Loading...

ایک دلچسپ تجزیہ

0

لی کو آن یو سنگاپور کے بانی ہیں‘ یہ اکتیس سال تک ملک کے وزیراعظم بھی رہے‘ یہ پیشے کے لحاظ سے بیرسٹر تھے اور ان کی زندگی کا ایک حصہ برصغیر میں مسلمانوں‘ ہندوؤں اور سکھوں کے مقدمے لڑتے گزرا‘ لی کو آن یو کا برصغیر کے مسلمانوں کے بارے میں ایک بڑا دلچسپ تجزیہ ہےان کا کہنا ہے‘ میں جب لاء کی پریکٹس کرتا تھا تو میرے پاس ہندو کلائنٹس بھی آتے تھے اور مسلمان بھی۔ میں ان کے کیس کی سٹڈی کر کے انہیں بتا دیتا تھا‘ آپ کے کیس میں جان ہے‘ آپ کیس فائل کر دیں یا

پھر آپ کا مقدمہ کمزور ہے‘ آپ یہ کیس ہار جائیں گے‘ ۔آپ یہ مقدمہ دائر نہ کریں‘ میری دوسری آبزرویشن پر عموماً ہندوؤں کا

رویہ مصالحانہ ہوتا تھا‘ یہ کہتے تھے‘ آپ دوسری پارٹی سے ہماری صلح کروا دیں‘ میں دونوں پارٹیوں کو آمنے سامنے بٹھاتا تھا اور یہ لوگ بات چیت سے معاملہ حل کر لیتے تھے لیکن مسلمانوں کے بارے میں میرا تجربہ بالکل مختلف تھامیں جب انہیں یہ بتاتا تھا کہ آپ کا کیس کمزور ہے‘ آپ یہ مقدمہ ہار جائیں گے‘ تو یہ فوراً کہتے تھے‘ اللہ مالک ہے‘ آپ بس کیس دائر کریں‘ میں مقدمہ لڑوں گا‘ میں فوت ہو گیا تو میرا بیٹا کیس لڑے گا اور اگر وہ بھی فوت ہو گا تو اس کابیٹا کیس لڑے گا‘ ہم اس کیس میں نسلیں لگا دیں گے‘ مر جائیں گے‘ گھاس کھا لیں گے لیکن پیچھے نہیں ہٹیں گے‘‘ اس کے بعد لی کو آن یو نے آبزرویشن دی ’’ جو قوم اپنی اگلی نسل کو تنازعے اور مسائل دے کر جائے‘ وہ خاک ترقی کرے گی‘‘۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...