Loading...

بھارتی کشمیر میں مسلح جھڑپ، ایک فوجی سمیت دو افراد ہلاک

0

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں منگل کے روز ایک جھڑپ میں ایک عسکریت پسند اور دو بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے۔ تاہم عہدیداروں نے صرف ایک فوجی اہل کار کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے اُس کی شناخت حوالدار بلجیت سنگھ کے طور پر ظاہر کی ہے۔

عہدیداروں کے مطابق یہ مسلح جھڑپ متنازع ریاست کے جنوبی ضلع پُلوامہ کے رتنی پورہ علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد ایک فوجی آپریشن کے دوران ہوئی۔ اس کارروائی میں ایک اہل کار زخمی بھی ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جھڑپ میں مقامی تنظیم حزب المجاہدین سے وابستہ ایک عسکریت پسند ہلال احمد راتھر ہلاک ہوا جس نے گزشتہ برس کالعدم لشکرِ طیبہ کے ایک اعلیٰ کمانڈر محمد نوید جھٹ عرف ابو ہنزلہ کو سری نگر میں پولیس حراست سے فرار ہونے میں مدد دی تھی اور اس سلسلے میں وہ مقامی پولیس اور بھارت کے قومی تحقیقاتی ادارے نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی یعنی این آئی اے کو مطلوب تھا۔

سرینگر میں پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا، “ہلاک ہونے والے دہشت گرد کے خلاف جرائم کی ایک لمبی فہرست ہے۔ وہ سیکورٹی فورسز پر حملوں، عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور دیگر تخریبی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش تھا۔ اُس نے 6 فروری 2018ء کو سری نگر کے صدر اسپتال میں حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں دو پولیس اہل کار ہلاک ہو گئے تھے جب کہ زیر حراست پاکستانی دہشت گرد نوید جھٹ عرف ابو ہنزلہ فرار ہونے میں کامیاب ہوا تھا”۔

مقامی ذرائع کے مطابق فوجی آپریشن میں کم سے کم دو عسکریت پسند علاقے سے بحفاظت فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

جھڑپ کے دوران ہی علاقے میں عوامی مظاہرے شروع ہو گئے جن میں مبینہ عسکریت پسند کی ہلاکت کی اطلاع کے بعد شدت آ گئی۔ چند مقامات پر مظاہرین اور حفاظتی دستوں کے درمیان تصادم بھی ہوا۔ سہ پہر کو سینکڑوں افراد نے ہلاک ہونے والے عسکریت پسند کی تدفین میں شرکت کی۔

اس دوران بھارتی زیر کنڑول کشمیر کے علاقے کرگل میں احتجاجی ہڑتالوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ہڑتال اور مظاہرے گورنر کی انتظامیہ کے ایک حالیہ فیصلے کے خلاف کئے جا رہے ہیں جس کے تحت ریاست کے لداخ خطے کو ایک علیحدہ انتظامی ڈویژن تو بنا دیا گیا لیکن اس کے صدر دفاتر مستقل طور پر بودھ اکثریتی شہر لیہہ میں رکھنے کی منظوری دی گئی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے لداخ کے دوسرے اہم ضلع کرگل کو جہاں شیعہ مسلمان اکثریت میں ہیں، دانستہ نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

کرگل کی سیاسی، سماجی اور مذہبی جماعتوں کی ایک رابطہ کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ نئے انتظامی ڈویژن کے صدر دفاتر کو کرگل اور لیہہ میں چھ چھ ماہ کے لئے رکھا جائے اور کرگل کی پسماندگی دور کرنے کے لئے بھی اقدامات کیے جائیں۔

ریاست کے گورنر ستیہ پال ملک نے کہا ہے کہ انہوں نے کرگل کے لوگوں کے مسائل اور مطالبات کا جائزہ لینے کے لئے انتظامی عہدیداروں پر مشتمل کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...