Loading...

نیا میثاق جمہوریت،ن لیگ اورپیپلزپارٹی کا ایکا،حکومت چند ایک ووٹوں کے سہارے کھڑی ہے ،جب چاہیں حکومت گرا سکتے ہیں،دھماکہ خیز اعلان کردیاگیا

0

پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہحکومت سے اس کے اتحادی نالاں ہیں،اپوزیشن یکجا ہو کر جب چاہے حکومت گرا سکتی ہے، نیا میثاق جمہوریت نہیں بلکہ اس کی نئے چیلنجز کے تناظر میں تیاری کرنی ہے ،پیپلزپارٹی اور (ن)لیگ کا اپنا اپنا منشور ہے، ہم اپوزیشن کے دوران چند ایشوز پر اکٹھے ہوتے ہیں، یو ٹرن لینا پی ٹی آئی کی پالیسی ہے ۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے لاہور میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا ۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ حکومت سے اس کے اتحادی نالاں ہیں،اپوزیشن یکجا ہو کر جب

چاہے حکومت گرا سکتی ہے، ہم جانتے ہیں یہ اقدام ملکی مفاد میں نہیں ہے، یہ حکومت چند ایک ووٹوں کے سہارے کھڑی ہے، حکومت نے جو وعدے کیے

تھے ان کی تکمیل کرے،160 40 فیصد مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، پاکستان کے لوگوں کو اس وقت یکجہتی کی ضرورت ہے، پیپلزپارٹی پہلے بھی احتسابی عمل سے گزر چکی ہے، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کا اپنا اپنا منشور ہے،ہم اپوزیشن کے دوران چند ایشوز پر اکٹھے ہوتے ہیں،یوٹرن پیپلزپارٹی کی نہیں تحریک انصاف کی پالیسی ہے پیپلزپارٹی کی پالیسی اس ملک، جمہوریت اور عوام کی بہتری ہے پیپلزپارٹی نے جب بھی بات کی جمہوریت اور

ملک کی بقاء کی بات کی جس کے لئے ہر ایک سے ہاتھ ملایا۔ جمہوریت کو ڈی ریل ہونے پر میاں نواز شریف سے بی بی شہید نے چارٹڈ آف ڈیموکریسی کیا جس کے 80 فیصد حصے پر عملدرآمد ہو چکا ہے۔ میثاق جمہوریت کو آگے بڑھانے کے لیے ہمارا اتفاق ہوا ہے،. میثاق جمہوریت کے چند ایک نکات ہیں جس پر عمل درآمد ہونا رہ گیا ہے، ملک میں جمہوریت کے استحکام کے لئے بی بی شہید اور آصف علی زرداری نے اپنے دکھوں کی پرواہ نہیں کی۔ اسی طرح آج بلاول بھٹو زرداری اپنے دکھ بھول کر ملک اور عوام کی فلاح کے لئے اکٹھے ہونے کی بات کر رہے ہیں۔ کیونکہ تصادم ملک کی بہتری کے لئے نہیں ہے۔

حکومت کو کبھی بھی غیر مستحکم کرنے کی بات نہیں کی عوام کو نوکریاں اور گھر دینے والے اقتدار میں آ کر سب کچھ بھول گئے ہیں۔ چھ ماہ میں ریکارڈ مہنگائی ہو چکی ہے۔ عوام پر کبھی پانی، کبھی بجلی اور کبھی مہنگائی بم گرایا جاتاہے حکومت عوام سے کئے ہوئے وعدے پورے کرے۔ موجودہ حکومت ہمارے خلاف چل رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے بلاول بھٹو کی باتوں سے اتفاق کیا عمران خان نے چارٹڈ آف ڈیموکریسی نہیں پڑھا اُس کی تنقید بے جا ہے۔ انہوں نے تنظیم سازی کے حوالے سے لاہور تنظیم کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ کسی بھی پارٹی میں تنظیم سازی کا عمل اہم ہوتا ہے لاہور میں تنظیم سازی کے اس عمل میں پیشرفت پر خوش آمدید کہتا ہوں تمام ساتھیوں پر فخر ہے سب کو سلام پیش کرتا ہوں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...