Loading...

'ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈے' کے الزام میں صحافی گرفتار

0

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ‘ایف آئی اے’ نے معروف صحافی اور اینکر رضوان رضی کو لاہور سے حراست میں لے لیا ہے۔

رضوان رضی نجی ٹی وی چینل ‘دن نیوز’ سے منسلک اور ٹوئٹر پر خاصے سرگرم تھے لیکن ان کی گرفتاری کے بعد سے ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل ہے۔

رضوان رضی کے صاحبزادے اسامہ رضی نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ ہفتے کی صبح ساڑھے دس بجے لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں ان کے گھر پر بعض نامعلوم افراد آئے تھے جنہوں نے ان کے والد پر تشدد کیا اور انہیں گاڑی میں بٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔

اسامہ رضی نے بتایا کہ ان کی والدہ اور اہلِ محلہ نے فائر کی آواز بھی سنی۔

ان کے بقول بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ ان کے والد کو ایف آئی اے کے شادمان تھانے منتقل کیا گیا ہے۔

اسامہ رضی نے شبہ ظاہر کیا کہ ان کے والد کی گرفتاری میں کسی ایجنسی کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے رضوان رضی کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں فوج اور عدلیہ کے خلاف سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض مواد شائع کرنے کے الزام میں سائبر کرائم ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق رضوان رضی کو پیر کو مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

سوشل میڈیا پر رضوان رضی کی ایک تصویر بھی گردش کر رہی ہے جس میں انہیں ہتھکڑیاں لگی ہوئی ہیں۔

اس سے قبل پولیس نے لاہور کے معروف ایف سی کالج کے ایک استاد پروفیسر عمار جان کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کرلیا تھا۔

عمار جان کے والد خالد جان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب ان کے بیٹے کی ڈیفنس میں واقع رہائش گاہ پر ایک درجن سے زائد پولیس اہل کاروں نے اس وقت دھاوا بول دیا تھا جب تمام گھر والے سو رہے تھے۔

سوشل میڈیا پر رضوان رضی کی گرفتاری کے بعد کی ایک تصویر بھی گردش کر رہی ہے جس میں انہیں ہتھکڑیاں لگی ہوئی ہیں۔

ان کے بقول جب وہ موقع پر پہنچے اور وارنٹ طلب کیے تو پولیس والوں نے بتایا کہ ان کے پاس وارنٹ گرفتاری ہیں لیکن وہ ابھی نہیں دکھا سکتے۔

ڈاکٹر خالد جان نے بتایا کہ ان کے بیٹے کیمبرج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں اور ایف سی کالج میں پڑھاتے ہیں۔

ڈاکٹر خالد جان کے بقول عمار جان پولیس اور ریاستی اداروں کی حراست میں لوگوں کی ہلاکتوں کے خلاف تھے اور انہوں نے چند روز قبل لاہور میں پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما ارمان لونی کی ہلاکت کے خلاف احتجاج میں حصہ لیا تھا۔

ڈاکٹر خالد نے کہا کہ انہیں حکام نے بتایا ہے کہ ان کے بیٹے کو اس احتجاج میں شرکت پر گرفتار کیا گیا ہے۔

بعد ازاں لاہور کی ایک مقامی عدالت نے پروفیسر عمار جان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم جاری کردیا۔

رضوان رضی اور عمار جان کی گرفتاریوں کے خلاف حکومت اور سکیورٹی اداروں پر سوشل میڈیا میں کڑی تنقید کی جا رہی ہے اور ان گرفتاریوں کو آزادیٔ اظہار کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔

حزبِ اختلاف کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے بھی رضوان رضی اور پروفیسر عمار کی گرفتاریوں کی مذمت کی ہے۔

پیپلزپارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری چوہدری منظور نے کہا ہے رات کے آخری پہر کسی کو گھر سے اٹھا لینا کہاں کا انصاف ہے؟

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا پشتوں تحفظ موومنٹ کے حق میں بات کرنا غداری ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی جانب سے رضوان رضی کی گرفتاری پر پنجاب اسمبلی میں ایک قرارد بھی جمع کرا دی گئی ہے۔

ن لیگ کی رکن پنجاب اسمبلی عظمیٰ بخاری کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ رضوان رضی کی گرفتاری اظہارِ رائے پر پابندی کی بدترین مثال ہے۔

وائس آف امریکہ نے ان دونوں گرفتاریوں پر حکمران جماعت تحریکِ انصاف کا ردِ عمل معلوم کرنے کی بھی کوشش کی لیکن پی ٹی آئی کے ایک ترجمان نے اس موضوع پر بات کرنے سے معذرت کرلی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...