Loading...

اسرائیلی وزیر خارجہ کے متنازع بیان کے بعد پولینڈ کے وزیراعظم کا دورہ منسوخ

0

پولینڈ کے وزیر اعظم میٹئز موراویکی نے اسرائیل کے قائم مقام وزیر خارجہ کے پولینڈ سے متعلق یہودی مخالف حالیہ بیان پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے منگل سے شروع ہونے والا اسرائیل کا اپنا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

اسرائیل کے قائم مقام وزیر خارجہ نے اتوار کے روز ٹیلی ویژن پر تقریر کرتے ہوئے سابق اسرائیلی وزیر اعظم یتزک شامیر کی بات دہرائی جس میں اُنہوں نے کہا تھا، ’’پولینڈ کے لوگوں کو اپنی ماں کا دودھ پلانے کے ساتھ یہود مخالفت بھی سکھائی جاتی ہے۔‘‘

پولینڈ کے وزیر اعظم میٹئس موراویکی کا کہنا تھا کہ اسرائیلی قائم مقام وزیر خارجہ کاٹز کی طرف سے دیا گیا بیان مکمل طور پر ناقابل قبول ہے، نہ صرف سفارتی زبان کے حوالے سے بلکہ میرے لئے یہ عوامی سطح پر بھی ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔

طےشدہ پروگرام کے مطابق ’وائز گریڈ گروپ‘ سے موسوم چار یورپی ممالک جمہوریہ چیک، ہنگری، پولینڈ اور سلواکیا کے وزرائے اعظم منگل کے روز اسرائیل کا دورہ کرنے والے تھے جہاں اُنہیں اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ ایک دو روزہ اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے قبل ازیں جمعرات کے روز امریکہ اور پولینڈ کے زیر اہتمام مشرق وسطیٰ سے متعلق ایک کانفرنس میں کہا تھا کہ پولش لوگوں نے نازیوں کا ساتھ دیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو نے یہ کہتے ہوئے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ جرمنی کے زیر تسلط رہنے کے دوران پولینڈ نے یہودیوں کے قتل عام میں عمداً حصہ لیا تھا۔

اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو نے بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ تاہم اس سے اگلے روز پولینڈ کی حکومت نے اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم کی وضاحت سے مطمئن نہیں ہے۔

فرانس سمیت متعدد یورپی ممالک میں یہود مخالفت جذبات میں حالیہ برسوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پیرس میں زرد جیکٹ پہن کر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے ایک گروپ نے اُن کے قریب سے گزرنے والے فرانس کے ایک یہودی فلسفی الین فن کیل کروٹ سے بدکلامی کی جس کے نتیجے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ فرانس کے صدر ایمینوئل میکرون نے فوری طور پر اس واقعے کی مذمت کی۔ تاہم فن کیل کروٹ کا کہنا تھا کہ کسی نے بھی اُن پر یہودی ہونے کے حوالے سے کوئی جملہ نہیں کسا بلکہ بدکلامی کرنے والا شخص ایک مسلمان انتہا پسند تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نسل پرست ہیں کیونکہ ہم اسرائیل کے بارے میں حساس ہیں اور کچھ لوگ ہمیں مجرم سمجھتے ہیں اور قتل عام کرنے والے بھی۔ فن کیل کروٹ کہتے ہیں کہ ہم اس قسم کی نفرت سے نمٹنے کی اہلیت کم ہی رکھتے ہیں کیونکہ یہ اچھے شعور سے بھرپور ہے اور آج کی یہود دشمنی نسل پرستی کے خلاف ہے۔

تاہم فرانس کے ایک تاریخ دان ونسینٹ ڈوکلرٹ نے اس واقعے کی ویڈیو دیکھنے کے بعد اس تصور سے اختلاف کرتے ہوئے کہا، ’’یہ اہم ہے کہ ایسی بات کرنے سے روکا جائے یا نہیں، یہ یہود مخالف نہیں ہے کیونکہ یہ نہیں کہا گیا کہ یہودی غلیظ ہوتے ہیں۔ مزید براں یہود مخالف کلمات کہنے والے اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ یہودیوں کو غلیظ کہنا قانون کے خلاف ہے۔ تاہم صیہونیت کو غلیظ کہنا خلاف قانون نہیں ہے۔ لہذا اس بات کو مکمل طور پر واضح کیا جانا چاہئیے کہ یہ یہود مخالفت کا ایک غیر معمولی کیس ہے۔‘‘

یورپی ممالک یہود مخالف جذبات اور ہولوکاسٹ کی تاریخ کے حوالے سے اس مسئلے سے نمٹنے کی کوشش میں ہیں اور کچھ ممالک تو اس الزام کی مجموعی حیثیت کو مسترد کرتے ہیں۔ گزشتہ برس پولینڈ نے ہولوکاسٹ کے دوران کی گئی زیادتیوں کے حوالے سے کسی ملک کو مجموعی طور پر الزام دینے کو خلاف قانون قرار دے دیا تھا۔ نازیوں کے دور میں قائم کئے گئے حراستی کیمپوں کو پولینڈ کے موت کے کیمپ قرار دینے پر قانون کے مطابق سزا مقرر کر دی گئی ہے۔ لیکن اسرائیل میں بہت سے لوگ اس کی مذمت کرتے ہیں۔

تاہم اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں موجود یہودیوں کے لئے یہود مخالف رویہ مرکزی مسئلے کی حیثیت رکھتا ہے اور اب یہ نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہودی مملکت کی تذلیل کی کوششیں یہودیوں کے لئے اُن کے آبائی وطن کے حوالے سے حق خودارادیت کی نفی کرتی ہیں۔ نیتن یاہو کہتے ہیں کہ صیہونیت کی مخالفت یہود مخالفت ہی کی نئی شکل ہے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ یہ مخالفت کس طرف سے آ رہی ہے۔چاہے یہ مشرق کی طرف سے ہو یا پھر مغربی دنیا سے۔

یہود مخالفت اور نفرت پر مبنی بیانات کو بہت سے یورپی ممالک میں خلاف قانون قرار دے دیا گیا ہے۔ تاہم یہودی برادریوں پر اکثر حملے ہوتے رہتے ہیں خاص طور پر فرانس میں جہاں مسلمانوں کی آبادی یورپ بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...