Loading...

عراق: اجتماعی قبر سے یزیدیوں کی 30 لاشیں برآمد

0

یزیدی ایک نسلی اور مذہبی اقلیت ہے، اور داعش اِن لوگوں کو اپنی زبان اور مذہب ترک کرنے پر مجبور کیا کرتی تھی۔

سال 2014 کے دوران شمالی عراق میں داعش کے شدت پسندوں نے یزیدی نسل کے لوگوں پر ظالمانہ حملہ کیا۔

زندہ بچ جانے والوں نے بتایا ہے کہ ہلاک کیے جانے سے پہلے دہشت گرد اُنہی سے اجتماعی قبریں کھدواتے تھے، اور قتل کے بعد اُنھیں اُنہی گڑہوں میں پھینک دیا جاتا تھا۔ خواتین اور بچوں کو پکڑ کر اُن سے جبری مشقت لی جاتی تھی یا پھر جنسی غلامی پر لگا دیا جاتا تھا۔

بارہ برس کی آسیہ کو پانچ سال قبل اغوا کیا گیا تھا۔

اُنھوں نے بتایا کہ ’’دوپہر کے وقت آتے کے ساتھ ہی اُنھوں نے ہمیں کہا کہ سامان باندھو‘‘۔ کوشو نام کے ہمارے گاؤں سے اجتماعی قبر چند منٹ کے فاصلے پر تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ ہمیں پہاڑوں کی جانب لے جائیں گے جہاں ہمیں آزاد کر دیا جائے گا۔ وہ ہمیں ایک اسکول کی عمارت میں لے گئے۔ پہلے اُنھوں نے ہمارے زیورات اتارے، اور موبائل فون اور ہمارے شناختی کارڈ چھینے‘‘۔

حالیہ ہفتوں کے دوران عراقی اور اقوام متحدہ کے کارکنان نے قبر کشائی کی جہاں سے 30 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جن کے لیے بتایا جاتا ہے کہ یہ یزیدی تھے جنھیں داعش نے ہلاک کرکے اجتماعی قبر میں ڈال دیا تھا۔ علاقے میں اسی قسم کی درجنوں اجتماعی قبریں ہیں۔

ہزاروں قتل کیے گئے جب کہ ابھی تک ہزاروں لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے اسے ممکنہ قتل عام کا نام دیا ہے۔

دو ہفتے قبل آسیہ کو شدت پسندوں کے چنگل سے اُس وقت رہائی نصیب ہوئی جب شام کے شہر باغوز میں سنگین لڑائی کے دوران وہ علاقہ واگزار کرایا گیا جس پر داعش قابض تھا۔ کتنے لوگوں پر اذیت کے کیا کیا پہاڑ ٹوٹے، ان کی داستانیں سنائی جاتی ہیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ ’’وہ ظالم تھے۔ اُنھوں نے مجھے بھوکا پیاسا رکھا، مارا پیٹا، میرے ہاتھ کاٹ دیے اور اذیتں دیں‘‘۔

یزیدی ایک نسلی اور مذہبی اقلیت ہے، اور داعش اِن لوگوں کو اپنی زبان اور مذہب ترک کرنے پر مجبور کیا کرتی تھی۔

اُنھوں نے مزید بتایا کہ ’’اُنھوں نے مجھے کہا کہ اگر میں اُن کی طرح عبادت نہیں کروں گی، تو مجھے کھانا پانی نہیں ملے گا۔ میرے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں تھا کہ میں اُن کے سامنے نماز پڑھوں‘‘۔

سرگرم کارکنان داعش کے دہشت گردوں پر الزام دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کرتے ہیں کہ اُن کی جانب سے روا رکھے گئے جرائم اور قتل عام بین الاقوامی اقدام کا تقاضا کرتا ہے۔ اور اس کے نتیجے میں یزیدیوں کو بازیاب کرانے میں مدد مل سکتی ہے۔

لیکن، سب سے پہلے تو وہ عراقی حکومت پر الزام دیتے ہیں کہ اُنھیں تحفظ فراہم نہیں کیا گیا، نہی جاری بحران کو حل کرنے کی کوئی تدبیر کی گئی۔ عراق کے اندازاً 400000یزیدی سالوں سے بے دخل ہیں۔

یزیدی انسانی حقوق کی سرگرم کارکن، نادیہ مراد کو بھی کوشو سے اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ بچی تھیں، اور داعش نے اُنھیں جسم فروشی کے دھندے سے لگایا۔ وہاں سے وہ بھاگ نکلیں اور بعد ازاں اُنھیں ’امن کا نوبیل پرائز‘ دیا گیا۔

سوگوار یزیدیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ ’’یہ قتل عام، یہ اجتماعی قبریں اور یہ بربادی داعش کے بدنما اور ظالمانہ نظریے کا نتیجہ ہے۔ ہمارے حقوق چھینے گئے ہیں اور ہمیں دھوکہ دیا گیا‘‘۔

اقوام متحدہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ شناخت کے لیے انسانی باقیات کے نمونے بغداد روانہ کیے گئے ہیں؛ جب کہ اجتماعی قبریں کھودنے کا باقی کام مئی تک جاری رہے گا۔ توقع ہے کہ آخر کار تمام لاشیں نکال کر اہل خانہ کے حوالے کر دی جائیں گی، تاکہ اُن کی مناسب طریقے سے تدفین کی جا سکے۔

Loading...
تبصرے
Loading...