Loading...

حسد کا علاج اور حسد کو محبت میں تبدیل کرنے کا نسخہ:

0

حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ علیہ کو ایک شخص نے لکھا کہ مجھے حسد کی بیماری ہے، اپنے بھائی پر میرا دل جلتا ہے کہ اس کی ترقی کیوں ہورہی ہے اور میری کیوں نہیں ہورہی؟؟؟لہذا دل جل رہا ہے، ہر وقت پریشان ہے حضرت نے اسے حسد کا جو علاج لکھا وہ یہ ہے”1۔۔۔۔جس بات پر تمہیں جلن ہے مثلا: ایک ڈاکٹر کے پاس روزانہ پچاس مریض آتے ہیں اور تمہارے یہاں دس آرہے ہیں، تمہیں جلن ہورہی ہے تو

تم یہ دعا کرو کہ اے اللہ! اس کے پاس مریض اوربڑھادے، اسکا مطب اور چمکادے یہ جس کو دوا دے سب کو شفا ہوجائے، اس کے ہاتھ میں شفا رکھ دے، اسکی دنیا بھی بنادے اور دین بھی بنادے۔ تو اس کے لئے دعا کرو

کیوں کہ حسد ہم پیشہ پر ہوتا ہے، مولوی مولوی پر حسد کرتا ہے ڈاکٹر ڈاکٹر پر، انجنیئر انجنیئر پر، تاجر تاجرپر، کسی ڈاکٹر کو مولوی پر حسد نہیں ہوگا لہذا حضرت نے لکھا کہ اس کے لئے دعا کرو کہ اے اللہ! اسکی نعمت میں اور ترقی دے کیوں کہ حسد میں یہ دل چاہتا ہے کہ اس کی نعمت زائل ہوجائے، کسی کی نعمت زائل ہونے کی تمنا کی بیماری حسد ہے۔۔۔!!2۔۔۔حسد کا دوسرا علاج یہ ہے کہ کبھی کبھی اس کو ایک پیالی چائے پلادو، یہ علاج بڑا کڑوا ہے، جیسے ڈاکٹر شوگر والوں کو کریلے کا پانی پینا بتاتے ہیں۔

تو جس پر حسد ہے حضرت حکیم الامت تھانوی رحمہ اللہ علیہ حکم دے رہے ہیں کہ اس کو کبھی ایک پیالی چائے پلادو، کڑوی دوا تو ہے لیکن اگر اللہ کو راضی کرنا ہے تو یہی کڑوی دوا میٹھی لگے گی، اللہ کے لئے جان کی بازی لگاو۔۔3۔۔۔اپنی مجلس میں اسکی خوبیاں بیان کرو کہ ماشاءاللہ اچھے آدمی ہیں نمازی ہیں، اس میں کوئی نہ کوئی خوبی تو ہوگی تو اسکی خوبی بیان کرو۔۔!!4۔۔۔کبھی بھی اسکی غیبت نہ کرو، اسکی برائی نہ کرو اللہ تعالی سے دعا گو رہو۔۔!!!5۔۔۔جب سفر پر جاو جیسے حج کرنا ہے عمرہ کرنا ہے یا کہیں بھی جانا ہے تو اس سے مصافحہ اور دعا کی گزارش کرکے جاو۔۔!!6۔۔۔جب سفر سے واپس آو تو اس کے لئے کوئی ہدیہ لے آو چاہے ایک رومال ہی لے آو ایک رومال چند روپے میں مل جائے گا تو اسے رومال پیش کردیا کہ

آپ کے لئے لاھور سے رومال لایا ہوں غرض کوئی ہدیہ لے جاو۔۔۔!!یہ چند نسخوں پر جب اس نے عمل کیا تو حضرت تھانوی رحمہ اللہ علیہ کو لکھا کہ اب جلن کم ہوگئی ہے۔۔حضرت نے فرمایا ابھی پندرہ دن یہی نسخہ اور استعمال کرو ابھی بھی کچھ جراثیم ہیں، اس کے بعد پھر لکھا کہ حضرت! اب تو جلن کے بجائے دل میں ان کی محبت معلوم ہوتی ہے اب تو ان کو دیکھ کر جی خوش ہوجاتا ہے، پہلے ان کو دیکھ کر الرجی ہوتی تھی، اب دیکھ کر انرجی آتی ہے، طاقت آتی ہے، خوشی پیدا ہوتی ہے ورنہ پہلے اس کا سامنا کرنے میں تکلیف ہوتی تھی۔۔۔!!!

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...