Loading...

چند روٹیوں کے عوض بہنوں نے انہیں فروخت کردیا

0

سن ہجری 105 میں بصرہ میں ایسا قحط پڑا کہ ماں باپ نے اولاد اور بھائیوں نے بہنوں سے منہ پھیر لیا تھا اور انسانوں کی فروخت کی منڈیاں لگ گئیں۔ اسی ہولناک فضاء میں بصرہ کے ایک چھوٹے سے خاندان پر قیامت گزر گئی۔ یہاں چار بہنیں رہا کرتی تھیں جن کے ماں باپ دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔ نو عمر لڑکیوں نے دو تین فاقے تو برداشت کر لئے مگر جب بھوک حد سے گزری تو

کسی کو اپنا ہوش نہ رہا۔ بھیک تک کی نوبت آگئی مگر کوئی کیسے بھیک دیتا کہ دینے والے کے پاس خود کچھ نہیں تھا۔ یہ تمام بہنیں زرد چہروں اورپتھرائی ہوئی آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھ رہی تھیں کہ بصرہ کا مشہور تاجر عتیق ادھر سے

گزرا۔ فاقہ زدہ بہنوں نے آسودہ حال شخص کے سامنے دست سوال دراز کر دیا۔ ’’خدا کیلئے ہمیں کچھ کھانے کو دو‘‘ تاجر عتیق نے سب سے چھوٹی بہن کی طرف دیکھا جو خاموش بیٹھی تھی۔ ’’لڑکی! تجھے بھوک نہیں ہے۔‘‘، ’’بہت بھوک ہے۔‘‘ سب سے چھوٹی بہن نے نقاہت زدہ لہجے میں جواب دیا۔ ’’تو پھر کسی سے روٹی کیوں نہیں مانگتی؟‘‘ تاجر نے سوال کیا۔ ’’جس سے مانگنا چاہئے اسی سے مانگ رہی ہوں۔‘‘ لڑکی نے بڑا عجیب جواب دیا۔ ’’تو پھر تجھے ابھی تک روٹی کیوں نہیں ملی؟‘‘ تاجر عتیق نے حیران ہو کر دوسرا سوال کیا۔ ’’جب وقت آئیگا تو

وہ بھی مل جائیگی۔‘‘ لڑکی کا انداز گفتگو مبہم تھا مگر لہجے سے بڑی استقامت جھلک رہی تھی۔ تینوں بڑی بہنیں چھوٹی بہن کی بے سروپا باتوں سے بیزار تھیں۔ اس لئے جھنجھلا کر بولیں۔ ’’یہ ہم سب کا وقت برباد کر رہی ہے۔ آپ اسے یہاں سے لے جائیں۔‘‘، ’’یہ لڑکی بڑے کام کی ہے۔ میں اسے لے کر ہی جاؤں گا۔‘‘ تاجر عتیق نے تینوں بہنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اور پھر ایک مخصوص رقم ان کے حوالے کر دی۔ ’’چلو! لڑکی‘‘ تاجر نے چھوٹی بہن سے کہا۔ ’’اب تم میری ملکیت ہو۔‘‘ لڑکی نے اپنی بہنوں کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر ہونٹوں پر حرف شکایت نہیں تھا۔ وہ تاجر عتیق کے ساتھ چپ چاپ چلی گئی۔ اس نے کئی بار مڑ کر دیکھا۔ لڑکی کی آنکھوں میں بس ایک ہی سوال تھا۔ ’’کیا تم نے چند روٹیوں کیلئے اپنی چھوٹی بہن کو فروخت کر دیا‘‘۔ ضرورت کے بے رحم ہاتھ نے خونی رشتوں کو جدا کردیا۔ نو عمر ہونے کے باوجود وہ لڑکی انتہائی مشقت اور ذمہ داری کے ساتھ اپنا کام پورا کرتی۔ یہاں تک کہ

اسی عالم میں کئی سال گزر گئی۔ اب اس لڑکی کی عمر بارہ تیرہ سال کے قریب تھی۔ ’’وہ اجالے میں دنیاوی مالک کی خدمت انجام دیتی اور اندھیرے میں مالک حقیقی کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتی ’’شدید محنت نے اس معصوم جان کو تھکا ڈالا۔ ایک دن اتفاق سے نصف شب کے قریب آقا کمرے سے نکل کر ٹہلنے لگا۔ اچانک اس کی نظر کنیز کی کوٹھڑی پر پڑی، وہاں چراغ جل رہا تھا۔ آقا بڑی حیرت کے ساتھ کنیز کے جاگنے کا سبب جاننے کیلئے کوٹھڑی کی طرف بڑھا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ مالک دبے قدموں اندر داخل ہوا۔ اب اس کی آنکھوں کے سامنے ایک ناقابل یقین منظر تھا۔ کنیز سجدے کی حالت میں تھی اور دبی دبی سسکیاں ابھر رہی تھیں۔ مالک کی حیرت میں کچھ اور اضافہ ہو گیا۔ وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔ پھر اس نے کان لگا کر سنا۔ کنیز انتہائی رقت آمیز لہجے میں دعا مانگ رہی تھی۔ ’’یا اللہ! تو میری مجبوریوں سے خوب واقف ہے۔

گھر کا کام کاج مجھے تیری طرف آنے سے روکتا ہے تو مجھے اپنی عبادت کیلئے پکارتا ہے مگر میں جب تک تیری بارگاہ میں حاضر ہوتی ہوں‘ نمازوں کا وقت گزر جاتا ہے۔ اس لئے میری معذرت قبول فرما لے اور میرے گناہوں کو معاف کر دے۔‘‘ مالک نے کنیز کی گریہ و زاری سنی تو خوفِ خدا سے لرزنے لگا اس کا پتھر دل پگھل گیا۔ الٹے قدموں واپس چلا آیا اور رات کا باقی حصہ جاگ کر گزار دیا۔ پھر صبح ہوتے ہی کنیز کی کوٹھڑی میں پہنچا اور کہنے لگا۔’’آج سے تم آزاد ہو‘جہاں چاہو چلی جاؤ۔‘‘ یہ معصوم اور یتیم بچی کنیز حضرت رابعہ بصری تھیں جن کی بارگاہ معرفت میں حضرت امام سفیان ثوری، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ جیسے بڑے بڑے علماء نیازمندی کے ساتھ حاضر ہوا کرتے تھے۔ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ لائیک اور شیئر کریں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...