Loading...

وہ رَس بھری آواز

0

2008ء میں میری والدہ کی خالہ زاد بہن نے اپنی بیٹی کی شادی پرہم سب کو شرکت کی دعوت دی۔ ان ہی دنوں میرے والد صاحب کا انتقال ہواتھا،اس اچانک صدمے کی وجہ سے والدہ ہر وقت اداس رہنے لگی تھیں، لہٰذا شادی میں جانے کے لیے راضی نہیں ہورہی تھیں، لیکن خالہ نے انہیں سمجھایا، تو انہیں رضامند ہونا پڑا۔ ابّو کے انتقال کے بعد ہم لوگ گاؤں میں نانا کے گھر شفٹ ہوگئے تھے،

جو حیدرآباد میں تھا۔ خالہ سندھ کے اندورنی شہر تھارو شاہ میں رہتی تھیں۔ ابو کے انتقال کے بعد یہ پہلی خوشی تھی، جسے ہم بڑے جوش وخروش سے منارہی تھیں۔ شادی میں شرکت کے لیے خصوصی جوڑے بنوائے۔ گرمیوں کے دن تھے، خالہ کے گھر پہنچے، تو گلے خشک ہورہے

تھے، خالہ کی سات بیٹیاں تھیں، ان میں سے دو بیٹیاں انہوں نے اپنے ایک سسرالی رشتے دار کو گود دے رکھی تھیں۔ سب بیٹیاں سگھڑ تھیں، انہوں نے ہماری نہایت خلوص ومحبت سے مہمان داری کی۔ طویل عرصے بعدسب اکٹھے ہوئے، تو بات چیت میں وقت کا پتا ہی نہ چلا، لہٰذا رات کا کھانا کھاکر گہری نیند سوگئے۔ صبح فجر کے وقت آنکھ کھلی، شادی کا موقع تھا، تقریباً سب ہی جاگ رہے تھے۔ اچانک میرے کانوں میں ایک نہایت میٹھی اور سریلی آواز سنائی دی، جو ایک درد بھرے گیت کی صورت میں تھی، اس کے بول بھی نامانوس زبان میں تھے، جو سمجھ میں نہیں آرہے تھے، مگر اس کی لے میں درد کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا تھا۔ اسی لمحے ناشتا لگنے کا اعلان ہوا، تو وہ آواز بند ہوگئی۔ ناشتے کے لوازمات دسترخوان پر سجاتے ہوئے ایک چہرہ سب سے الگ نظر آرہا تھا،جس کے بارے میں ہمیں کوئی علم نہیں تھا کہ

اس سے ہماری کیا رشتے داری ہے۔ وہ خاتون نہایت زندہ دل اور ہنس مکھ تھیں۔ بات بات پر چٹکلے چھوڑ کر خواتین کو قہقہے لگانے پر مجبور کررہی تھیں۔ اس وقت ان سے تعارف کا موقع نہ مل سکا۔ ناشتے کے بعد ہم اپنے رشتے داروں سے ملنے چلے گئے۔ دوپہر کو واپس آئے، تو وہ خاتون چند گورے گورے صحت مند بچّوں کے ساتھ صحن میں بیٹھی ان سے باتوں میں مگن تھیں۔ رات کو مایوں کی تقریب میں خوب ہلاّ گلاّ ہوتا رہا، لیکن وہ خاتون کہیں دکھائی نہ دیں ۔تاہم، دوسرے روز رات کو مہندی کے فنکشن میں وہ بڑی سج دھج سے آئیں اور اپنی باتوں اور بلند قہقہوں سے خوب رونق لگاتی رہیں ، اس کی ہنسی مذاق کی باتوںسے سب لوگ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے رہے۔اگلے روزہمارے خالو باورچی خانے میں ناشتا کرنے آئے، تو ہم بھی ان ہی کے ساتھ بیٹھ گئے۔ اس اثناء میں وہ خاتون بھی آگئیں، مگرخالو کو دیکھ کرفوراً پلٹ گئیں ۔ انہیں اچانک یوں آتے اور فوراً ہی واپس جاتے دیکھ کر میری والدہ نے خالو سے پوچھ ہی لیا کہ

یہ عورت کون ہے، جو محفل میں چھا جاتی ہے۔ خالو نے بھی انھیں جاتے ہوئے دیکھ لیا تھا، کہنے لگے ’’یہ میرے ماموں کی دوسری بیوی، بانو ہے۔ ماموں کی پہلی بیوی، مبشرہ سے طویل عرصے تک کوئی اولاد نہیں ہوئی، توماموں نے ان سے دوسری شادی کرلی ۔‘‘ میرابھی تجسّس جاگ چکا تھا ، میں نے پوچھا’’ خالو! یہ خاتون تو بڑی ہنس مکھ اور چنچل لگتی ہیں، ہمارے خاندان کی بھی نہیں لگتیں۔‘‘ خالو نے ایک لمبی سانس بھری پھرکہنے لگے’’ان کی زندگی بھی ایک انوکھی کہانی ہے۔ بانو نامی اس بنگالی خاتون کا تعلق بنگلا دیش سے ہے۔ جب یہ آٹھ برس کی تھیں، تو اغوا کاروں کےایکمنظّم گروپ نے انہیں اسکول جاتے ہوئے اغوا کرلیااور پانی کے جہاز کے ذریعے کراچی لاکر انہیں ایک شخص کے ہاتھوں بیچ دیا۔کچھ عرصے بعد اس شخص نے بھی کسی اور شخص کے ہاتھ فروخت کردیا۔اس طرح ہوتے ہوتے وہ ہمارے شہر نوشہرو فیروزپہنچ گئی۔

