Loading...

نیوزی لینڈ میں خودکار ہتھیاروں پر پابندی عائد

0

نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جیسنڈا آرڈرن نے ملک بھر میں فوری طور پر خودکار اور نیم خودکار ہتھیاروں پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیرِ اعظم نے جمعرات کو دارالحکومت ویلنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں ملک میں گن کنٹرول سے متعلق ان اصلاحات کا اعلان کیا جن کا وعدہ انہوں نے جمعے کو کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر فائرنگ کے بعد کیا تھا۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ ان تمام نیم خود کار ہتھیاروں پر ملک بھر میں پابندی عائد کی جا رہی ہے جو 15 مارچ کو کیے جانے والے دہشت گرد حملے میں استعمال ہوئے تھے۔

جمعے کو کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں نمازیوں پر ایک سفید فام نسل پرست کی فائرنگ سے 50 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

کسی عوامی مقام پر فائرنگ میں ہلاکتوں کی تعداد کے اعتبار سے یہ نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سب سے بڑا اور خوف ناک واقعہ تھا جس پر تاحال پورا ملک سوگوار ہے۔

نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جیسنڈا آرڈرن نے حملے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت ملک میں ہتھیاروں پر کنٹرول سے متعلق قوانین کو مزید سخت کرے گی۔

کرائسٹ چرچ حملے میں ہلاک ہونے والے افغان نژاد داؤد نبی کی میت تدفین کے لیے لے جائی جا رہی ہے۔

جمعرات کو قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ 15 مارچ کو نیوزی لینڈ کی تاریخ ہمیشہ کے لیے تبدیل ہوگئی تھی جس کے بعد ملک کے قوانین بھی تبدیل کرنے پڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ خود کار ہتھیاروں کی کھلے عام فروخت پر پابندی نیوزی لینڈ کو ایک محفوظ ملک بنانے کے لیے ضروری ہے۔

وزیرِ اعظم نے امید ظاہر کی کہ نئے قوانین 11 اپریل سے نافذ ہوجائیں گے لیکن انہوں نے کہا کہ ایک عبوری حکم نامے کے تحت ممنوعہ ہتھیاروں کی فروخت پر فوری پابندی عائد کی جا رہی ہے۔

وزیرِ اعظم نے بتایا کہ شہریوں کے پاس پہلے سے موجود ممنوعہ ہتھیاروں کو حکومت خریدے گی۔ شہریوں سے ان ہتھیاروں کی خریداری پر حکومت 13 کروڑ 80 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد رقم خرچ کرے گی۔

وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ فوجی طرز کی تمام نیم خود کار رائفلوں اور بندوقوں کے علاوہ ان پارٹس پر بھی پابندی عائد کی جا رہی ہے جن کے ذریعے عام ہتھیاروں کو خود کار ہتھیاروں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ بہت زیادہ گولیاں ذخیرہ کرنے والے میگزینز پر بھی پابندی ہوگی۔

وزیرِ اعظم نے وضاحت کی کہ آسٹریلیا کی طرح ان کی حکومت بھی کسانوں کو ضرورت کی بنیاد پر خودکار ہتھیاروں پر پابندی سے مستثنیٰ کرے گی۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا کی حکومت نے 1996ء میں فائرنگ کے ایک واقعے میں 35 افراد کی ہلاکت کے بعد نیم خودکار ہتھیاروں پر پابندی عائد کردی تھی اور شہریوں کے پاس موجود ایسے ہتھیار حکومت نے خرید لیے تھے۔

کرائسٹ چرچ حملوں کے بعد وزیرِ اعظم آرڈرن نے خودکار ہتھیاروں پر پابندی کے لیے قانون سازی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

کرائسٹ چرچ حملوں کے بعد وزیرِ اعظم آرڈرن نے خودکار ہتھیاروں پر پابندی کے لیے قانون سازی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

نیوزی لینڈ میں کسانوں کی سب سے بڑی انجمن اور ملک میں ہتھیار فروخت کرنے والی سب سے بڑی کمپنی نے حکومت کی جانب سے عائد پابندی کی حمایت کی ہے۔

کمپنی ‘ہنٹنگ اینڈ فشنگ نیوزی لینڈ’ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہتھیاروں کی آن لائن فروخت بھی بند کر رہی ہے تاکہ ہتھیار خریدنے والے صارفین کی صحیح طرح جانچ پڑتال یقینی بنائی جاسکے۔

دریں اثنا نیوزی لینڈ کے پولیس چیف نے اعلان کیا ہے کہ کرائسٹ چرچ حملے میں ہلاک ہونے والے تمام 50 افراد کی شناخت مکمل کرلی گئی ہے اور تمام افراد کی لاشیں ان کے لواحقین کے حوالے کردی گئی ہیں۔

حملے میں ہلاک ہونے والے چھ افراد کی تدفین بدھ کو عمل میں آئی تھی جب کہ جمعرات کومزید افراد کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔

ہلاک ہونے والے بیشتر افراد کا تعلق پاکستان سمیت کئی مسلمان ملکوں سے تھا جن میں سے بعض کی میتیں ان کے لواحقین آبائی ملک لے جائیں گے۔

جمعے کو سانحے کا ایک ہفتہ مکمل ہونے پر نیوزی لینڈ بھر میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی جب کہ نیوزی لینڈ کے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو جمعے کی اذان براہِ راست نشر کریں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...