Loading...

عورت مارچ، ایک تحریک یا بحث؟

0

ڈھول کی تھاپ پر صنم ماروی کے صوفیانہ کلام نے جہاں سماں باندھا وہیں کئی خواتین نے فرط جذبات میں آکر رقص کر کے پابندی کی زنجیروں کو توڑنے کا پیغام بھی دے ڈالا۔

کون جانتا تھا کہ گزشتہ برس خواتین کے عالمی دن کے موقع پر شروع ہونے والا ’عورت مارچ‘ اب تحریک کی شکل اختیار کر جائے گا۔ ملک کے دیگر شہروں کی طرح کراچی میں تاریخی فرئیر ہال پارک میں پنڈال سجا اور دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں خواتین آج کے دن کو منانے کے لئے ایسے اکٹھی ہوگئی ہیں جیسے وہ برسوں سے یہاں آتی ہوں۔

ماہ نور فاطمہ ‘عورت مارچ’ کا دوسری بار حصہ بنی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے ان مسائل کو اجاگر کیا جاسکتا ہے، جسے کبھی سننے اور سمجھنے کو کوئی تیار نہیں تھا۔ انکے نزدیک ملک بھر میں خواتین کو جو سب سے اہم مسئلہ درپیش ہے وہ ہراسانی کا ہے، چاہے وہ پبلک ٹرانسپورٹ میں ہو یا سڑک پر کسی دفتر میں ہو یا تعلیمی ادارے میں۔

یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر اگر کوئی عورت آواز اٹھانا بھی چاہے تو اسے یہ کہہ کر خاموش کروادیا جاتا ہے کہ اس میں اسی کی بدنامی ہے۔

فبہہ حنیف عورت مارچ کا حصہ اس لئے بنی ہیں کہ انھیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ اپنے مسائل اور خواتین کے ساتھ ہونے والی ناانصافی اور استحصال کے خلاف آواز اٹھانے کا سفر شروع ہوچکا ہے۔ ابھی یہ پہلی سیڑھی ہے کہ آواز بلند کی گئی ہے عملی کام اس کے بعد ہونا ہے۔

انھیں اس بات کی خوشی ہے کہ گزشتہ سال کی نسبت اس برس انھیں نہ صرف اس مارچ میں خواتین کی کثیر تعداد دیکھنے کو ملی بلکہ ان کا یہاں آنا اور اپنے لئے اٹھنے والی آوازوں میں ہم آواز ہوکر بولنے کی سمت بھی مل گئی۔

فاطن نواز کا کہنا ہے کہ ابھی بھی ہمارا ملک ان ممالک جیسا نہیں جہاں عورت اکیلے باہر نکل سکے اور خود کو محفوظ تصور کرے۔ عورت مارچ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے مردوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ ہم بھی انسان ہیں اور ہمیں بھی جینے کا اسی طرح حق حاصل ہے جیسے آپ کو ہے اسلئے ہمارے لئے جگہ چھوڑی جائے۔

فرئیر ہال کی پر شکوہ عمارت کے سامنے سجے اسٹیج پر کہیں اسکول کی طالبات آج کے دن کی مناسبت سے نظمیں پڑھ کر ناظرین سے داد سمیٹ رہی تھیں تو کہیں اقلیت سے تعلق رکھنے والی خواتین کو بھی اپنے دل کی بات کہنے کا بھرپور موقع دیا گیا۔ ڈھول کی تھاپ پر صنم ماروی کے صوفیانہ کلام نے جہاں سماں باندھا وہیں کئی خواتین نے فرط جذبات میں آکر رقص کر کے پابندی کی زنجیروں کو توڑنے کا پیغام بھی دے ڈالا۔

ٹولیوں کی صورت میں کھڑی لڑکیوں کے ہاتھوں میں مختلف ہورڈنگز بھی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ گزشتہ برس ‘میرا جسم میری مرضی’ اور ‘اپنا کھانا خود گرم کرو’ جیسے نعروں نے جہاں مردوں کو تنقید کرنے کا موقع دیا، وہیں اس بار بھی کچھ ایسے فقرے پڑھنے کو ملے جسے دیکھ کر یہ گمان ہوا کہ حقوق کی اس جنگ میں کچھ مطالبات ایسے بھی ہیں جن کا تعلق روزمرہ کی زندگی سے ہے جس سے خواتین اب تنگ آچکی ہیں۔

ایک ہورڈنگ تھامے خاتون ‘مجھے کیا معلوم تمہارا موزہ کہاں ہے’ سے بات کرنے کا موقع ملا تو انھوں نے ہنس کر جواب دیا کہ گھر کے مردوں کی غلامی اور خدمت سے آزادی ایک اہم مطالبہ ہے جسے سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے۔

