Loading...

جس گھر میں کُک زیادہ ہوتے ہیں

0

امریکا کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی مسلسل خسارے میں جا رہی تھی‘ کمپنی کے مالکان نے خسارے کی وجوہات معلوم کرنے کیلئے ایک کنسلٹنٹ ہائر کیا۔ کنسلٹنٹ نے دو ماہ کے مطالعے کے بعد کمپنی کے زوال کی بڑی دلچسپ وجہ بیان کی۔اس نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ کے دوران ڈائریکٹرز سے پوچھا ’’فرض کریں آپ میں سے کوئی صاحب کچن میں کام کررہے ہیں ‘ وہ ایک ڈش تیار کررہے ہیں‘

یہ ڈش جب تیاری کے قریب پہنچ جاتی ہے تو ایک دوسرے صاحب کچن میں داخل ہوتے ہیں‘ وہ ڈش کا ڈھکن اٹھاتے ہیں‘ کھاناسونگھتے ہیں اور پتیلی میں ایک چمچ مرچ ڈال دیتے ہیں۔ وہ صاحب جاتے ہیں تو دوسرے صاحب آ جاتے ہیں‘ وہ بھی ڈھکن اٹھاتے ہیں‘ ڈش دیکھتے ہیں اور

اس میں نمک کا ایک چمچ ڈال دیتے ہیں۔ان کے بعد تیسرے صاحب آتے ہیں وہ بھی ڈش کودیکھتے ہیں اوراس میں دو بڑے چمچ کوکنگ آئل ڈال دیتے ہیں۔ کنسلٹنٹ چند لمحوں کیلئے رکا‘ اس نے ڈائریکٹر کی طرف دیکھااور دوبارہ بولا ’’اس کے بعد لوگ کچن میں آتے جاتے ہیں اور ڈش میں اپنی مرضی کی چیزیں ڈالتے جاتے ہیں۔ کوئی اس میں کالی ۔۔مرچ ڈال دیتا ہے‘کوئی ادرک ڈال دیتا ہے‘

کوئی آلو‘ پیاز اور انڈے ڈال دیتا ہے‘ کوئی چولہا تیز کر جاتا ہے‘ کوئی چولہابجھا جاتا ہے‘ کوئی پانی ڈال دیتا ہے اور کوئی اس میں دودھ ڈال دیتا ہے۔ آپ بتائیے اس ڈش کا کیا بنے گا؟‘‘تمام ڈائریکٹر فوراً بولے ’’وہ ڈش کھانے کے قابل نہیں رہے گی‘‘ کنسلٹنٹ مسکرایا اور آہستہ سے بولا ’’آپ کی کمپنی کے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔ اس کا ہر نیا صاحب‘ نیا ڈائریکٹر ڈش میں اپنی مرضی‘ اپنی سوچ اور خواہش کے مصالحے ڈال رہا ہے چنانچہ آپ کی کمپنی بند ہو رہی ہے‘‘ کنسلٹنٹ نے کہا جس گھر میں کک زیادہ ہوتے ہیں‘اس گھر کے مالکان عموماًبھوکے سوتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...