Loading...

’داعش کی خلافت کا خاتمہ جنگ کا اختتام نہیں‘

0

امریکہ نے انتباہ کیا ہے کہ اسلامک سٹیٹ یعنی داعش کی خودساختہ خلافت کی تباہی کا مطلب اس دہشت گرد گروپ کی شکست نہیں ہے۔ واشنگٹن نے یہ پیغام ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب کہ امریکہ شام سے اپنی زیادہ تر فورسز نکال رہا ہے۔

امریکہ کی حمایت یافتہ فورسز نے ہفتے کے روز شام کے شمال مشرقی قصبے باغوز کو آزاد کرانے کے بعد داعش کی خلافت پر فتح حاصل کر لی تھی۔ اس لڑائی میں اسے امریکی فضائی مدد بھی حاصل تھی۔ جب کہ اب بھی کئی سو جنگجو ایسے ہیں جنہوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا ہے۔

داعش کی خلافت کے خاتمے کے بعد اب سیرین ڈیموکریٹک فورسز علاقے میں بچے کھچے جنگجوؤں کی صفائی کرنے میں مصروف ہیں۔ اور وہ بڑی احتیاط سے یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ علاقے میں دہشت گرد نیٹ ورک نے دھماکہ خیز مواد کہاں نصب کر رکھا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کا غاروں پر مشتمل نیٹ ورک کہاں تک پھیلا ہوا ہے۔ جسے جنگجو اپنے آپ کو اور اپنے بیوی بچوں کو حملوں سے بچانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

شام کے لیے امریکہ کے سفارت کار جیمز جیفری نے پیر کے روز نامہ نگاروں سے کہا کہ ابھی اسلامک سٹیٹ کے خلاف جنگ ختم نہیں ہوئی ہے۔ یہ جنگ جاری رہے گی، لیکن اب یہ ایک مختلف قسم کی مشکل جنگ ہو گی۔

باغوز کی لڑائی کے دوران ہزاروں خاندان محفوظ مقامات کی طرف جا رہے ہیں۔ 23 مارچ 209

ان کا کہنا تھا کہ داعش اب خود کو چھوٹے گروپس میں منظم کر رہی ہے۔ جو چھوٹی سطح پر دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔

جیفری اور کئی دوسرے اتحادی عہدے داروں کا اندازہ ہے کہ اس وقت داعش کے جنگجوؤں کی تعداد 15 سے 20 ہزار کے درمیان ہے جو شام اور عراق میں پھیلے ہوئے ہیں۔

اس سے قبل امریکی عہدے داروں کے اندازوں کے مطابق جنگجوؤں کی تعداد 34 ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان تھی۔

کئی عہدے داروں اور تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ جون 2017 میں عراق کے شہر موصل میں داعش کے دارالحکومت کے سقوط کے بعد سے وہ ایک نئی شورش برپا کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

سیرین ڈیموکریٹک فورس کا ایک اہل کار باغوز سے نکلنے والے لوگوں کی نگرانی کر رہاہے۔ انہیں جانچ پڑتال کے بعد جانے کی اجازت دی جائے گی۔ 22 مارچ 2019

سیرین ڈیموکریٹک فورس کا ایک اہل کار باغوز سے نکلنے والے لوگوں کی نگرانی کر رہاہے۔ انہیں جانچ پڑتال کے بعد جانے کی اجازت دی جائے گی۔ 22 مارچ 2019

جیفری نے پیر کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ شام سے امریکی فورسز نکالی جا رہی ہیں اور وہاں تعینات تقریباً دو ہزار فوجیوں کو صدر ٹرمپ کے اعلان کے تحت پہلے ہی نکالا جا چکا ہے۔

انہوں نے کرد حکام کی جانب سے داعش میں شامل غیر ملکی جنگجوؤں پر مقدمے چلانے کے لیے ایک بین الاقوامی ٹربیونل کے قیام کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا انہیں اپنے ملکوں کو واپس بھیج دیا جائے گا۔

سیرین ڈیموکریٹک فورسز کی حراست میں اس وقت داعش کے تقریباً 7000 جنگجو ہیں جن میں سے ایک ہزار کا تعلق دوسرے ملکوں سے ہے جب کہ 6000 شام اور عراق کے باشندے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...