Loading...

ایچ آئی وی پازیٹو مریض کے گردے کی پیوند کاری کا پہلا آپریشن

0

دنیا میں پہلی بار ایچ آئی وی میں مبتلا ایک شخص نے اپنا گردہ عطیہ کیا ہے اور گردہ وصول کرنے والا شخص بھی ایچ آئی وی کا مریض ہے۔

امریکی ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مور میں قائم جانز ہاپکنز میڈیسن میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے اپنی نوعیت کی یہ پہلی سرجری 25 مارچ پیر کے روز کی۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی سکول آف میڈیسن کے پروفیسر آف سرجری ڈاکٹر ڈوری سرگوف نے جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ایچ آئی وی کے مرض کو 1980 کے عشرے میں موت کا پروانہ سمجھا جاتا تھا، لیکن اب اس کے علاج میں اس قدر پیش رفت ہو چکی ہے کہ ایچ آئی وی پازیٹو کے ساتھ زندگی گزارنے والے گردے کا عطیہ لے کر اپنی زندگی کو مزید طوالت دے سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گردے کا عطیہ دینے والا ایچ آئی وی پازیٹو کا مریض ہے جب کہ جسے اس کا گردہ لگایا گیا ہے وہ بھی ایچ آئی وی پازیٹو ہے۔

اس سے پہلے ایچ آئی وی کے مریض گردے کا عطیہ نہیں دے سکتے تھے۔

ڈاکٹر سرگوف نے بتایا کہ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے ایچ آئی وی کے 40 ہزار سے زیادہ مریضوں پر تحقیق کی ہے، خاص طور پر گردے کی صحت کے حوالے سے۔ اپنی اس تحقیق سے انہیں معلوم ہوا جن مریضوں کا ایچ آئی وی مرض کنڑول میں ہے تو ان کے لیے صحت کے وہی مسائل ہوتے ہیں جو ایسے افراد کے ہیں جنہیں یہ مرض نہیں ہوتا۔

اس کے علاوہ اب نئے طریقہ علاج سے ایچ آئی وی کے مریض بھی ایک عام شخص جتنا عرصہ جی سکتے ہیں۔

ڈاکٹر کرسٹین ڈورنڈ نے کانفرنس میں بتایا کہ جدید طبی سائنس میں ٹرانسپلانٹ کا عمل ترقی کر رہا ہے اور اس سے ایچ آئی وی سے منسوب بدنامی کا داغ دھونے میں مدد مل رہی ہے۔

گردے کا عطیہ کرنے والی خاتون نینا مارٹینز کو بچپن سے ہی ایچ آئی وی کا مرض لاحق ہے۔ انہوں نے اپنا گردہ عطیہ کرنے کا فیصلہ ٹیلی وژن پر ایک ڈرامہ دیکھنے کے بعد کیا جس میں ایچ آئی وی کا ایک مریض اپنے گردے کا عطیہ دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے لوگ بیمار ہوتے ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ لوگ اس بارے میں اپنے نظریات تبدیل کریں۔ میں کسی کی ہیرو بننا نہیں چاہتی بلکہ ایک اچھی مثال قائم کرنا چاہتی ہوں۔

ڈاکٹر سرگوف نے بتایا کہ گردے کا عطیہ دینے اور وصول کرنے والے، دونوں تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔ تاہم عطیہ وصول کرنے والے نے اپنا نام پوشیدہ رکھنے کی درخواست کی ہے۔

امریکہ میں اس وقت گردے کی پیوند کاری کا انتظار کرنے والوں کی فہرست میں ایک لاکھ 13 ہزار سے زیادہ افراد شامل ہیں، جو امریکی تاریخ میں طویل ترین ویٹنگ لسٹ ہے۔

امریکہ میں گردے کی پیوندکاری کا انتظار کرنے والے 20 مریض روزانہ ہلاک ہو جاتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...