Loading...

پرانا کرتہ

0

ابن سعید ؓ کی عمر بہت کم تھی ایک دن ایک چڑیا سے کھیل رہے تھے کہ وہ اڑ کر مسجد نبوی ﷺ میں چلی گئی۔ ابن سعید ؓ اس کے پیچھے بھاگے اور بھاگتے بھاگتے مسجد میں داخل ہو گئے۔ کرتہ ذرا بوسیدہ تھا دیکھا کہ ایک بڑے وجیہہ بزرگ مسجد میں ایک اینٹ کو تکیہ بنائے محو خواب ہیں۔ معصوم بچے کی نگاہ جب ان پر پڑی تو ان کی وجاہت اور حسن و جمال کو دیکھ کر مبہوت ہو گیا ان کے پاس کھڑا ہو گیا اور

تعجب سے انہیں تکنے لگا۔ بچے کی جو آہٹ پائی تو بزرگ نے آنکھ کھول دی۔ دریافت کیا بچے تم کون ہو، کس کے بیٹے ہو؟ اس وقت مسجد میں کیا کرنے آئے ہو؟ ابن سعید ؓ

نے نہایت معصومیت سے بزرگ کو ساری باتیں بتلا دیں اور یہ بھی بتلا دیا کہ حضرت! اس وقت تو میں اپنی چڑیا کو پکڑنے کی نیت سے آیا تھا۔ بزرگ نے بچے کو اپنے پاس بلا کر بٹھا لیا اور قریب ہی ایک شخص سو رہا تھا، اس کا نام لے لے کر پکارنے لگے مگر وہ اللہ کا بندہ بالکل ہی غافل سو رہا تھا۔ بزرگ نے ابن سعید ؓ سے فرمایا کہ بچے ذرا قریب جا کر اسے بیدار کرو۔ جب ابن سعید ؓ نے اسے بیدار کیا تو بزرگ نے اسے قریب بلا کر اس کے کان میں کچھ کہا اور وہ چلا گیا

اب ابن سعید ؓ بھی جانے کے لئے کھڑے ہو گئے تو بزرگ نے فرمایا کہ تم ابھی نہ جاؤ تم سے کچھ کام ہے۔ میرے پاس ہی بیٹھے رہو۔ ابن سعید ؓ کا بیان ہے کہ اس بزرگ کے چہرے میں ایسی کشش لہجے میں ایسی مٹھاس اور طرز گفتگو میں اتنی شیرینی تھی کہ میں انکار نہ کر سکا۔ تھوڑی دیر میں دیکھا کہ وہی آدمی ایک نہایت قیمتی اور خوب صورت کرتہ لے کر آیا۔ بزرگ نے وہ کرتہ لیا۔ میرا کرتہ اتروا دیا اور وہ کرتہ مجھے پہنا دیا میرا پرانا کرتہ میرے ہاتھ میں تھمایا اور جب میں چلنے لگا تو میرے کرتے کی جیب میں ایک ہزار درہم کی تھیلی ڈال دی۔ فرمایا اب اپنے گھر جا سکتے ہو۔ مجھے ایسا لگا جیسے کہ میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں۔ نہایت جاذب نظر کرتہ میرے بدن پر تھا اور جیب میں درہموں سے بھری ہوئی تھیلی۔ گھر میں آیا تو

سیدھے اپنے والد کے پاس گیا اور جیب سے تھیلی نکال کر ان کے سامنے رکھ دی۔ والد نے جو ماجرا دریافت کیا تو ساری داستان شروع سے آخر تک سنا ڈالی۔ میرے والد سوچ میں پڑ گئے۔ پوچھا تم انہیں جانتے ہو۔ میں نے عرض کیا میں تو انہیں نہیں جانتا۔ لیکن بابا! آدمی بڑے خوبصورت تھے۔ معمولی کپڑے ان کے بدن پر تھے۔ مسجد نبویﷺ کے ایک کونے میں ایک اینٹ سر کے نیچے رکھے سو رہے تھے ان کے منہ سے باتیں ایسے نکل رہی تھیں جیسے کہ پھول جھڑ رہے ہوں۔ یہ سب سن کر ابن سعید ؓ کے والد مسکرا اٹھے اور فرمایا بیٹے! میں سمجھ گیا وہ کون تھے۔ وہ خلیفہ وقت ذوالنورین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ غریبوں کے غمگسار، شمع کی طرح دوسروں کے لئے جلنے اور گھلنے والے ۔ خیر مجسم، سخی اور غنی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...