Loading...

گولان ہائٹس کے معاملے پر سلامتی کونسل کا اجلاس

0

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور کویت نے منگل کے روز امریکی فیصلے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ علاقہ زیر قبضہ عرب سرزمین ہے‘‘۔

شام کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بدھ کی شام ایک اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں گولان ہائٹس پر اسرائیل کا حقِ حکمرانی تسلیم کرنے کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فیصلہ زیر بحث لایا جائے گا۔

سال 1967ء میں مشرق وسطیٰ کی لڑائی کے دوران اسرائیل نے شام کا گولان ہائٹس کا علاقہ اپنے قبضے میں لے لیا تھا؛ جسے 1981 میں ضم کیا گیا، جس اقدام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ’’کالعدم اور بین الاقوامی قانون کے خلاف‘‘ قرار دیا تھا۔

اجلاس کے لیے 15 رکنی سلامتی کونسل کو دی گئی درخواست میں شام نے امریکہ کے فیصلے کو سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کی ’’سریح خلاف ورزی‘‘ قرار دیا ہے۔

پیر کے روز دورہٴ واشنگٹن کے دوران ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو ایک ساتھ نظر آئے، جب اُنھوں نے ایک اعلامیے پر دستخط کیے جس کے تحت باضابطہ طور پر امریکہ نے گولان ہائٹس کو اسرائیلی علاقہ تسلیم کیا۔

یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے سلامتی کونسل کے ارکان، فرانس، برطانیہ، جرمنی، بیلجئم اور پولینڈ نے منگل کے روز کہا ہے کہ وہ جون 1967ء میں زیر قبضہ لیے گئے علاقوں پر اسرائیلی اقتدار اعلیٰ کو تسلیم نہیں کرتے، جن میں گولان ہائٹس بھی شامل ہے۔

بقول اُن کے، ’’ضم کیے جانے کے معاملے کو غیر قانونی طور پر تسلیم کرنے کے اقدام کے وسیع تر نتائج برآمد ہوں گے، اور ساتھ ہی اس کے وسیع علاقائی نتائج نکلیں گے‘‘، جس تشویش پر، بقول اُن کے، اُنھوں نے اپنی آواز بلند کی۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور کویت نے منگل کے روز امریکی فیصلے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ علاقہ زیر قبضہ عرب سرزمین ہے‘‘۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ یہ امن کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔ اس بیان کی حمایت کرتے ہوئے، ایران نے کہا ہےکہ ’’یہ ٹرمپ کی جانب سے لیا جانے والا اس صدی کا ایک بے مثال فیصلہ ہے‘‘۔

سلامتی کونسل نے 1974ء میں علاقے پر امن کار فوج تعینات کی، جسے اقوام متحدہ کی ’ڈس انگیجمنٹ آبزرور فورس‘ کا نام دیا گیا تھا، تاکہ وہ گولان ہائٹس پر شام اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی کی صورت حال کا جائزہ لیتے رہیں۔ سرزمین پر اقوام متحدہ کے 880 سے زائد فوجی اہلکار تعینات ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...