Loading...

بعض امریکی ریاستیں کس طرح کچھ ملکوں سے بھی زیادہ امیر ہیں

0

امریکہ اقتصادی طاقت کا سر چشمہ ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے لحاظ سے، سال 2018ء میں امریکہ میں 20.5 ٹرلین ڈالر مالیت کی اشیا اور خدمات پیدا ہوئیں، جنھیں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا نام دیا جاتا ہے۔

یہ ایک متاثر کُن کارکردگی ہے، جب آپ کی نظر پوری دنیا کی مجموعی قومی پیداوار پر ہو، جو 2017ء میں تقریباً 80 ٹرلین ڈالر تھی۔

درحقیقت، امریکہ کی ہر ریاست کی ’جی ڈی پی‘ اس معیاری سطح کی ہے کہ وہ کسی غیر ملک کی طرح معاشی طور پر طاقت ور دکھائی دیتی ہے۔

ملک میں کیلی فورنیا ایک ایسی ریاست ہے جس کی مجموعی قومی پیداوار اونچی ترین سطح کی ہے۔ اس کی معیشت کی سطح 2.97 ٹرلین ڈالر ہے جو برطانیہ کے مساوی ہے، جس کی ’جی ڈی پی‘ 2.81 ٹرلین ڈالر ہے۔ برطانیہ کو 14 کروڑ 50 لاکھ کارکنوں کی ضرورت پڑے گی تب جا کر وہ کیلی فورنیا کی مجموعی قومی پیداوار کا مقابلہ کر سکے گا۔ یعنی، کیلی فورنیا کے مقابلے میں کارکنوں کی 75 فی صد زیادہ تعداد؛ تاکہ وہ اُتنی ہی معاشی پیداوار دے سکے۔ اپنے طور پر، کیلی فورنیا کی ریاست دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت کا درجہ رکھتی ہے۔

ٹیکساس کی مجموعی قومی پیداوار 1.78 ٹرلین ڈالر ہے، جو کینیڈا کی معیشت کے مساوی ہے۔ کینیڈا کی سالانہ ’جی ڈی پی‘ 1.73 ٹرلین ڈالر ہے؛ جب کہ نیو یارک کی ’جی ڈی پی‘ 1.70 ٹرلین ڈالر ہے، جو جنوبی کوریا کی 1.66 ٹرلین ڈالر کے مساوی ہے۔

یہاں تک کہ امریکہ کی چھوٹی ترین ریاستیں بھی کسی سے پیچھے نہیں۔

آبادی کے لحاظ سے، ویومنگ امریکہ کی چھوٹی ترین ریاست ہے، جس کی کُل آبادی 600000 سے بھی کم ہے۔ مجموعی قومی پیداوار میں اس کا حصہ 41 ارب ڈالر ہے، جو کہ اردن کے مساوی ہے، جس کی آبادی 90 لاکھ ہے۔

مارک جے پیری ’یونیورسٹی آف مشیگن‘ میں معاشیات اور مالیات کے پروفیسر ہیں۔

وہ ’امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ‘ سے تعلق رکھنے والے ایک دانشور ہیں۔ اُنھوں نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں امریکی محکمہ ٴ تجارت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اعداد و شمار استعمال کرتے ہوئے ساری دنیا کے ممالک کا امریکی ریاستوں کے ’جی ڈی پی‘ سے موازنہ کیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ان اعداد و شمار سے یہ یقین پختہ ہوجاتا ہے کہ ’’امریکی صنعتی کارکن عالمی سطح کی پیداواری صلاحیت‘‘ میں اعلیٰ ترین مقام رکھتے ہیں۔

ایک اعتبار سے یہ ایک یاد دہانی ہے کہ ’’دنیا کی سب سے بڑی پیداواری صنعت کتنی دولت، پیداوار اور خوشحالی کا باعث بنتی ہے، جس کی انسانی تاریخ میں مثال ملنا دشوار ہے‘‘۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...