میری ممانی ،مبشرہ کی کوئی اولاد نہیں تھی ۔ جو شخص اس لڑکی کو خرید کرلایا تھا، وہ ممانی مبشرہ کے دورکا رشتے دار تھا ۔ وہ جب ان کے گھر جاتیں،تو یہ بچّی تن دہی سے کام کرتی نظر آتی۔ اگرچہ بڑی ہوگئی تھی، مگر اپنی عمر سے کم نظر آتی تھی۔ اسے اس طرح تن دہی سے کام کرتےدیکھ کر ممانی کو ایک خیال سوجھا۔ ان دنوں ماموں ایک مہلک بیماری میں مبتلا تھے۔ ممانی مبشرہ ان کی تیمارداری کرنے سے کتراتی تھیں، ڈاکٹروں نے بھی ماموں کی بیماری کو لاعلاج قرار دیتے ہوئے کہہ دیا تھا کہ ’’جب تک زندگی ہے، ان کا خیال رکھیں گے، تو کچھ عرصے اور جی لیں گے۔‘‘ ممانی نے سوچا کہ کیوں نہ اس لڑکی کو خدمت گار کے طور پر اپنے خاوند کی تیمارداری کے لیے رکھ لیا جائے۔ انہوں نے یہ بات اپنے اس رشتے دار سے کہی، تو اس نے کہا ’’لڑکی جوان ہے، وہ کس طرح ایک بیمار مرد کے نہلانے دھلانے اور اس طرح کے دوسرے کام کرسکتی ہے۔‘‘ جس کا شاطر دماغ ممانی نے یہ حل نکالا کہ اس لاوارث لڑکی سے میاں کا نکاح پڑھوادیاجائے، لڑکی کو عارضی ٹھکانہ مل جائے گا اور

انہیں اچھی خادمہ بھی۔ یہ خیال آتے ہی انہوں نے کسیسے مشورہ لیے بغیر عمل کرڈالا۔ اپنے اس رشتے دار کو موٹی رقم ادا کرکے اس شادی پر آمادہ کرلیا اور سادگی سے نکاح پڑھواکر اسے اپنے گھر لے آئیں۔ حالاں کہ ماموں نے انہیں اس ظلم سے باز رکھنے کی بہت کوشش کی، مگر انہوں نے اپنی بات منواکر ہی دم لیا، لیکن قدرت کے کاموں میں بھلا کون دخل دے سکتا ہے۔ شادی کے بعد حیرت انگیز طور پر ماموں کی حالت بہ تدریج بہتر ہونے لگی۔ بانو نے جی جان سے ان کی خدمت کی، جب کہ ممانی مبشرہ ان سے قطعی غافل ہوگئی تھیں، انہیں احساس ہی نہیں ہوا کہ ماموں دھیرے دھیرے زندگی کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ ڈاکٹرز بھی ان کی میڈیکل رپورٹس دیکھ کر اس کرامت پر حیران ہورہے تھے۔ پھر ممانی کو پہلاجھٹکا اس وقت لگا، جب بانو نے انہیں بچّے کی خوش خبری سنائی۔ اس خبرنے تو ماموں پر دوا سے بھی زیادہ اثر ڈالا اور پھر مکمل صحت یابی کے بعد دوبارہ اپنا بزنس سنبھال لیا۔

مبشرہ ممانی ہکّا بکّا رہ گئیں، ان کی سب تدبیریں الٹی ہوگئیں، وہ اپنے شوہر کو اولاد دے سکیں، نہ ہی بیماری میں شوہر کا ساتھ۔ یہ اعزاز قدرت نے بانو کو بخش دیاتھا۔ بچّے کی پیدائش کے بعد ماموں، بانو کی دل سے قدر کرنے لگے اور محبت ملنے پر بانو پر ایسا نکھار آیا کہ وہ بلا کی دل کش دکھائی دینے لگیں۔ یکے بعد دیگرے پانچ بچّوں کی آمد سے برسوں سے سونا آنگن پررونق ہوگیا۔ بانو نے بھی کبھی اپنی سوکن مبشرہ کی عزت میں کبھی کوئی کمی نہیں آنے دی، ہمیشہ ان کا مان رکھا۔ بلاشبہ،قدرت جب کسی کو آزمائش کے بعد نوازتی ہے، تو بانو ممانی کی طرح چھپّر پھاڑ کردیتی ہے، ماموں کا بزنس بھی خوب چل نکلا تھا، انہیں دیکھ کر یقین نہیں آتا تھا کہ وہ کبھی اتنے شدید علیل بھی رہے ہوں گے۔ مبشرہ ممانی کی چال الٹی ہوگئی تھی، اور ادھر بانو نے اپنی خوش مزاجی اور سچّے خلوص سے خاندان بھر میں مقبول ترین حیثیت حاصل کرلی بلکہ

اپنے بچوں کی پرورش بھی اس طرح کی کہ وہ مبشرہ کو بڑی امی اور اسے چھوٹی امی کہتے ہیں اور دونوں سے یکساں پیار کرتے ہیں۔ ان کا گھر ہمارے گھر سے ملحق ہے، صبح سویرے بانو کے بنگالی گیت کی رس بھری آواز روزانہ سنائی دیتی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ اُن کے والدین سے بچھڑنے کاغم ہے، جسے وہ گیت میں ڈھال کے اپنے دل کو سکون دیتی ہیں۔‘‘یہ معمّا بھی حل ہوگیا کہ صبح سویرے درد بھرے گیت کون سناتا ہے۔ اس خاتون کی کتھا سننے کے بعد میرے دل میں ان کے لیے بے پناہ عزت اور محبت پیدا ہوگئی، جب تک ہم وہاں رہے، ان سےنہایت اپنائیت اور عزت سے ملتے رہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...