Loading...

دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف سخت کارروائی کی جائے: سلامتی کونسل کی قرارداد

0

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وہ ممالک جو اس پر عمل درآمد نہیں کریں گے، اُنھیں اقوام متحدہ کی جانب سے تعزیرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعرات کے روز متفقہ طور پر پہلی قرارداد منظور کی ہے، جس میں رکن ملکوں سے کہا گیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی مالی امداد کے خلاف قوانین کا نفاذ کریں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اقوام متحدہ کے دو تہائی ارکان مناسب طور پر ان عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لاتیں جو دہشت گردوں کو رقوم کے حصول میں معاون بنتے ہیں۔

جمعرات کو منظور ہونے والی قرارداد میں تمام ملکوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ’’اس بات کو یقینی بنائیں کہ سنگین مجرمانہ کارروائیوں کو قابل تعزیر بنانے کے لیے داخلی قوانین اور ضابطے قائم کیے جائیں‘‘ تاکہ دہشت گرد گروہ یا جرائم پیشہ افراد رقوم یا مالیاتی وسائل اکٹھے نہ کر سکیں۔

قرارداد میں رکن ملکوں سے اس بات کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ مالیاتی نوعیت کے انٹیلی جنس یونٹ تیار کیے جائیں۔

اس میں کہا گیا ہے کہ وہ ممالک جو اس قرارداد پر عمل درآمد نہیں کریں گے، اُنھیں اقوام متحدہ کی جانب سے تعزیرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اقوام متحدہ میں انسداد دہشت گردی پر مامور سربراہ، ولادیمیر ورونکوف نے کہا ہے کہ یہ قرارداد ’’ایک اہم موڑ‘‘ پر منظور کی گئی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ دہشت گرد ناجائز اور قانونی دونوں ذرائع سے نقدی تک پہنچ پاتے ہیں؛ جس میں منشیات کی اسمگلنگ، تعمیراتی تجارت اور سیکنڈ ہینڈ کاروں کی فروخت شامل ہے۔

اقوام متحدہ کی قرارداد رکن ملکوں پر بھی زور دیتی ہے کہ وہ اغواکاروں کو تاوان نہ ادا کریں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اس قسم کی ادائگیاں داعش اور دیگر گروہوں کی مالی امداد کا اہم ذریعہ بن چکی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...