Loading...

عہد فاروقیؓ کے ناقابل فراموش واقعات

0

٭ایک مرتبہ حضرت سیدنا عمرؓ کے عہد خلافت میں ایک لڑکے کو زنا کے جرم میں سز دینے کیلئے لیجایا جارہا تھا(واضح رہے کہ اسلام میں شادی شدہ زانی کیلئے سنگسار اور غیر شادی شدہ کیلئے اسی کوڑے بطور سزا ہیں) وہ لڑکا اونچی اونچی آواز سے پکار رہا تھا کہ میں بے گناہ ہوں مجھے سزا نہ دی جائے حضرت علی ؓکا وہاں سے گزر ہوا تو حضرت علیؓ نے اس لڑکے کی پکار سن کر سرکاری اہلکاروں کو روکنے کا حکم فرمایا

 اور لڑکے سے پوچھا کیا معاملہ ہے؟لڑکے نے حضرت علیؓ سے کہا کہ جناب! جس جرم نسبت میری طرف کی جارہی ہے وہ میں نے نہیں کیا ،دعویٰ کرنے والی میری ماں ہے۔حضرت علیؓ نے فرمایا اس کی سزا کو روک دیا جائے

میں اس کیس کو دوبارہ سن لوں ۔اگر یہ لڑکا گناہ گار ہوا تو تب سزا دینا۔دوسرے دن حضرت علیؓ نے عورت اور لڑکے کوعدالت میں طلب فرمایا لیا،عورت سے پوچھا کیا اس نے تیرے ساتھ غلط کام کیا ہے ؟ اس نے کہا ہاں، پھرحضرت علیؓ نے لڑکے سے پوچھا یہ عورت تیری کیا لگتی ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ یہ میری ماں ہے،عورت نے اسے بیٹا ماننے سے انکار کردیا ،فیصلہ سننے کیلئے لوگوں کا بہت زیادہ ہجوم جمع تھا،حضرت علیؓ نے فرمایا تو اچھا پھر ایعورت!میں اس لڑکے کا تیرے ساتھ اتنے حق مہر کے بدلے نکاح کرتا ہوں تو عورت چیخ اٹھی کہ اے علی ؓ!کیا کسی بیٹے کا ماں کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہے؟ حضرت علیؓ نے استفسار فرمایا کہ کیا مطلب ؟ تو اس عورت نے جواب دیا کہ اے علیؓ !یہ لڑکا تو واقعی میرا بیٹا ہے اس پر حضرت سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ

کیا کوئی بیٹا اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کر سکتا ہے ؟ عورت نے کہا کہ نہیں ۔حضرت سیدنا علیؓ نے فرمایا تو پھر تونے اس اپنے بیٹے پر ایسا الزام کیوں لگایا؟ تو عورت نے جواب دیا ۔اے علیؓ! میری شادی ایک امیر کبیر شخص سے ہوئیتھی اس کی بہت زیادہ جائیداد تھی یہ بچہ ابھی کمسن ،دودھ پیتا ہی تھا کہ میرا خاونوند مر گیا،تو میرے بھائیوں نے مجھے کہا کہ یہ لڑکا تو اپنے باپ کی جائیداد کا وارث ہے اس کو کہیں چھوڑ آؤ میں اسے کسی آبادی میں چھوڑ آئی ،ساری جائیداد میری اور میرے بھائیوں کی ہوگئی ،یہ لڑکا بڑا ہوا تو ماں کی محبت نے اس کے دل میں انگڑائی لی ،یہ ماں کو تلاش کرتا کرتا میرے تک پہنچ گیا میرے بھائیوں نے مجھے پھر ورغلایا کہ اس پر جھوٹا الزام لگا کر اس کی زندگی کا سانس ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا جائے تو میں نے اپنے ہی بیٹے پر جھوٹا الزام اپنے بھائیوں کی باتوں میں آکر لگا دیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ میرا بیٹا ہے ،اور بالکل بے گناہ ہے۔جب اس قضیٔے کا علم امیر المومنین،خلیفتہ المسلمین،خلیفۂ دوئم سیدنا عمر ابن خطاب ؓکو ہوا تو آپ ؓ نے فرمایا کہ

