Loading...

حکومت نے کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کو بچانے کے لیے حراست میں لیا: بلاول

0

بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ’’حکومت آئینی اور جمہوری حق استعمال کرنے والوں پر تشدد کر رہی ہے جب کہ جنونی اور انتہاپسند قوتوں کے سامنے ہتھیار ڈال رکھے ہیں۔ میں کالعدم تنظیموں کے خلاف آواز اٹھا رہا ہوں‘‘۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان حکومت نے کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کو اس لئے حراست میں لیا کہ کہیں بھارتی طیارے انہیں اڑا نہ دیں۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’’میرے کھانے اور دھوبی کے بل پر تو جے آئی ٹی بنائی جا رہی ہے۔ اگر ہمت ہے تو احسان اللہ احسان پر بھی جے آئی ٹی بنائیں۔ ہمیں بلایا ہے تو دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کو بھی بلائیں۔‘‘

بلاول بھٹو زرداری اسلام آباد میں اپنے والد آصف علی زرداری کے ساتھ نیب دفتر میں تفتیشی ٹیم کے سامنے پیشی کے بعد پریس کانفرنس کر رہے تھے۔

بدھ کے روز بلاول بھٹو اور آصف زردای تین مختلف کیسز میں نیب کے طلب کرنے پر تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے اور اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’’حکومت آئینی اور جمہوری حق استعمال کرنے والوں پر تشدد کر رہی ہے جب کہ جنونی اور انتہاپسند قوتوں کے سامنے ہتھیار ڈال رکھے ہیں۔ میں کالعدم تنظیموں کے خلاف آواز اٹھا رہا ہوں‘‘۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم جب کالعدم تنظیموں کے خلاف بات کرتے ہیں تو ہمیں نوٹس ملتے ہیں۔ ہم بینظیرکے جیالے ہیں ان نوٹسز سے نہیں ڈرتے اور کالعدم تنظیموں کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔ ہم کٹھ پتلی حکومت کو للکارتے رہیں گے۔ حکومت 3 وزرا کو وفاقی کابینہ سےفارغ کرے۔ میں ان وزرا کی بات کر رہا ہوں جن کا ان تنظیموں کے ساتھ تعلق ہے۔ میرے کھانے اور دھوبی کے بل کو بھی نکال لیا جاتا ہے، اگر ہمت ہے تو احسان اللہ احسان پر بھی جے آئی ٹی بنائیں‘‘۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ’’ہمیں بلایا ہے تو دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کو بھی بلائیں۔ کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کو اس لئے حراست میں لیا گیا کہ بھارتی طیارے انہیں اڑا نہ دیں۔ حکومت کیسے کالعدم جماعتوں کی حمایت کرنے والوں کو اپنی کابینہ میں شامل کرسکتی ہے‘‘۔

نیب کی تفتیش کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مجھ سے زیادہ سوالات نہیں کیے گئے صرف پانچ منٹ تک سوالات کیے گئے جس کے بعد سوال نامہ دیا گیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’نیب کی تاریخ کسی سے چھپی نہیں۔ افسوس کی بات نیب کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ہر سیاست دان کیخلاف کرپشن کیسز بنائے جاتے ہیں۔ ایک سال سے بھی کم عمر تھی جب کمپنی کا شیئر ہولڈر بنا۔ سابق چیف جسٹس صاحب نے بھی میرے بارے کہا کہ بے گناہ ہوں۔ لیکن ان کے حکم کے باوجود میرا نام نہیں نکالا گیا‘‘۔

بلاول بھٹو کی پیشی کے موقع پر پیپلز پارٹی کے مشتعل کارکنوں اور پولیس میں جھڑپ بھی ہوئی جس کے بعد اسلام آباد پولیس نے پی پی پی کے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما اور کارکن بڑی تعداد میں نیب دفتر کے کے نزدیک جمع تھے جہاں انہوں نے شدید نعرے بازی کی۔ پولیس اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس کے بعد کارکنوں کی بڑی تعداد پولیس کے تمام حصار توڑتے ہوئے نیب کے دفتر تک پہنچ گئی جب کہ بہت سے افراد دفتر کے اندر بھی داخل ہوگئے۔ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان کے 200 سے زائد کارکنان کو گرفتار کرلیا ہے جب کہ 50 سے زائد لاپتا ہیں۔

اس حوالے سے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ اسی پارٹی کی حکومت ہےجنہوں نے اسلام آباد کو 2 سو دن یرغمال بنائے رکھا۔ آج یہ حکومت پیپلزپارٹی کےکارکنوں کو30منٹ برداشت نہیں کرسکی۔

وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری اس حوالے سے ایک ویڈیو پیغام بھی دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کالعدم تنطیموں کے خلاف بات کرتی ہے۔ لیکن آج کارکنوں کو لاکر کالعدم تنظیموں کی طرح عدالتوں اور اداروں پر دباؤ ڈالا ہے۔

اس پیشی کے حوالے سے نیب نے بھی ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں ان کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری سے زبانی سوالات کیے گئے اور تحریری سوالنامہ بھی دیا گیا ہے جس کا وہ دس دن میں جواب دیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...