Loading...

ہندو اقلیت کے خلاف فیاض چوہان کے بیان کی مذمت

0

پاکستان تحریک انصاف کے لیڈر اور پنجاب حکومت کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کی ایک تقریر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے جس میں وہ ہندوؤں کے خلاف نفرت آمیز گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔

اس تقریر پر سوشل میڈیا پر بہت تنقید کی گئی ہے اور صارفین فیاض الحسن چوہان کی توجہ اس جانب مبذول کرا رہے ہیں کہ پاکستان میں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے اور وہ بھی پاکستان کے اتنے ہی محب الوطن ہیں جتنے کہ باقی مذاہب کے ماننے والے۔

سندھ سے تعلق رکھنے والے ہندو ایکٹوسٹ کپل دیو نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان سے محبت اور حب الوطنی کے بدلے میں ہمیں ایسی باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ہم 40 لاکھ ہندو ہیں، یہ یاد رکھنا چاہئے۔

معروف ڈرامہ ایکٹر اور ایکٹوسٹ نادیہ جمیل نے ٹویٹ میں کپل دیو کے ہی الفاظ دوہراتے ہوئے لکھا کہ ’’اکثر لگتا ہے کہ ہم نو مینز لینڈ میں رہتے ہیں، پاکستان میں ہمیں ہندوستانی تصور کیا جاتا ہے اور جو لوگ یہاں سے ہجرت کر کے ہندوستان چلے جاتے ہیں انہیں وہاں پاکستانی کہا جاتا ہے۔ یہاں ہم ’را‘ کے ایجنٹ ہیں تو وہاں آئی ایس آئی کے۔‘‘

سماجی علوم کی ماہر ندا کرمانی نے لکھا کہ ایک ایسے وقت میں جب کہ پاکستان کے ہندو اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں، فیاض الحسن چوہان نے نفرت اور تعصب آمیز باتیں کی ہیں۔

جبران ناصر نے لکھا کہ یہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اطلاعات ہیں۔ اگر وزیراعلیٰ بھی وزیراعظم نے چنے تھے، تو یہ بھی انہی کا انتخاب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس طرح کی نفرت اور تعصب کی کوئی معافی نہیں ہونی چاہئے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کپل دیو نے کہا کہ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ جب بھی ہندوستان اور پاکستان میں کشیدگی ہوتی ہے تو چند سیاست دان اور دانش ور ایسے جملے کستے ہیں جو ہندوؤں کے خلاف ہوتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ پاکستان میں بھی ہندو بستے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے ہماری دل آزاری ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا تعلق ہمارے نصاب سے بھی ہے۔ جو نصاب ہمارے سکولوں میں پڑھایا جاتا ہے اس میں ہندوؤں سے شدید نفرت پائی جاتی ہے۔ اس سے کچھ بچوں کے ذہن بچین ہی سے ہندوؤں کے خلاف بہت زیادہ زہر آلودہ ہو جاتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے روز مرہ کی زندگی میں بھی ہمیں ہندوستان سے جوڑا جاتا ہے۔

کپل دیو نے کہا کہ سن 1947 میں ہمارے پرکھوں نے بٹوارے کے اس پار رہنے کو ترجیح دی تھی۔ لیکن انہیں پتا نہیں تھا کہ ان کی آنے والی نسلوں کو کس قدر تعصب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سندھی صحافی وینگس نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فیاض الحسن چوہان کو پتا ہونا چاہئے کہ ہندومت کی بھی سندھ اور بلوچستان میں بہت گہری جڑیں ہیں۔ پاکستان کے سب سے زیادہ ہندو سندھ میں بستے ہیں، جب سیاست دان اس طرح کی زبان استعمال کرتے ہیں تو پاکستان کے ہندو انتہاپسندوں کا نشانہ بنتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب بھی دونوں ملکوں میں کشیدگی ہوتی ہے، ایسے حالات میں جب کوئی سیاست دان اس طرح کی زبان استعمال کرے گا تو عام آدمی اپنے شہر کے ہندو کو ہی تعصب سے دیکھے گا۔

سوشل میڈیا پر شدید احتجاج کے بعد حکومتی پارٹی پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں نے اپنی ٹویٹس میں اس رویے کی مذمت کی۔

شیریں مزاری نے کہا کہ یہ قابل مذمت ہے اور کسی کو بھی کسی کے مذہب پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پاکستان کے ہندو شہریوں نے اس ملک کے لئے قربانیاں دی ہیں۔​

اسد عمر نے کہا کہ پاکستان کے ہندو اتنے ہی اس ملک کے شہری ہیں جتنا کہ وہ ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ پاکستان کے جھنڈے میں سفید رنگ اقلیتوں کی ترجمانی کرتا ہے۔

وزیراعظم کے ترجمان نعیم الحق نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ فیاض الحسن چوہان کی جانب سے ہندوؤں کے لئے نفرت آمیز الفاظ پر سخت ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف اس بات کو برداشت نہیں کرے گی اور وزیر اعلیٰ سے مشاورت کے بعد اس پر ایکشن لیا جائے گا۔​

ہندو ایکٹوسٹ کپل دیو نے اپنے پیغام میں کہا جب بھی جنگی ماحول ہو تو میں اپنے ہم وطنوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ آپ ایسی صورت میں اگر دشمن ملک کو برا بھلا کہنا چاہتے ہیں تو کم از کم اپنے ملک میں بسنے والی اقلیتوں، خصوصاً 40 لاکھ ہندوؤں کے جذبات کا ضرور خیال رکھ لیا کریں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...