اس ہورڈنگ کا بغور جائزہ لینے والے کچھ نوجوان بھی اس عورت مارچ کا حصہ تھے۔ احمد بینکر ہیں اور وہ اس مارچ میں اسلئے آئے کہ انکی چھوٹی بہن کو یہاں شریک ہونا تھا اگر وہ اس خواہش کو پورا نہ کرتے تو آج کے عالمی دن پر انکی بہن اسے ایک ناانصافی سمجھتی۔ احمد کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مارچ سے انھیں کوئی اعتراض نہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ اب بھی خواتین کو یہ صحیح انداز میں نہیں سمجھایا جاسکا کہ انکے حقوق ہیں کیا اور وہ کس طرح یہ جنگ لڑ سکتی ہیں۔

اویس کا کہنا تھا کہ وہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس مارچ کا مقصد درحقیقت ہے کیا؟ وہ خواتین کو ہر طرح سے سپورٹ کرنا چاہتے ہیں اور مستقبل میں کرتے بھی رہیں گے۔ لیکن وہ ارد گرد جو ہوتا دیکھ رہے ہیں اس سے انھیں یہ تاثر مل رہا ہے کہ ایک سنجیدہ مسئلے کو اس طرح سے پیش نہیں کیا جارہا جیسے ہونا چائیے تھا۔ تاہم، اسٹیج پر ہونے والی تقاریر اور مطالبات سے وہ متفق نظر آئے۔

حمزہ سمجھتے ہیں دفاتر میں ہونے والی ہراسانی کے مسائل اور اسکے اثرات معمولی نہیں۔ ایک ایسا ملک جہاں نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہو اور ان میں سے بھی انتہائی کم تعداد اس مقام پر پہنچے کہ وہ نوکری کرنے کے قابل ہوں اور پھر ان کو وہاں ڈرایا جائے یہ سنگین مسئلہ ہے۔ اس کے لئے موئثر آواز کا اٹھنا اور قانون سازی ہونا بہت ضروری ہے۔

جنسی ہراسانی ہو یا تشدد، جائیداد میں حصہ ہو یا مرضی کی شادی، عورت کو بااختیار ہونے کا حق اتنا ہی ہے جتنا ایک مرد کا اور اگر یہ سب نہیں ہوتا تو اٹھنے والی آواز پھر تحریک ہی بنتی ہے۔ لیکن پاکستان میں اب عورت اپنے لئے بات کر رہی ہے جو پہلے نہیں تھا یہ تبدیلی ہی بہت بڑی ہے۔ یہ کہنا ہے زہرا کا جو بہت عرصے بعد پاکستان لوٹی ہیں۔

اس مارچ کے تحفظ کے لئے چوکس کھڑی خواتین پولیس اہلکاروں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دن انکا صرف اتنا پیغام ہے کہ عورت کو عزت دو۔ یہاں ووٹ کے عزت کا مطالبہ ہوتا ہے لیکن عورت کو انسان بھی نہیں سمجھا جاتا۔ اگر مرد اپنی بیٹی، بہو کی عزت کریں گے تو کس کی مجال کہ کوئی دوسرا انکے ساتھ ناانصافی کرسکے۔

لیکن، دوسری جانب اس پر رونق تحریک میں کچھ ایسی عورتیں بھی تھیں جو اسٹیج پر ہونے والی دھواں دار تقاریر سے بیزار دکھائی دیں۔ ساٹھ برس کی زینب سینڈزپٹ کی ماہیگیروں کی بستی سے یہاں تین درجن خواتین کے ہمراہ دوپہر سے آئی ہوئی تھیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا وہ نہ تو آج کے دن کی اہمیت سے واقف ہیں نہ ہی انھیں یہاں پیش کئے جانے والے مطالبات سے دلچسپی ہے۔ وہ یہاں اپنے قبیلے کی خواتین کے ساتھ ایک خاتون کے اس وعدے پر آئی ہیں کہ انھیں مہینہ بھر کا راشن ملے گا جس سے ان کے گھر میں رہنے والے بچوں کو پیٹ بھر کر کھانے کا موقع مل سکے گا۔

انکے ساتھ بیٹھی مائی صغراں کا کہنا تھا کہ میں جب سے یہاں آئی ہوں بس دیکھے جارہی ہوں اور سوچ رہی ہوں کہ کیا یہاں آنے والی ساری عورتیں مظلوم ہیں؟ کیا انھیں قید کیا گیا ہے جو آزادی مانگ رہی ہیں؟ اگر ایسا ہے تو خدا کرے کہ انکی صدا سنی جائے۔ ہم تو جس مقصد کے لئے یہاں لائے گئے ہیں وہ پورا ہو تو ہم جائیں کیونکہ ہمارے گھر تو بچے ہمارے اور راشن کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...