اگر آج علیؓ نہ ہوتے تو عمرؓ ہلاک ہوجاتا۔٭خلیفۂ دوئم سیدنا عمرؓ کا عہد خلافت عدل وانصاف کا حسین دورتھا کسی کے ساتھ ناانصافی کا تصور بھی نہیں تھا،ایک دفعہ ایک بوڑھی عورت حضرت سیدنا عمرؓ کے پاس آئی اور کہاکہ اے امیر المومنین میں مٹی کا تیل لے کر آ رہی تھی کہ زمین پر گر گیا اور زمین نے اسے جذب کر لیا، اس عورت نے کہا کہ میرامٹی کا تیل زمین سے واپس لے کر دو،حضرت عمرؓ اس جگہ گئے جہاں زمین نے مٹی کا تیل جذب کیا تھا ،زمین پر دھرامارکر فرمایااے زمین! اس عورت کا تیل واپس کرو ،عمرؓ نے کونسا تیرے اوپر ظلم کیا ہے ؟ تاریخ شاہد ہے کہ وہاں سے مٹی کے تیل کا چشمہ جاری ہوگیا۔٭ختم نبوت کے مسلہ پر قائم ہونے والے مسلیمہ کذاب کے خلاف اسلام کے عظیم الشان معرکے میں حضرت عمر فاروقؓ کے بھائی حضرت زید بن خطاب ؓ بھی شہید ہوئے تھے جب لشکر اسلام واپس ہوکر مدینہ پہنچا تو

حضرت عمرؓ نے اپنے صاحبزادے حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے جو اس لڑائی میں شریک تھے فرمایا : کیا بات ہے تمہارے چچا تو اس لڑائی میں شریک ہوں اور تم زندہ رہو،تم زید ؓ سے پہلے کیوں نہ مارے گئے ؟کیا تمہیں شوق شہادت نہ تھا؟ جناب عبداﷲ ؓ نے عرض کیا ،چچا جان اور میں نے حق تعالیٰ سے شہادت کی دعا اکٹھے مانگی تھی،ان کی دعا قبول ہوئی اور میں اس شہادت سے محروم رہا ،حالانکہ میں نے دعا میں کمی نہ کی تھی۔٭قبیلہ بکر بن وائل کے ایک شخص نے حیرہ کے ایک عیسائی کو قتل کردیا ،حضرت عمرؓ نے حکم دیا کہ قاتل کو مقتول کے ورثہ کے سپرد کردو ۔چنانچہ وہ قاتل جو مسلمان تھا،مقتول کے وارث حنین کے سپرد کردیا گیا،اس نے اسے اپنے عزیز کے بدلے قتل کردیا۔٭ایک معاملے میں حضرت عمر ؓ ایک فریق تھے ،ان کا ایک لڑکا عاصم مطلقہ بیوی سے تھا ،لیکن انہوں نے کافی عرصہ تک اس بچے کی خبر نہ لی تھی اور وہ اپنی والدہ ہی کے پاس تھا ۔ایک دن حضرت عمرؓ کوموضع جتا جانے کا اتفاق ہوا ، جہاں انہوں نے مسجد کے قریب ہی بچے کو دیکھ لیا محبت پدری سے مجبور ہوکر انہوں نے لڑکے کو اٹھا لیا اور اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہا ،

اسی اثناء میں لڑکے کی نانی جس نے اس بچے کی پرورش کی تھی آگئی اور جھگڑا کرنے لگی ،دونوں فریق حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں پہنچے اور دونوں نے بچے کی تولیت کا دعویٰ کیا۔خلیفہ نے فریقین کی بات سن کر نابالغ بچے کی بہبود کی خاطر فیصلہ حضرت عمرؓ کے خلاف دے کر بچے کو نانی کو سپرد کردیا۔٭خلیفۂ ثانی سیدنا عمر ابن خطا ب ؓ کے عہد خلافت میں ایک شخص نے سیدنا عمر ابن خطاب ؓ سے شکایت کی کہ اے امیر المومنین گورنر مصر حضرت عمروبن العاصؓ کے بیٹے محمد بن عمرؓ ونے میری پشت پر آٹھ کوڑے مارے ہیں اور کہتا ہے کہ میں گورنر کا بیٹا ہوں خلیفہ ٔ دوئم نے حکم فرمایا کہ محمد بن عمرو کو گرفتار کرکے لایا جائے اور عمروبن العاصؓ کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا ۔جب محمدبن عمرو ؓ کو گرفتار کرکے لایا گیا تو حضرت عمرؓ نے اس آدمی سے کہا کہ گورنر کے بیٹے محمد بن عمرؓ وکی پشت پر آٹھ کوڑے مارو۔ اس متاثرہ شخص نے گورنرکے بیٹے کی پشت پرکوڑے مارے تو حضرت عمرؓ بن خطاب نے اس آدمی سے کہا کہ

