Loading...

مسئلہ صرف نیت اور محنت کا ہے

0

آپ تصویر میں جوٹرین دیکھ رہے ہیں یہ ٹرین پیرس سے ایمسٹرڈیم جاتی ہے اور اس کے راستے میں سوا تین کلومیٹر کی ایک ٹنل آتی ہے۔ فرانس اور امریکا کے سائنس دانوں نے اس ٹنل کے اوپر شمسی توانائی کے سولہ ہزار پینلز لگا دئیے ہیں۔ یہ پینلز ایک گھنٹے میں تین ہزار تین سو میگا واٹ بجلی پیدا کرتے ہیں۔

یہ ٹرین اس بجلی سے چل رہی ہے اور فرنچ گورنمنٹ کا کہنا ہے یہ بارہ ایکڑ کے اس رقبے سے صرف سورج کی روشنی سے ایک گھنٹے میں اتنی بجلی پیدا کر رہے ہیں جو ایک ہزار گھروں کی سالانہ ضرورت کے برابر ہوتی ہے اور اس سے چار ہزار ٹرینوں کو بیک وقت چلایا جا سکتا ہے۔ فرنچ حکومت نے اس منصوبے پر

صرف 2 کروڑ 28 لاکھ ڈالر خرچ کئے ہیں اوریہ ایک درمیانے سائز کے تھرمل پاور پلانٹ کی قیمت کے برابر ہے اور پاکستان میں صرف این آئی سی سکینڈل میں اس سے چار گنا زیادہ کرپشن ہوئی۔ یہ اس نوعیت کا دنیا کا پہلا منصوبہ ہے

۔ آپ دنیا کا اندازا لگائیے لوگ سورج کی روشنی سے بارہ ایکڑ زمین پر سولہ ہزار پینلز لگا کراتنی بجلی پیدا کر رہے ہیں جتنا ہمارا شارٹ فال ہے اور ہم اگر فرانس کی طرح سولہ ہزار سولر پینل لگا لیں تو ہم لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نکل سکتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے اگر فرانس یہ کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں کر سکتے۔ کیا فرانس کے لوگ ہم سے بڑا دماغ لے کر پیدا ہوتے ہیں یا پھر قدرت نے انہیں تین چار ہاتھ دے رکھے ہیں۔ہمارا خیال ہے مسئلہ صرف نیت اور محنت کا ہے۔ ہم محنت اور نیت میں مار کھا رہے ہیں چنانچہ ہم بجلی کی کمی کی وجہ سے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں جبکہ فرانس جیسے ملک ایک ایک منصوبے سے ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...