آپ کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جیسے جیسے معاملات آگے بڑھتے ہیں، وقت گزرتا ہے ان کی سوچ یہ ہوجاتی ہے کہ وقت بہت لگ رہا ہے جبکہ اس پروجیکٹ سے مالی فائدہ بھی کوئی نہیں لہذا وہ پیچھے ہٹتے چلے جاتے ہیں۔ انڈس بلیو پاکستان میں پہلے ہی ریلیز کی جاسکتی تھی لیکن چونکہ ہمارے پیچھے کوئی بڑا پروڈکشن ہاؤس نہیں سب کچھ ہم نے خود ہی کرنا ہے۔ کمرشل انسٹی ٹیوشنز، کمرشل سنیما مالکان ، اسٹوڈیوز اسے کمرشل فلموں کی طرز پر ریلیز کرنے پر تیار نہیں ۔ ان حالات میں میری ان سے یہی گزارش ہوگی کہ جیو فلمز ،اے آر وائی فلمز یا ہم ٹی وی فلمز وغیرہ جیسے بڑے پروڈکشن ہاؤسز نان کمرشل فلموں کو بھی سپورٹ کریں تاکہ نئے آنے والوں کے حوصلے بلند ہوں۔ پاکستان کا نام روشن ہو۔ دنیا بھر میں یہی ہوتا ہے ۔ حکومتیں نان کمرشل فلموں کے ٹیکسز تک معاف کر دیتی ہیں۔‘

’انڈس بلیو‘ میں اس حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ پاکستان سے لوک موسیقی اور اس کے سازندے ۔۔۔ دونوں کم سے کم تر ہوتے جا رہےہیں ۔ بعض ساز تو ایسے ہیں جنہیں عوام پہنچانا بھی بھول گئی اور اب نہ کوئی ان سازوںکو ’لے ‘ میں ڈھالنے والا ہے نہ سننے ، سنانے والا کوئی۔

کچھ لوک فنکار اور کلاسیکل موسیقارہیں بھی تو انہیں انگنت مسائل کا سامنا ہے جبکہ موسیقی کے آلات بنانے والے کاریگر بھی کسی اور پیشے سے وابستہ ہوگئے ہیں۔۔ اور یوں کچھ فن ادھورے، آلات موسیقی ’خاموش‘ اور لوگ ’بے فن ‘ ہوگئے ہیں۔

فلم کی شوٹنگ کے وقت کا ایک اور منظر

فلم کی شوٹنگ کے وقت کا ایک اور منظر

فلم کی بھارت میں بڑے پیمانے پر پذیرائی ملنے کی وجہ سے متعلق سوال پر جواد شریف کا کہنا تھا ’چولستان دونوں ممالک کی سرحدوں میں بٹا ہوا ہے ۔ ہماری فلم کی کہانی میں چولستان کے وہ علاقے دکھائے گئے ہیں جو شاید دوسری جانب کے لوگوں نے ابھی تک نہیں دیکھے تھے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہیں یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ دونوں جانب کی ثقافت ، پہناوا، لوگ، ان کا اٹھنا بیٹھنا سب کچھ ایک جیسا ہے ۔ بہت سے بھارتیوں نے مجھ سے فون پر چولستان کے ان علاقوں کودیکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے جو اب تک ان کے لئے انجان تھے اور ان کی ایک جھلک انہوں نے پہلی بار ’انڈس بلیو ‘میں دیکھی۔ ‘

جواد کے بقول’ انگنت لوگوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم بھارت میں باقاعدہ ’انڈس بلیو ‘ ریلیز کریں ۔ میرے خیال میں اگر یہ تجویز حکومتی سطح پر بھی مان لی جائے تو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان فاصلوں میں کمی آئے گی ۔ ‘

مجھے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ وہاں کے فلم بینوں نے’انڈس بلیو ‘ کو سراہا ہے ۔ ہمارا مقصد بھی یہی تھا کہ وقت کے ہاتھوں قدر کھوتے فنکاروں کا پیغام دنیا تک پہنچے۔ چند بھارتی دوستوں کا مجھ سے یہ کہنا کہ چولستان کے حالات دونوں طرف ایک جیسے ہیں اور یہاں بھی کم و بیش یہی صورت حال ہے ۔ ۔۔میں سمجھتا ہوںان کا یہ پیغام عوام کو ایک دوسرے کو قریب لانے کاذریعہ بننے میں معاون ثابت ہوگا۔‘

ایک سوال کے جواب میں جواد کا کہنا تھا’ جن دنوں یہ فیسٹیول ہوا وہ بیرون ملک تھے اور مصروفیات کچھ اس نوعیت کی تھیں کہ انہیں نمٹاتے نمٹاتے ویزا اپلائی کرنے کا وقت کم پڑگیا لیکن فیسٹیول کی انتظامیہ نے مجھے ایوارڈ ملنے سے متعلق اطلاع دی ۔ فیسٹیول کی اختتامی تقریب میں میرا اور میرے ملک کا نام پکارا گیا۔ مجھے تو اس کی ویڈیو دیکھ کر ہی بہت اچھا لگا۔ ویڈیو ان کی آفیشیل ویب سائٹ پربھی موجود ہے۔ اب انتظامیہ نے یہ ایوارڈز پاکستان بھیجنے کا کہا ہے ۔ انہیں لینے تو شاید میں اب بھی نہ جاسکوں لیکن اگر دوبارہ کوئی موقع آیا تو میںبھارت ضرور جاؤں گا ۔‘

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...