اب عمروبن العاصؓ کی پشت پر بھی ایک کوڑا مارو تاکہ اسے پتا چلے کہ اس کا بیٹا کیا کرتا ہے ؟اس پر اس آدمی نے کہا کہ اے امیرالمومنین !عمروبن العاصؓ نے تو مجھے کوئی کوڑا نہیں مارا لہٰذا میں انھیں معاف کرتا ہوں ۔اس کے بعد خلیفہ ٔ دوئم عوام کے جم غفیر کے سامنے گورنر مصرحضرت عمروبن العاص ؓ سے مخاطب ہوئے اور فرمایا اے عمروبنالعاصؓ تمھیں کیا ہوگیا ؟لوگوں کو تم نے کب سے اپنا غلام بنانا شروع کردیا ہے حالانکہ ان کی ماؤں نے انھیں آزاد جنا تھا۔( ایک جرمنی کی پارسی لڑکی اس واقعہ کی وجہ سے حضرت عمر ؓ بن خطاب سے اس قدر متاثر ہوئی کہ اس نے سیرت سیدنا عمرؓ پر 7000 انگریزی کی کتب جمع کیں اور ایک انٹرنیشنل لائبریری بنائی اور اس نے ایک بین الاقوامی سیمینار منعقد کیا جس میں 1000 دنیا کے بڑے دانشوروں نے شرکت کی اس نے مقالہ پیش کیا جسمیں یہ اعتراف کیا گیا کہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار سیدنا عمر بن خطابؓ ہے کیونکہ حضرت عمرؓ نے انسانوں کو تمام بنیادی حقوق دئیے اورآپ ؓ کے ان الفاظ ” اے عمروبن العاصؓ تمھیں کیا ہوگیا ؟لوگوں کو تم نے کب سے اپنا غلام بنانا شروع کردیا ہے؟” نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا۔٭ایک مرتبہ حضرت سیدنا عمر فاروق ؓ گلیوں میں گشت کر رہے تھے ایک بوڑھی عورت آپؓ سے ملی اس نے شکوہ شروع کردیا کہ

میں بہت پریشان ہوں میرا کوئی پرسان حال نہیں خلیفہ میرا خیال نہیں رکھتا ،میری خبر گیری نہیں کر رہا ۔وہ عورت نہیں جانتی تھی کہ یہ شخص جس سے میں بات کر رہی ہوں وہی مسلمانوں کے خلیفہ ہیں،حضرت عمرؓ نے اس عورت سے پوچھا کہ اماں جی آپ نے حضرت عمر ؓ کو اپنے حالات سے آگاہ کیا ہےکبھی ؟اس پر عورت نے جواب دیا کہ میں کیوں بتاؤں ۔حضرت عمرؓ نے کہا کہ اماں جی اگر آپ عمرؓ کو نہیں بتائیں گی تو عمرؓ کوکس طرح علم ہوگااورآپ کا مسٔلہ کیسے حل ہوگا ؟عورت نے جواب دیا کہ اگر عمر ؓمیرے حالات کی خبر نہیں رکھ سکتا تو اس کو کس نے کہا تھا کہ مسلمانوں کا خلیفہ بنے؟ اس جواب پر حضرت سیدنا عمرابن خطاب ؓچونک گئے اور فوری اس کی شکایت کا ازالہ کیااور خبر گیری کی مہم اور تیز کردی۔(آج کرہ ارض پر نبی اکرم ؐ،صحابہ کرام ؓ کا قائم کردہ نظام خلافت نہیں ہے تو مسلمانوں کے بڑے بڑے مسائل کی خبر گیری کرنے والا اس وقت کوئی نہیں ،مسلمان مسائل کی آگ میں بھسم ہوکر رہ گئے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں کیا مقدر والا تھا وہ دور جب ہر انسان کو اس کے بنیادی حقوق اس کی دہلیز پر ملتے تھے

اس کے برعکس انسان آج بنیادی حقوق سے اس قدر محروم ہیں کہ انسانیت شرم کے مارے منہ چھپاتی پھر رہی ہے ۔)٭ایک مرتبہ خلیفۂ دوئم سیدناحضرت عمرؓ کھانا نوش فرمارہے تھے ۔غلام نے آکر عرض کیا عتبہ ؓ بن ابی فرقد حاضر ہوئے ہیں ۔آپؓ نے اندر آنے کی اجازت فرمائی اور کھانے کی تواضع فرمائی ۔وہ شریک ہوگئے تو ایسا موٹا کھانا تھا کہ نگلا نہ گیا ۔انہوں نے عرض کیا کہ چھنے ہوئے آٹے کا کھانا بھی تو ہوسکتا تھا۔آپؓ نے فرمایا کیا سب مسلمان میدہ کھاسکتے ہیں ۔عرض کیا سب تو نہیں کھا سکتے۔فرمایا افسوس تم یہ چاہتے ہو کہ میں اپنی ساری لذتیں دنیا ہی میں ختم کردوں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...