Loading...

نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملے کی دنیا بھر میں مذمت

0

دنیا کے کئی ملکوں کے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

بعض ایشیائی مسلم ممالک نے حملوں میں اپنے شہریوں کے نشانہ بننے کی بھی تصدیق کی ہے۔

واقعے کے بعد امریکہ، آسٹریلیا اور کئی یورپی ملکوں میں عبادت گاہوں خصوصاً مساجد کی سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے حملے کو نہایت تکلیف دہ اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ان کے اس موقف کی تائید ہوتی ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہے۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیرِ اعظم پاکستان نے کہا ہے کہ حملوں کے پیچھے 9/11 کے بعد تیزی سے پھیلنے والا اسلامو فوبیا کارفرما ہے جس کے تحت دہشت گردی کی ہر واردات کی ذمہ داری ان کے بقول اسلام اور مسلمانوں کے سر تھوپ دی جاتی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ میں پاکستانی ہائی کمیشن کا عملہ مقامی حکام سے رابطے میں ہے اور واقعے کی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان کے ترجمان ابراہیم کلن نے واقعے کو فسطائیت اور نسل پرستی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف عداوت کس حد تک پہنچ گئی ہے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کو اب اس “اسلاموفوبیا” اور اس کی بنیاد پر ہونے والی کھلی دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی۔

آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن نے واقعے پر شدید دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ گرفتار ہونے والا حملہ آور آسٹریلوی شہری ہے جو ان کے بقول “شدت پسند اور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والا دہشت گرد” ہے۔

بنگلہ دیش کے وزیرِ مملکت برائے خارجہ شہریار عالم نے کہا ہے کہ یہ بہت خوش قسمتی کی بات ہے کہ حملے میں ان کے ملک کی کرکٹ ٹیم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم ٹیسٹ میچ کے لیے کرائسٹ چرچ میں تھی اور ٹیم کے کھلاڑی نمازِ جمعہ کے لیے مسجد پہنچے ہی تھے کہ وہاں فائرنگ ہوگئی۔ فائرنگ کے باعث ٹیم کا ڈرائیور بس کو وہاں سے بھگا لے گیا تھا۔

نیوزی لینڈ میں انڈونیشیا کے سفیر طنطووی یحیٰ نے فائرنگ کے دوران مسجد میں اپنے چھ شہریوں کی موجودگی کی تصدیق کی ہے جن میں سے تین ان کے بقول بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔

سفیر کے مطابق باقی تین شہریوں کے بارے میں معلومات کے لیے ان کا ملک نیوزی لینڈ حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔

ملائیشیا کے حکمراں اتحاد میں شامل سب سے بڑی جماعت کے سربراہ انور ابراہیم نے اپنے ایک شہری کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے واقعے کو “انسانیت اور امنِ عالم کے لیے سیاہ المیہ” قرار دیا ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کے بانی کمال فاروقی نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کا کہا ہے کہ “مسلم مخالف وائرس” پوری دنیا میں پھیل رہا ہے اور دنیا کے دیگر مذاہب کو اس بارے سوچنا ہوگا۔

آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور فجی کے لیے افغانستان کے سفیر وحیداللہ ویسی نے اپنی ٹوئٹ میں حملے میں تین افغان شہریوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جیسنڈا آرڈرن نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کے ملک کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔

واقعے کے سوگ میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا نے اپنے پرچم سرنگوں رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...