Loading...

الجزائر کے صدر بو تفلیقہ مستعفی

0

الجزائز کے علیل صدر عبد العزیز بو تفلیقہ منگل کے روز مستعفی ہوگئے۔ اس سے قبل چھ ہفتے سے اُن کی 20 برس سے جاری حکمرانی کے خلاف نوجوانوں نے زیادہ تر پرامن اجتماعی احتجاج جاری رکھا جب کہ ملک کی طاقتور فوج کی جانب سے دستبردار ہونے کے لیے دباؤ جاری تھا۔

جونہی سرکاری سرپرستی میں کام کرنے والے ذرائع ابلاغ پر 82 برس کے حکمراں کے مستعفی ہونے کا اعلان ہوا، سیکڑوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ اس سے قبل احتجاج جاری رہا جس میں عمر رسیدہ حکمراں کی حکومت سے علیحدگی کا مطالبہ کیا جاتا رہا، جس کے بارے میں متعدد افراد کہا کرتے تھے کہ اُن کا عام آدمی سے تعلق کٹ چکا ہے اور وہ ایک ایسی معیشت کی نگرانی کر رہے ہیں جس کی بنیاد خوشامد پر ہے۔

بو تفلیقہ کے حامی اختلاف رائے بند کرنے کی تلقین کیا کرتے تھے، اور الجزائر کے عوام پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ نوے کی دہائی کے سیاہ دنوں کی جانب رخ نہ کریں، جب خانہ جنگی میں 200000 افراد ہلاک ہوئے۔ اُنھوں نے یہ انتباہ بھی جاری کیا کہ منظرنامہ شام سے بھی بدتر ہوگا، جس ملک میں آٹھ برس سے تنازعہ جاری ہے۔

الجزائر میں ہونے والا احتجاج ہمسایہ ملک لیبیا سے یکسر مختلف تھا، جہاں نیٹو کی حمایت سے جاری بغاوت کے نتیجے میں معمر قذافی کا تختہ الٹا گیا تھا۔ یہ بغاوت 2011ء میں سال بھر جاری رہی، جس نے ملک کو بحران کی جانب دھکیلا۔

احتجاجی مظاہروں میں ایک شخص کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس 60 برس کے فرد کو دل کا دورہ پڑا جس کے باعث ان کا انتقال ہوا، جب کہ زیادہ تر احتجاج پرامن تھا۔ مظاہرین گھر جانے سے پہلے سڑکوں کو صاف کیا کرتے تھے۔

ایک جملے پر مشتمل بیان میں، بو تفلیقہ نے اعلان کیا کہ وہ دستبردار ہو رہے ہیں، جس بیان کو سرکاری سرپرستی میں کام کرنے والے خبر رساں ادارے، اے پی ایس نے جاری کیا، جس کے بعد ایک خط سامنے آیا۔ سال 2013 میں اُنھیں دل کا دورہ پڑا تھا، تب سے وہ عوام سے رابطے میں نہیں رہے۔

خط میں بو تفلیقہ نے کہا ہے کہ ’’میں نے یہ قدم اس لیے اٹھایا ہے چونکہ میں چاہتا ہوں کہ موجودہ تلخی ختم ہو۔ عبوری دور میں ملک کے اداروں کی جانب سے کام جاری رکھنے کے سلسلے میں، میں نے ضروری اقدامات کیے ہیں‘‘۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
Loading...
تبصرے
Loading...